Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / بہار انتخابات ‘ مجلس کے داخلے سے سکیولر جماعتیں خوفزدہ

بہار انتخابات ‘ مجلس کے داخلے سے سکیولر جماعتیں خوفزدہ

بی جے پی کی مدد کرنے کا الزام ۔ 16 فیصد مسلم رائے دہندے انتخابی نتائج کیلئے فیصلہ کن
پٹنہ 14 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار اسمبلی انتخابات میں مجلس کے حصہ لینے کے اعلان کے بعد سکیولر جماعتوں کے خیمے میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ کانگریس ہو یا ریاست بہار کی دوسری جماعتیں جیسے جے ڈی یو یا راشٹریہ جنتادل ہو سبھی مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سکیولر ووٹوں کی تقسیم کا پیش خیمہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ مجلس نے بہار کے انتہائی پسماندہ سمجھے جانے والے اور مسلم غالب آبادی والے علاقہ سیمانچل میں ہی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ان اضلاع میں جے ڈی یو اور راشٹریہ جنتادل کو اچھی کامیابی کی امید ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ وہ ریاست میں بی جے پی کی پیشرفت کو روکنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ مجلس نے سابق رکن اسمبلی اخترالایمان کو صوبائی مجلس کا صدر نامزد کرکے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مجلس کتنی نشستوں پر مقابلہ کریگی اور کتنی نشستوں پر مجلس کو مضبوط امیدوار مل پائیں گے ۔ بہار کے انتخابی منظر نامہ میں مجلس کے داخلہ سے سکیولر جماعتوں نے جو شور شرابہ شروع کیا ہے اس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ان جماعتوں کا زیادہ تر انحصار اقلیتی ووٹوں پر ہی تھا جو تقسیم ہونے کے اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں۔ انہیں اندیشوں کے تحت سکیولر جماعتیں مجلس کے انتخابی میدان میں داخلہ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ مجلس کی سیاسی حکمت عملی ان جماعتوں کیلئے پریشانی کا باعث ہے اور یہ جماعتیں کہ کہنے لگی ہیں کہ مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں بی جے پی کا زبردست فائدہ ہوسکتا ہے

اور بہار میں بی جے پی کو اقتدار کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ ان الزامات پر مجلس کے ذرائع کا یہ ادعا ہے کہ مخالف بی جے پی جماعتیں اپنی ناکامی چھپانے کیلئے ایسا عذر پیش کر رہی ہیں جبکہ مجلس نے کافی غور خوض کے بعد بہار کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مجلس نے 2014 میں مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اسے وہاں دو نشستوں پر کامیابی ملی تھی ۔ یہاں بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ کانگریس کے سینئر قائدین نے اس وقت مجلس کی قیادت پر بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا کہ مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے سے سکیولر ووٹ تقسیم ہورہے ہیں۔ بہار میں تقریبا 16 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں ۔ وہ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو یا رام ولاس پاسوان کو ملا کرتے تھے ۔ اب پاسوان این ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیںایسے میں لالو اور نتیش کمار کو ان ووٹوں پر بھروسہ تھا لیکن مجلس کے انتخابی منظرنامہ میں داخلہ کے بعد کانگریس ‘ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے حلقوں میں کھلبلی پیدا ہوگئی ہے اور وہ اپنے ان قائدین پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ٹکٹ نہ ملنے پر اپنی وفاداریاں بدل سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT