Friday , February 23 2018
Home / ہندوستان / بہار میں اگریکلچر کالج اور سائنس سٹی عبدالکلام سے موسوم

بہار میں اگریکلچر کالج اور سائنس سٹی عبدالکلام سے موسوم

ریاستی کابینہ کے اجلاس میں سابق صدر کو بھرپور خراج عقیدت
پٹنہ ۔ 30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مقبول عام صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی آخری رسومات کے موقع پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت بہار نے آج کشن گنج میں اگریکلچر کالج اور مجوزہ سائنس سٹی کو ان کے نام سے موسوم کردیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف منسٹر نتیش کمار کی زیرصدارت ریاستی کابینہ کے مختصر اجلاس میں کیا گیا جس میں متفرق 36 تجاویز منظور کئے گئے ہیں۔ پرنسپل سکریٹری کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ شیشر کمار سنہا نے بتایا کہ کابینہ نے اگریکلچر کالج کشن گنج کو ڈاکٹر عبدالکلام اگریکلچر کالج و دارالحکومت میں مجوزہ سائنس سٹی کو ڈاکٹر عبدالکلام سائنس سٹی سے موسوم کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے عبدالکلام کو عظیم شخصیت کی حیثیت سے یاد کیا جنہوں نے سائنس اور روحانیت کی تبلیغ کی تھی اور ایک معلم، سائنسدان اسکالر کی حیثیت سے عوام کے دلوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ بہار کابینہ نے اپنے خراج عقیدت میں کہا کہ عبدالکلام کی ریاست سے وابستگی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے سال 2006ء میں بہار اسمبلی اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے ریاست کی ترقی کیلئے 10 نکاتی تجاویز پیش کئے تھے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT