Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / بہار میں بدترین شکست کے باوجود بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست برقرار

بہار میں بدترین شکست کے باوجود بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست برقرار

ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی ‘ یوم پیدائش تقاریب پر تشدد بڑھکانے کا الزام ‘ کانگریس کا ردعمل
نئی دہلی۔/12نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں بدترین شکست کے باوجود ملک بھر میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلارہی ہے۔ کانگریس نے آج حکمران جماعت کو تاریخی حقائق مسخ کرتے ہوئے کرناٹک میں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب کے خلاف تشدد بھڑکانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجیوالا نے چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا سے استعفی کیلئے بی جے پی کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا رویہ’’ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ جیسا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں شرمناک شکست کے باوجود بی جے پی ملک بھر میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے سے باز نہیں آئی۔ بی جے پی پر حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے یہ ادعا کیا کہ کرناٹک میںکوئی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہورہا تھا بلکہ انڈور ہال میں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب منائی جارہی تھیں۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ان تقاریب کو درہم برہم کرنے کی کوشش پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا جس کے دوران وی ایچ پی کا ایک کارکن کٹاریا بھاگتے ہوئے ایک ڈرین (نالے ) میں گرگیا اور اس کا سر زخمی ہونے سے فوت ہوگیا۔ مسٹر سرجیوا نے بتایا کہ ٹیپو سلطان تقاریب سے بعض لوگ واپس جارہے تھے کہ اشرار نے فائرنگ کردی جس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کو چاہیئے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششوں پر قدغن لگائیں اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے مطالبہ کیا کہ تشدد اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی میں ملوث تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیپو سلطان کے خلاف بی جے پی برسہا برس سے گمراہ کن مہم چلارہی ہے۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ سلطان اور سلطنتیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی طرز حکمرانی اچھے اور برے افعال کا مرکب ہوتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے دریافت کیا کہ آیا وہ جانتی ہے کہ ٹیپو سلطان نے مندروں کے شہر سری رنگا پٹنم کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور منادر کو گرانٹس جاری کئے اور گرجا گھر بھی تعمیر کروائے تھے اور برطانوی حکومت کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان نچھاور کردی۔سماجی میڈیا پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر تاپ سمہا کو موت کی دھمکی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں اضافی سیکوریٹی فراہم کی ہے اور فیس بک استعمال کنندگان کی تفصیلات حاصل کرکے تحقیقات کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ کرناٹک میں بی جے پی پھر اقتدار میں آنے سیاسی ماحول کو گرما نا چاہتی ہے جس کیلئے ٹیپو سلطان کو نشانہ بنارہی ہے۔ قبل ازیں پارٹی نے اوما بھارتی کی قیادت میں ایک عید گاہ کو متنازعہ بناکر مہم چلائی تھی جس کے نتیجہ میں اقتدار تک رسائی حاصل ہوگئی تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT