Sunday , December 17 2017
Home / سیاسیات / بہار اسمبلی و کونسل میں شوروغل، احتجاج سے کارروائی مفلوج

بہار اسمبلی و کونسل میں شوروغل، احتجاج سے کارروائی مفلوج

پٹنہ، 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بہار کی قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں آج حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے بھاری ہنگامے اور نعرے بازی کی وجہ سے کارروائی کو جلد ہی ملتوی کردینا پڑا۔ ڈپٹی چیئرمین ہارون رشید نے جیسے ہی اپنی نشست سنبھالی، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رجنیش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف پورنیا میں نازیبا زبان استعمال کرنے اور تصاویر پر جوتے مارنے کے لئے اکسانے والے کانگریس لیڈر و وزیر آبکاری عبدالجلیل مستان کو برخاست کرنے کی مانگ کی اور اس سلسلے میں ایوان میں بحث کے لئے دیئے گئے کام روکو تجویز کو منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمار نے کہا کہ وزیر مستان کے بیانات کی ہر گوشے سے مذمت کی جا رہی ہے۔ ایسے میں وزیر کو اب تک کابینہ سے برطرف نہیں کیا گیا ہے اور ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت وزیر آبکاری کو فوری طور پر برطرف کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے ۔ اسی دوران حکمراں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قانون ساز کونسلر سنجے سنگھ نے کہا کہ چریا سے بی جے پی کے رکن اسمبلی لال بابو گپتا نے وزیر اعلی نتیش کمار کے خلاف نازیبا تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے رکن اسمبلی کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔ سنگھ کے اتنا کہتے ہی جے ڈی یو کے سنجے سنگھ، نیرج کمار، ستیش کمار، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سبودھ کمار، سنجے پرساد، کانگریس کے دلیپ چودھری اور رام چندر بھارتی سمیت ’مہا گٹھ بندھن‘ کے دیگر ارکان ایوان کے وسط میں آ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے ۔ اسی دوران بی جے پی کے رکن بھی اپنی اپنی نشستوں کے سامنے کھڑے ہو کر وزیر آبکاری کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔حکمراں جماعت اور اپوزیشن کی نعرے بازی کی وجہ سے ایوان ہنگامہ میں ڈوب گیا۔ شوروغل کے درمیان ہی ڈپٹی چیرمین نے بی جے پی لیڈر رجنیش کمار کے خصوصی توجہ کے نوٹیفیکیشن کوکام جاری رکھنے کے آئین کے تحت نامنظور کردیا۔ ڈپٹی چیرمین کے اصرار کے باوجود فریقین کے رکن پرسکون نہیں ہوئے اور نعرے بازی کرتے رہے ۔ این ڈی اے اراکین بھی ایوان کے وسط میں پہونچ کر حکومت کے خلاف نعرے بلند کرنے لگے۔ایوان میں انتہائی شوروغل دیکھ کر انہوں نے کارروائی کو دو منٹ بعد ہی ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT