بہار میں تشکیل حکومت کیلئے نتیش کمار کا دعویٰ

پٹنہ ۔ /8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بہار جنتادل (یو) میں اقتدار کی جدوجہد اب اسمبلی میں ایک محاذ آرائی کی شکل اختیار کرنے جارہی ہے کیونکہ نتیش کمار کل تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کی تیاری کرچکے ہیں اور گورنر کے روبرو ارکان اسمبلی کی پریڈ کرائیں گے جبکہ چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے عددی طاقت کے مظاہرے سے قبل استعفیٰ کا امکان مسترد کردیا ہ

پٹنہ ۔ /8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بہار جنتادل (یو) میں اقتدار کی جدوجہد اب اسمبلی میں ایک محاذ آرائی کی شکل اختیار کرنے جارہی ہے کیونکہ نتیش کمار کل تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کی تیاری کرچکے ہیں اور گورنر کے روبرو ارکان اسمبلی کی پریڈ کرائیں گے جبکہ چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے عددی طاقت کے مظاہرے سے قبل استعفیٰ کا امکان مسترد کردیا ہے ۔ نتیش کمار کل 1.30 بجے دن گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی سے ملاقات کریں گے ۔ راج بھون کے ذرائع نے یہ بات اس وقت کہی جبکہ جنتادل (یو) نے آر جے ڈی ، کانگریس ، سی پی آئی اور ایک آزاد رکن کی تائید پر مبنی مکتوب حوالے کیا ۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ 243 رکنی ایوان میں نتیش کمار کو 130 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ بہار اسپیکر اودئے نارائن چودھری نے بھی نتیش کمار کو جنتادل (یو) لیجسلیچر پارٹی کا نیا قائد تسلیم کرلیا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ مانجھی نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے چنانچہ انہیں تبدیل کردیا گیا ہے ۔

مانجھی آج نیتی ایوگ اجلاس کے سلسلے میں دہلی میں موجود تھے ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی جبکہ یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ عددی طاقت کے مظاہرے میں بی جے پی اہم رول ادا کرسکتی ہے ۔ اس دوران گورنر نے نتیش کمار کے وفادار 20 کابینی وزراء کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے ۔ ان تمام نے کل اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا ۔ گورنر کے پی آر او ایس کے پاٹھک نے بتایا کہ چیف منسٹر کے مشورہ پر گورنر نے یہ اقدام کیا ہے ۔ مانجھی نے کہا کہ وہ اب بھی چیف منسٹر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسی وقت مستعفی ہوں گے جب ایوان میں اکثریت ثابت کرنے میں ناکام ہو ۔ مانجھی جو ایک مہادلت ہے کہا کہ بی جے پی اگر ان کی تائید کرتی ہے تو اس کا خیرمقدم کریں گے لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران سیاست پر تبادلہ خیال نہیں ہوگا ۔

انہوں نے صرف اتنا کہا کہ موجودہ صورتحال میں بہار کی مدد کی جائے تاکہ یہاں ترقی یقینی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی ایک ایسا مقام ہے جہاں اکثریت ثابت کی جاسکتی ہے ۔ وہ پہلے ہی گورنر کو مکتوب روانہ کرچکے ہیں کہ اسمبلی کا بجٹ سیشن طلب کیا جائے ۔ وہ /19 یا /20 فبروری کو اکثریت ثابت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نتیش کمار کے پاس درکار تائید موجود ہے تو پھر وہ فکر مند کیوں ہے ۔ اگر وہ ثابت کردیں کہ مجھے اکثریت حاصل نہیں تو میں مستعفیٰ ہوجاؤں گا ۔ انہوں نے نتیش زیرقیادت گروپ کے اقدامات کو غیرقانونی اور غیردستور ی قرار دیا ۔ مانجھی نے دلت کارڈ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہ فیصلہ کریں کہ وہ ایک غریب اور مہادلت کی تائید کریں گی ۔

انہوں نے عنقریب کابینہ میں توسیع کا بھی اعلان کیا ۔ مانجھی نے کہا کہ سابق چیف منسٹر نتیش کمار اس وقت تک خوش تھے جب تک وہ ’’ربراسٹامپ‘‘ رہے لیکن جب انہوں نے (مانجھی) عزت نفس کا لحاظ رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر کام کرنا شروع کیا اس وقت سے نتیش نے ان کی برطرفی کا منصوبہ بنانا شروع کیا ۔ مانجھی نے کہا کہ نتیش کمار کو وہ جانتے ہیں وہ ایک اچھے شخص ہے لیکن وہ اقتدار کے بغیر رہ نہیں سکتے ۔ نتیش نے یہ تصور کرلیا تھا کہ وہ ایک مہادلت ہیں اور زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے ۔ اس کے علاوہ اگر ان جیسے لوگ آواز اٹھانے کی کوشش کریں تو انہیں ہلاک یا نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ لیکن سماجی بہتری میں انہوں نے نتیش کمار کے مقابلے ایک بڑی خط فاصل قائم کردی تھی جس پر نتیش کمار ان کے دشمن بن گئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT