Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / بہار میں تیسرے متبادل کیلئے این سی پی کی منصوبہ بندی

بہار میں تیسرے متبادل کیلئے این سی پی کی منصوبہ بندی

عظیم اتحاد سے ترک تعلق کے بعد بائیں بازو کی پارٹیوں سے اتحاد، این سی پی قائد طارق انور کا بیان

نئی دہلی 23 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) عظیم اتحاد سے مختصر سی دوری کے بعد این سی پی قائد طارق انور نے منصوبہ بنایا ہے کہ بہار میں جہاں عنقریب اسمبلی انتخابات مقرر ہیں، عوام کے سامنے تیسرا متبادل پیش کیا جائے اور اس کے لئے بائیں بازو کی پارٹیوں سے اتحاد کیا جائے۔ طارق انور جنھوں نے بائیں بازو کے قائدین کے ساتھ ابتدائی بات چیت کی ہے، پی ٹی آئی سے کہاکہ اگر یہ اتحاد کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک ایسے وقت جبکہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں اور موقع پرست طاقتوں کے درمیان پنجہ آزمائی ہورہی ہے، تیسرا متبادل ناقابل فراموش ہوگا۔ سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ وہ چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کا دشمن نمبر ایک بی جے پی ہوگی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی کے انتخابی میدان میں اُترنے سے نتائج پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ بہار میں قابل لحاظ مسلم آبادی ہے وہ یقینا ووٹ کاٹ سکتے ہیں۔ جب فرقہ پرست مسلم قیادت ہو تو یقینا مسلم اپنا اثر مرتب کرے گی۔ بہار میں آبادی کا 18 فیصد مسلمان ہیں۔ یہ ایسی اکثریت ہے جو لالو پرساد کی آر جے ڈی کے ساتھ تھی جنھیں مسلم ۔ یادو اتحاد کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ تھا۔ بعدازاں مسلمانوں نے نتیش کمار کی بھی تائید کی تھی۔ طارق انور نے کہاکہ آئندہ انتخابات آسان نہیں ہوں گے۔ چیف منسٹر نتیش کمار کی زیرقیادت عظیم اتحاد نے اس حقیقت کا اندازہ لگا لیا ہے کیونکہ وہ 10 سال طویل مخالف برسر اقتدار پارٹی جذبات کا سامنا کررہی ہے۔ نتیش زیرقیادت اتحاد کی جانب سے نظرانداز کئے جانے پر جذبات مجروح ہوجانے کے احساس کے تحت طارق انور نے کہاکہ جے ڈی یو ۔ آر جے ڈی اتحاد صرف 3 نشستیں این سی پی کو دینے کے لئے تیار تھی۔ یہ میرے لئے کاری ضرب تھی۔ انھوں نے کہاکہ نتیش کمار اور لالو پرساد کی کارروائی سے عوام کے سیکولر ووٹ تقسیم ہوجائیں گے جنھیں عظیم اتحاد اور بی جے پی دونوں میں ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ سب تیسرے متبادل کی تائید کرسکتے ہیں۔
طارق انور نے دعویٰ کیاکہ عظیم اتحاد اپنی پارٹی کو انتخابی تیاری کی ہدایت دے کر یہ اشارہ دے چکا ہے کہ مسلم قیادت اُن کے خلاف اظہار خیال کررہی ہے۔ طویل عرصہ سے وہ یہ کہتے آرہے تھے کہ این سی پی اور طارق انور عظیم اتحاد کا اٹوٹ حصہ ہوں گے۔اچانک مجھ سے مشورہ کئے بغیر انھوں نے مجھ پر کاری ضرب لگائی، یہ سیاسی بددیانتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT