Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بہار میں سماج وادی پارٹی زیر قیادت تیسرا متبادل محاذ

بہار میں سماج وادی پارٹی زیر قیادت تیسرا متبادل محاذ

این سی پی ‘ سماج وادی جنتادل ڈیموکریٹک اور نیشنل پیپلز پارٹی شامل ‘ کوآرڈینیشن کمیٹی کا آج اجلاس

لکھنو۔17ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام )  سماج وادی پارٹی نے آج بہار اسمبلی انتخابات سماج وادی جنتا دل ۔ ڈیموکریٹک ‘ این سی پی اور نیشنل پیپلز پارٹی ( این پی پی ) کے ساتھ ملکر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ یہ بہار میں این ڈی اے اور عظیم تر اتحاد کے مقابلہ تیسرا متبادل ثابت ہوگا ۔ سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے دیگر پارٹی قائدین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سابق مرکزی وزیر دیویندر پرساد یادو کی زیر قیادت ایس جے ڈی ۔ ڈی اور این سی پی و سابق لوک سبھا اسپیکر پی اے سنگما کی زیر قیادت این پی پی کے ساتھ ملکر مقابلہ کریں گے اور یہ بہار میں تیسرا متبادل محاذ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے محاذ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کل پٹنہ میں منعقد ہورہا ہے جس میں اسمبلی انتخابات میں پہلے مرحلے کیلئے امیدواروں کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے ۔ بہار میں 12اکٹوبر کو پہلے مرحلے  میں 49نشستوں کیلئے رائے دہی ہوگی ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 23ستمبر ہے ۔

سابق راشٹریہ جنتادل لیڈر رگھوناتھ جھا جنہوں نے رسمی طور پر آج سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ‘ کہا کہ انہوں نے لالو پرساد یادو کی پارٹی سے اس لئے علحدگی اختیار کرلی کیونکہ وہاں انہیں عزت و مقام نہیں دیا جارہا تھا ۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی میں شامل کرنے پر ملائم سنگھ یادو سے اظہار تشکر کیا ۔تیسرے محاذ کے لئے چیف منسٹر امیدوار کے بارے میں پوچھے جانے پر رام گوپال یادو نے کہا کہ ہنوز اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ لالو پرساد اور نتیش کمار کے عظیم تر اتحاد سے علحدگی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کیلئے اس اتحاد میں ضم ہوکر اپنی پہچان کھودینا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش تھی ۔ اگر ہم اس اتحاد میں شامل ہوتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ہماری علامت سے محروم ہوجاتے بلکہ ہماری پارٹی کا نام و نشان بھی ختم ہوجاتا ۔ حریف جماعتوں کے ان الزامات پر کہ سماج وادی پارٹی اس طرح کے اقدام کے ذریعہ اپوزیشن کے ووٹس تقسیم کررہی ہے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا ۔

رام گوپال یادو نے کہا کہ انہیں الزامات عائد کرنے دیجئے ۔ سیاست میں ایسے الزامات عائد کئے جاتے رہتے ہیں ۔ آج رگھوناتھ جھا کے علاوہ جنتادل ( یو) کے ایم ایل سی منّا سنگھ نے بھی سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ بہار میں اسمبلی انتخابات 12اکٹوبر اور 5نومبر کے درمیان پانچ مراحل میں منعقد ہورہے ہیں ۔ یہ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے کی مقبولیت اور دوسری طرف چیف منسٹر نتیش کمار کی قیادت کیلئے آزمائش ہے ۔ نتیش کمار نے آر جے ڈی اورکانگریس کے ساتھ ملکر عظیم تر اتحاد قائم کیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی بھی اسی اتحاد کا حصہ تھی لیکن نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر اس نے علحدگی اختیار کرلی۔ بہار کی 243 رکنی اسمبلی کیلئے انتخابات 12 ‘ 16 ‘ 28 اکٹوبر اور یکم و 5نومبر کو ہوں گے ۔ ووٹوں کی گنتی 8نومبر کو کی جائے گی ۔ انتخابات کے سلسلہ میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو بھی قطعیت دی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT