Wednesday , January 24 2018
Home / ہندوستان / بہار میں حکمراں جنتا دل (یو)اور حلیف آر جے ڈی کے درمیان دراڑ یں

بہار میں حکمراں جنتا دل (یو)اور حلیف آر جے ڈی کے درمیان دراڑ یں

بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج سے جنتا پریوار کا انضمام مشکوک

بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج سے جنتا پریوار کا انضمام مشکوک
پٹنہ ۔ 20 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جنتا پریوار انضمام کے اعلان کے چند دنوں میں ہی اس کی دو اہم حلیف جماعتوں جنتا دل (متحدہ) اور راشٹریہ جنتا دل میں دراڑیں ابھر کر سامنے آگئی ہیں ۔ جب اسمبلی میں مختلف مسائل سے آر جے ڈی نے نتیش کمار حکومت کو گھیرنیکی کوشش کی۔ ایوان میں وقفہ صفر کے دوران آر جے ڈی اور جنتا دل متحدہ حکومت کے درمیان اختلافاق اس وقت منظر عام پر آگئے جب آر جے ڈی ارکان نے حکومت کے خلاف بطور احتجاج ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ اپوزیشن بی جے پی ارکان نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آر جے ڈی ارکان کی حمایت میں اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوگئے اور حکومت مخالف نعرے بلند کرنے لگے۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر نند کشور یادو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آر جے ڈی اور جنتا دل متحدہ کے درمیان سیاسی کرتب بازی یہ ثابت ہوئی ہے کہ نتیش کمار حکومت کا زوال یقینی ہے جنہوں نے کل پرجا پتی سماج ریالی میں شہ نشین پر لالو پرساد کے ساتھ بیٹھنے سے گریز کیا تھا۔ آر جے ڈی رکن اسمبلی بھائی بریندر نے ضلع بھوجپور کے حلقہ اسمبلی جگدیش پور میں 22 مارچ کو پیش آئے ایک شخص کاشی ناتھ یادو کے قتل کا معاملہ اٹھایا اور اس کیس میں عاجلانہ یکسوئی کا مطالبہ کیا اور اسی مسئلہ پر جب حکومت کی جانب سے کسی نے بھی جواب نہیں دیا اور انچارج وزیر داخلہ وجئے چودھری ایوان سے چلے گئے تھے ۔ آر جے ڈی ارکان برہم ہوگئے اور مقننہ پارٹی قائد عبدالباری صدیقی نے بہ آواز بلند کہا کہ یہ حکومت گونگی اور بہری ہوگئی ہے جس کے ساتھ ہی آر جے ڈی ارکان قتل کیس کی عاجلانہ عاجلانہ سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔ بی جے پی ارکان نے احتجاجی ارکان کی تائید کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بلند کئے ۔ ایوان میں کئی مواقع پر آر جے ڈی اور جنتا دل (متحدہ) کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا ۔ نیشکر کے کاشتکاروں کو بھاری بقایاجات کی ادائیگی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے آر جے ڈی رکن راگھویندر پرتاپ سنگھ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وقفہ صفر کے دوران جب سینئر وزیر بیجندر پرساد یادو نے مختلف مسائل پر حکومت کے جواب کیلئے مہلت طلب کی تھی۔ صدیقی نے کہا کہ حکومت جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔تاہم آر جے ڈی اور جنتادل متحدہ ارکان کے درمیان تلخ و تند مباحث سے یہ اشارہ ملتا ہیکہ حلیف جماعتوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔ آر جے ڈی وہپ بھائی بریندر نے کہا کہ دراصل بعض وزراء سوالات کا جواب ٹال دینا چاہتے ہیں جس پر ہمیں برہم ہونا پڑا ۔ ایک اور سینئر آر جے ڈی رکن اور سابق وزری راگھویندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ عام آدمی کے مسائل پر حکومت کو فرار ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ سیاسی حلقوں میں آج کی تلخ و تند بحث کو اس پس منظر میں دیکھا جارہا ہیکہ چیف منسٹر نتیش کمار نے گاندھی میدان میں کل منعقدہ پرجا پتی ریالی میں شرکت نہیں کی تھی جو جنتا پریوار کی 6 جماعتوں کے انضمام کے اعلان کے بعد لالو پرساد یادو نے پہلا مرتبہ منعقد کی تھی ۔ چیف منسٹر کل پنپن میں ایک اور تقریب میں شریک تھے تاہم جنتا دل متحدہ کے ریاستی صدر بی نارائن سنگھ اور ایم پی مسٹر آر سی پی سنگھ لالو پرساد کے ساتھ شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT