Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / بہار سیلاب متاثرین کیلئے 10 لاکھ روپئے و ایک لاری کپڑے جمع

بہار سیلاب متاثرین کیلئے 10 لاکھ روپئے و ایک لاری کپڑے جمع

سیاست کی اپیل پر شہریان حیدرآباد کا مثبت رد عمل ۔ ابتداء میں کپڑوں و ضروری اشیا کی تقسیم ‘ جناب زاہد علی خاں
حیدرآباد۔4 اگسٹ ( سیاست نیوز ) ادارۂ سیاست کی جانب سے قارئین سیاست و شہریان حیدرآباد سے بہارکے سیلاب متاثرین کے درمیان امدادی و راحت رسانی کے کاموں کے آغاز کیلئے کی گئی اپیل پر مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح قارئین و شہریان حیدرآباد نے دل کھول کر تعاون کرنا شروع کر دیا ہے اور بہار سیلاب متاثرین کیلئے تا حال 10لاکھ روپئے اور زائد از ایک لاری کپڑے جمع ہو چکے ہیں ۔ رکن اسمبلی کوچہ دمن ضلع کشن گنج بہار جناب مجاہد عالم نے ایڈیٹر سیاست سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بہار کے غریب مسلمانوں کی بازآبادکاری کیلئے آگے آنے کی خواہش کی تھی جس کے فوری بعد ادارۂ سیاست نے اس ملی ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے ہمیشہ کی طرح اپنے قارئین و شہریوں کو صدا دی جس پر عوام نے لبیک کہتے ہوئے بہترین رد عمل ظاہر کیا اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ضلع کشن گنج کے کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں ‘ ان نشیبی علاقوں کے مکینوں کو حکومت کی جانب سے اونچے مقامات پر موجود سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کیلئے غذا ء کا انتظام کیا جا رہا ہے لیکن کئی مقامات ایسے ہیں جہاں جمع پانی کے سبب اب تک بھی رسائی ممکن نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان علاقوں میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے غذائی پیاکٹس پہنچائے جا رہے ہیں اور بعض علاقوں میں کشتیوں کے ذریعہ امداد پہنچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ مقامی ذمہ داران کے بمو جب ان علاقوں میں موجود پسماندگی کو مستقل دور کئے جانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ منصوبہ بند انداز میں ان غریبوں کیلئے امداد و راحت رسانی کے عمل کا آغاز کیا جائے تاکہ ان علاقوں میں تباہ حال شہریوں کو ضروریات زندگی کا سامان میسر آسکے۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے بتایا کہ ادارۂ سیاست کی اپیل پر فیض عام ٹرسٹ ‘ ہیلپنگ ہینڈ کے علاوہ کئی مخیر شہریوں کی جانب سے بہار سیلاب متاثرین کی امداد یقینی بنائی جا رہی ہے او راس امداد کو بہت جلد ضلع کشن گنج کے سیلاب متاثرین تک پہنچایا جائے گا۔ اس خطہ میں متاثرین کو وقتی امداد سے زیادہ بازآباد کاری کے لئے سامان ضروریات زندگی درکار ہے جس کی فراہمی کیلئے تخمینہ اندازی کی جارہی ہے۔ غذائی اجناس کی فی الفور فراہمی کا فوری طور پر سیلاب متاثرین کو کوئی فائدہ حاصل ہونے کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ مکانات زیر آب آنے اور ضروریات زندگی کا سامان بارش و سیلاب کی نذر ہوجانے کے سبب متاثرین پکوان کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ ادارۂ سیاست کے راحت کاری و باز آباد کاری کے کاموں پر عوامی اعتماد کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ادارۂ سیاست جز وقتی امداد یا تصویر کشی کی حد تک دوروں کے بجائے عملی طور پر باز آبادکاری پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ گجرات فسادات کے فوری بعد ادارۂ سیاست نے بازآبادکاری کے کاموں کا آغاز کیا اور اس کا سلسلہ برسوں تک جاری رہا اور آج بھی احمدآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں فساد متاثرین کیلئے تعمیر کردہ مکانات موجود ہیں جہاں فساد متاثرین کی باز آبادکاری عمل میں لائی گئی۔ مظفر نگر فساد متاثرین کی باز آبادکاری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور فساد متاثرین کے بچوں کی اسکولی و عصری تعلیم کا انتظام کیا جا رہا ہے اسی طرح کشمیر و مقبوضہ کشمیر میں زلزلہ کی تباہی کے بعد ادارۂ سیاست نے صرف امداد کی تقسیم کے ذریعہ تصویری نمائش نہیں کی بلکہ ضرورت کو محسوس کرکے مقامی ذمہ داران سے مشاورت کے بعد دواخانہ کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ بہار سیلاب متاثرین کیلئے بھی ادارۂ سیاست کی جانب سے منظم باز آبادکاری کے منصوبہ پر غور کیا جا رہا ہے اور اس پر مقامی ذمہ داروں سے مشاورت کی جائیگی تاکہ کشن گنج کی بنیادی ضرورت کو پورا کیا جا سکے اور علاقہ کی پسماندگی کو دور کرنے میں یہ اقدامات معاون ثابت ہوں۔ ایڈیٹر سیاست نے بتایا کہ ابتداء میں ایک لاری کپڑے اور فوری ضروری اشیاء کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی اور بعد ازاں مقامی ذمہ داران سے مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔ سیلاب متاثرین تک امداد راست ذمہ داران سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کے ذمہ داران کی نگرانی میں پہنچائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT