Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / بہار اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کا علحدہ اتحاد

بہار اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کا علحدہ اتحاد

این ڈی اے اور عظیم اتحاد سے مایوس عوام کیلئے تیسرے سیاسی متبادل کی فراہمی
نئی دہلی ۔ 7 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج کہا ہے کہ بہار کے اسمبلی انتخابات بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے اور جے ڈی یو ۔ آر جے ڈی کانگریس کے عظیم اتحاد کے درمیان دد رخی مقابلے تک محدود نہیں ہوںگے ۔ اور یہ اشارہ دیا ہے کہ اہم ہندی ریاست میں دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ سی پی  لیڈر مسٹرڈی راجہ نے بتایاکہ بہار میں انتخابی کھیل صرف این ڈی اے اور عظیم اتحاد (مہا گٹھ بندھن) کے درمیان نہیں رہے گا ۔ اور کسی کو یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ بہار میں انتخابی محاز آرائی صرف دونوں کے درمیان رہے گی ۔ انہوں نے بتایاکہ عوام کی قابل لحاظ تعداد ‘ بی جے پی کی مخالف ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ مہا گٹھ  بنددھن (عظیم اتحاد) کی طرف جائیں گے ۔ اس طرح عظیم اتحاد کی مخالفت کرنے والے بی جے پی کی طرف مائل نہیں ہوں گے ۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے بہار میں 6 ۔ بائیں بازو جماعتیں سی پی آئی ۔ سی پی آئی ایم ‘ فارروڈ بلاک ‘ آرایس پی ‘ ایس یو سی آئی (کمیونسٹ) اور سی پی آئی (ایم ایل) نے ایک آزاد متحدہ محاز (بلاک) تشکیل دیتے ہوئے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسٹر ڈی راجہ ایم پی نے بتایا کہ بائیں بازو  کا یہ نقطہ نظر ہے کہ بہار میں ایک نئے سیاسی متبادل کی ضرورت ہے جو کہ عوام دوست ایجنڈہ کے ذریعہ لیفٹ پارٹیاں فراہم کرسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام کو ایک طویل عرصہ کے بعد ایک تیسرے سیاسی متبادل کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔ اور یہ متبادل بائیں بازوں کی  جماعتیں فراہم کریں گی ۔ کیونکہ اب تک انہیں کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا تھا ۔ یہ دریافت کئے جانے پر بائیں بازو کی جماعتوں کے این سی پی یا سماج وادی پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے امکانات پائے جاتے ہیں ؟ جبکہ یہ پارٹیاں اسمبلی نشستوں کی تقسیم میں نظرانداز کر دینے پر عظیم اتحاد سے علحدہ ہوئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ لیفٹ پارٹیوں کی ریاستی یونٹس کرے گی ۔ اگر دیگر جماعتیںانتخابی مفاہمت کے لئے سنجیدہ ہیں تو وہ لیفٹ پارٹیوں کی ریاستی یونٹس سے بات چیت کرسکتی ہیں جو کہ قطعی فیصلہ کے مجاز ہیں ۔ جنتا پریوار کے ساتھ اتحاد کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بائیں بازو جماعتوں نے ماہ جولائی کے اوائل میں ہی  اس فیصلہ کا اعلان کیا تھا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں ایک متحدہ محاز (بلاک) کی شکل میں مقابلہ کیا جائیگا ۔ واضح رہے کہ بہار میں سی پی آئی نے گذشتہ سال پارلیمانی انتخابات میں جتنادل متحدہ کے ساتھ مفاہمت کی تھی ۔ لیکن  مقامی منڈل سیاست حاوی ہونے کے بعد بائیں بازو کی جماعتیں بہار میں اپنے مضبوط گڑھ میں کمزور ہوگئیں ۔ باور کیا جاتا ہیکہ بہار اسمبلی کی 243 نشتوں سے انتخابات کی تواریخ کا جاریہ ہفتہ اعلان کیا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT