Saturday , December 16 2017
Home / سیاسیات / بہار اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوںکا فیصلہ کن موقف

بہار اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوںکا فیصلہ کن موقف

انتخابی مقابلہ کیلئے مجلس کے فیصلہ سے سیکولرل محاذ کو مسلم ووٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کو فائدہ کا اندیشہ
پٹنہ ۔ 16 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مذہب، ذات پات اور علاقہ واریت کی سیاست سے بری طرح متاثرہ ریاست بہار میں آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے مجلس اتحادالمسلمین کے فیصلہ پر جے ڈی (یو) ، آر جے ڈی اور کانگریس قائدین نے سخت تنقید کی ہے اور اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مجلس کے اس فیصلہ سے راست طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ مجلس نے مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اس سے حوصلہ پاکر دیگر ریاستوں تک وسعت کی خواہاں ہے لیکن مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں چونکہ کانگریس۔این سی پی اتحاد کو شکست اور بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی جس کے لئے کانگریس قائدین اکثر مجلس کو مسلم ووٹوں کی تقسیم اور کانگریس کی شکست کا ذمہ دار دیا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مجلس نے سیمانچل علاقہ کے تحت 23 نشستوں پر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں بھاگلپور اور دیگر مسلم اقلیتی علاقوں سے بھی مجلس کے امیدوار نامزد کئے جاسکتے ہیں۔ جن کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر یہ بات یقینی سمجھی جارہی ہے کہ اس سے یقیناً سیکولر اتحاد کو نقصان اور بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ سیمانچل کے علاقوں کشن گنج ، پورنیا ، ارڑیہہ ایسے مسلم اکثریتی علاقے ہیں جہاں نتیش کمار اور لالو پرساد کے علاوہ کانگریس کا کافی اثر و رسوخ ہے

جس کے پیش نظر یہ تینوں جماعتیں متحد ہوئی ہیں۔ تاہم اس فیصلہ کن علاقہ کی اسمبلی نشستوں پر مقابلہ کرنے مجلس کے صدر اسد الدین اویسی کے اعلان پر مسلم ووٹوں کی تقسیم کے اندیشوں سے سیکولر اتحاد میں اگرچہ کھلبلی مچ گئی ہے تو دوسری طرف بی جے پی نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ سیکولر اتحاد کے قائدین کا کہناہے کہ بہار میں مجلس کا داخلہ راست طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچائے گا کیونکہ مجلسی قائدین اگرچہ صرف چند حلقوں میں اپنی مہم چلائیں گے لیکن اس کی تشہیر سے ساری ریاست بہار اور حتیٰ کہ دیگر ریاستوں میں بھی ہندوتوا ووٹس متحد ہوسکتے ہیں۔ بہاری کی سیکولر جماعتیں ریاست کے تقریباً 17 فیصد مسلم ووٹوں پر انحصار کر رہی ہیں اور بالخصوص سیمانچل سیکولر اتحاد کا طاقتور گڑھ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی 45.9 فیصد ہے لیکن ووٹوں کی تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے جس کا انحصار اکثریتی ووٹوں پر ہے۔بہار مجلس کے صدر اخترالایمان ماضی میں کشن گنج سے جے ڈی یو کے ٹکٹ پر انتخابی مقابلہ کرچکے ہیں جنہیں کشن گنج کے 4 اسمبلی حلقوں میں صرف 27,000 ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ اس علاقہ میں عظیم سیکولر اتحاد کا موقف مستحکم سمجھا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT