Tuesday , August 21 2018
Home / ہندوستان / بہاروبنگال فرقہ پرست طاقتوں کے نشانہ پر:اسرارالحق قاسمی

بہاروبنگال فرقہ پرست طاقتوں کے نشانہ پر:اسرارالحق قاسمی

موجودہ حالات فروعی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و اتفاق کے اظہار کا ہے

ویشالی (بہار)، 29مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے حالیہ دنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور خاص طورپربہارومغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں رونما ہونے والے فسادات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات افضل پور،ضلع ویشالی پہنچنے پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بدترین صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ لوگوں میں سخت افراتفری کا ماحول پایاجارہاہے ،اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آر ایس ایس ،بی جے پی اور اس کی حامی فرقہ پرست جماعتوں نے 2019کے عام انتخابات کے پیش نظر ابھی سے ماحول خراب کرنا شروع کردیا ہے اور فرقہ وارانہ تشددکوہوادینے کے لئے بہاروبنگال کی سرزمین کو منصوبہ بند طریقہ سے ٹارگیٹ کیاجارہاہے ۔مولاناقاسمی نے کہاکہ خاص کر بہار میں بڑی نازک صورتحال پیدا ہوگئی ہے ،جے ڈی یو ،بی جے پی اتحادکی حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہے اور شہریوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی مؤثرقدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔کشن گنج کے ایم پی نے بہار کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ اس نازک موقعے پر ہوش مندی اور حکمت عملی سے کام لیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنائیں۔مولانانے الزام لگایا کہ آرایس ایس اور بی جے پی مل کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹاکران کوفرقہ وارانہ تشددوانتہاپسندی کے واقعات میں الجھانا چاہتی ہے ،تاکہ عوام کو ورغلاکر ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور دوریاں پیدا کریں اور ماضی کی طرح گندی سیاست کرکے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ مولانا نے کہاکہ امن پسند عوام کو اس کا ادراک کرتے ہوئے ان کی سازش کاشکار ہونے سے بچنے کی ضرورت ہے ۔مولانانے کہاکہ خاص کر مسلمانوں کو چاہئے کہ موجودہ حالات میں ہر قسم کے فروعی اختلافات کو بھلاکر اتحاد و اتفاق کامظاہرہ کریں اور کلمہ کی بنیاد پراس نازک وقت میں باہمی اخوت کے جذبہ کو پروان چڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت سماج دشمن عناصر لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کریں گے مگر عوام کو چاہئے کہ نہایت سوجھ بوجھ اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی طاقتوں کے فریب میں آنے سے بچیں ،ساتھ ہی سماج کے ذمہ دار افراد و رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ جس طرح ماضی میں ہمارے اسلاف نے ایسے موقعوں پر حکمت عملی کامظاہرہ کرکے فرقہ پرست طاقتوں کی سازش کوناکام بنایا ہے ، اسی طرح وہ بھی حالات پر نظر رکھتے ہوئے عوام کے مابین امن و امان اور بھائی چارہ کے قیام پر زور دیں اور تشددپھیلانے کی ہر کوشش کوناکام بنائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران رام نومی کے جلوس کو لے کرمغربی بنگال وبہارکے کئی اضلاع میں معمولی کہاسنی کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں کئی اموات کے علاوہ متعددمذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایاگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT