Wednesday , December 19 2018

بہار عہدیداروں کیلئے منظوری حاصل کرنا ضروری

نئی دہلی 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی حکومت کا فیصلہ کہ پانچ پولیس عہدیداروں کو جو بہار کے ہیں انسداد کرپشن شاخ میں تعینات کیا جائے گا، تازہ تنازعہ کی وجہ بن گیا ہے۔ لیفننٹ گورنر دہلی نے کہا کہ اس کیلئے عام آدمی پارٹی حکومت کو پیشگی منظوری حاصل کرنی ہوگی ۔ تین انسپکٹر اور دو سب انسپکٹر جن کا تعلق بہار پولیس سے ہے حکومت دہلی کی

نئی دہلی 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی حکومت کا فیصلہ کہ پانچ پولیس عہدیداروں کو جو بہار کے ہیں انسداد کرپشن شاخ میں تعینات کیا جائے گا، تازہ تنازعہ کی وجہ بن گیا ہے۔ لیفننٹ گورنر دہلی نے کہا کہ اس کیلئے عام آدمی پارٹی حکومت کو پیشگی منظوری حاصل کرنی ہوگی ۔ تین انسپکٹر اور دو سب انسپکٹر جن کا تعلق بہار پولیس سے ہے حکومت دہلی کی انسداد کرپشن شاخ میں رجوع ہوچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک درخواست حکومت دہلی نے روانہ کی تھی یہ تقررات ایک ایسے وقت کئے گئے ہیں جب کہ کجریوال کی حکومت اور لیفننٹ گورنر پہلے ہی ایک تلخ جنگ میں مصروف ہیں۔ اس اقدام پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لیفننٹ گورنر کے دفتر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو دہلی گورنر کے اختیارات ‘کنٹرول اور نگرانی میں کام کرتا ہے ۔

یہ ایک ایسا موقف ہے جس کی وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے ہی وضاحت کی جاچکی ہے ۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیفننٹ گورنر نے تاحال بہار پولیس ارکان عملہ کی دہلی پولیس سے باہر عارضی تعیناتی کی کوئی تجویز وصول نہیں کی ہے۔ لیفننٹ گورنر کے دفتر نے کہا کہ بہار پولیس عہدیداروں کی ایک درخواست دہلی حکومت کی جانب سے حال ہی میں روانہ کی گئی ہے جس کے بعد پانچ پولیس عہدیداروں کو روانہ کیا گیا ۔ عام آدمی پارٹی حکومت اور لیفننٹ گورنر برسر عام اپنے اپنے اختیارات کے بارے میں تنازعہ میں مصروف ہیں ۔ مرکز نے 21 مئی کو لیفننٹ گورنر کی تائید کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا ۔ بی جے پی نے آج حکومت دہلی اور بہار کو ارکان عملہ کی انسداد کرپشن شاخ میں عارضی تعیناتی کیلئے روانہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتیش کمار حکومت کا ایک مذاق ہے جو خود اپنے طور پر بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہی ہے ۔

کانگریس نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیفننٹ گورنر کے علاوہ اروند کجریوال حکومت صورتحال کو ’’تمام تینوں مکانوں کو تعاون سے متاثر کرنے کا کلاسیکی واقعہ بنا رہے ہیں‘‘۔ کانگریس نے کہا کہ دہلی کے عوام کی کوئی ’’آواز‘‘ نہیں ہے اور وہ صرف مصائب کا شکار ہیں کیونکہ ’’کشیدگی میںاضافہ ‘‘ ہوتا جارہا ہے۔ عہدیداروں کو روانہ کرنے کا فیصلہ بہار حکومت کی جانب سے اپنی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش ہے کیونکہ وہ خود اپنی ریاست میں صورتحال بہتر بنانے سے قاصر رہی ہے۔ بی جے پی نے جو قبل ازیں بہار کی جے ڈی ( یو ) کے ساتھ تلخیوں کی وجہ سے جون 2013 میں 17 سالہ اتحاد کے بعد علحدگی اختیار کرچکی ہے کہا کہ موجودہ بہار حکومت نظم و قانون کی صورتحال ریاست میں برقرار نہیں رکھ سکی جبکہ بہار حکومت میں عوام جہاں این ڈی اے برسر اقتدار ہے ملازمتیں فراہم نہیں کرسکے اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے قاصر رہے ۔ لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی ترک کردی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT