Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / بہار میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو شکست فاش

بہار میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو شکست فاش

NEW DELHI, NOV 14 (UNI):-Congress President Sonia Gandhi(C) Former Prime Minister Manmohan Singh (2nd R)with other party leaders during the culmination of 125th Birth Anniversary Celebrations of Pandit Jawaharlal Nehru in New Delhi on Saturday. UNI PHOTO-84U

فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر ترقی کا نقاب ، وزیراعظم مودی آمریت پسند لیڈر ، نہرو تقاریب سے سونیا گاندھی ، منموہن سنگھ ، راہول کا خطاب
نئی دہلی ،14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی کو آج صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی نے تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ الزام عائد کیا کہ وہ آمریت پسند لیڈر بن کر اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو ترقی کا نقاب لگارہے ہیں۔ انہوں نے دادری (اترپردیش) میں ایک مسلم شخص کی ہلاکت ‘ ہریانہ میں دلت بچوں کو زندہ جلادینے کے واقعات اور بڑھتی ہوئی بے عملی پر حکمران جماعت کو ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ اگر کوئی شخص اختلاف رائے کرتا ہے تو اسے غدار قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ ہماری جمہوریت اور نہ ہی حب الوطنی کا طریقہ کار ہے جو کہ آمریت کی ایک گھناؤنی شکل ہے ۔ صدر کانگریس نے کہا کہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ بعض افراد دنیا کے سامنے اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی پردہ پوشی کیلئے ترقی کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر آج ترقی کو جادو منتر کے طور پر استعمال کررہے ہیں

لیکن جدید ہندوستان کے معمار پنڈت نہرو سے تھوڑا سا بھی سبق حاصل نہیں کررہے ہیں ‘ جنہوں نے حقیقت میں تعمیر اور ترقی کی بنیاد ڈالی تھی ۔ وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ بیرونی ممالک میں تو وہ ( مودی) ہندوستان میں رواداری اور حکومت کی غیر جانبدارای کا چرچہ کرتے ہیں لیکن ملک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پر خاموشی اختیار کرجاتے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہیکہ ہریانہ میں دلت بچوں کو زندہ جلا دینے اور مذہب کے نام پر دادری میں قتل کے واقعہ پر وزیراعظم نے چپ سادھ رکھی تھی ۔ مودی ‘ بی جے پی اور آر ایس ایس پر آمرانہ روش کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے بتایا کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتیں متعدد مسائل اٹھاتی ہیں لیکن مودی اور نہ ہی حکومت کوئی جواب دیتے ہیں جبکہ پنڈت نہرو اپنے مخالفین کا بھی احترام کرتے تھے ۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے الزام عائد کیا  کہ عدم رواداری کا ماحول بنانے کیلئے مختلف مذہبی ایقانات رکھنے والوں پر عمداً حملے کئے جارہے ہیں اور کہا کہ نریندرمودی خود ترقی کے راستے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں ۔ پہلی مرتبہ جارحانہ تیور ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے ہندی زبان میں کہا کہ ’’ ہمارے وزیراعظم ترقی کی بات کرتے ہیں ‘ جہاںجاتے ہیں ترقی کے نام پر اپنی (سیاسی) دکانداری چمکانے والی باتیں کرتے ہیں ‘‘، جس پر شرکاء تقریب نے تالیاں بجاکر خیرمقدم کیا۔ یہ تقریب اولین وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کے 125 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد کی گئی جبکہ حالیہ بہار اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد کی شاندار کامیابی سے حوصلہ پاکر کانگریس لیڈروں نے وزیراعظم  مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بہار میں کامیابی پر کانگریس کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد کے ساتھ آپ کے اتحاد نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو شکست فاش دیدی ہے اور اب ہم یہی تجربہ ملک بھر میں آزمائیں گے ۔کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے آر ایس ایس کا نام لئے بغیر کہا کہ اس تنظیم نے ایک اور گروپ کے ساتھ 1942ء میں مہاتما گاندھی کی ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ کی مخالفت کی تھی جبکہ یہ گروپ (مسلم لیگ) تقسیم ہند کا ذمہ دار بنا اور یہ خود ساختہ قوم پرست عناصر اب دوسروں کو حب الوطنی کا سرٹفکیٹ دینے لگے ہیں۔ جواہر لال نہرو کی ایک سال طویل 125 ویں یوم پیدائش تقاریب کے اختتام پر اپنے خطاب میں صدر کانگریس نے کہا کہ پہلے وزیراعظم کا یہ ایقان تھا کہ بلاخوف و خطر ہر ایک شہری اپنا نقطہ نظر اور اپنے من کی بات پیش کرے جبکہ یہ نظریہ اب ریڈیو نشریات تک محدود ہوگیا ہے۔ صدر کانگریس یہ  ریمارک ظاہر طور پر وزیراعظم مودی کے ’’ریڈیو پروگرام‘‘ کی طرف اشارہ ہے، جس میں وہ مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT