Thursday , November 23 2017
Home / سیاسیات / بہار میں شکست سے مغربی بنگال میں بی جے پی کے حوصلے پست

بہار میں شکست سے مغربی بنگال میں بی جے پی کے حوصلے پست

کارکنوں میں مایوسی پر کولکتہ میں پارٹی صدر امیت شاہ کی ریالی منسوخ
کولکتہ ۔/17نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بدترین شکست کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ پارٹی صدر امیت شاہ کا دورہ کولکتہ منسوخ کیا جاسکتا ہے جہاں پر وہ ایک عظیم الشان ریالی سے مخاطب کرنے والے تھے تاہم بی جے پی کی ریاستی قیادت کا دعویٰ ہے کہ انتخابی شکست کے اثرات عارضی نوعیت کے ہیں اور توقع ہے کہ پارٹی کارکنوں کے حوصلے بہت جلد بحال ہوجائیں گے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر راہول سنہا نے بتایا کہ بے شک بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اثر بنگال میں بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن صدمہ عارضی نوعیت کا ہے۔ اگر ہم انتخابات جیت بھی جاتے تو اس کے اثرات بھی موقتی ہوتے۔ بہار اور بنگال کی سیاست دو علحدہ علحدہ چائے کی پیالیاں ہیں۔ بہار کی سیاست ذات پات پر مبنی ہے جبکہ بنگال میں ترقی کی سیاست بمقابلہ ٹی ایم سی کی دہشت گردی پر مرکوز ہے۔ واضح رہے کہ کولکتہ میں صدر بی جے پی امیت شاہ کی ریالی 30نومبر کو منعقد ہونے والی تھی جمعرات کے دن اس ریالی کو منسوخ کردینے کا اچانک اعلان کردیا گیا اور بتایا گیا کہ اس دن ایک احتجاجی مارچ ( مظاہرہ ) کا اہتمام کیا جائے گا جس میں سدھارتھ ناتھ سنگھ اور کیلاش وجئے ورگ شریک ہوگئے۔ بی جے پی کے نیشنل سکریٹری سنگھ نے یہ اتفاق کیا کہ پڑوسی ریاست میں جیت یا شکست کے اثرات عارضی نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ اگرچیکہ ہم بہار میں 2005ء سے کامیابی حاصل کررہے ہیں لیکن بنگال میں اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا اور اب ہم کس طرح تفریق کرسکتے ہیں تاہم ریاستی صدر مسٹر راہول سنہا نے 28اکٹوبر کو متضاد موقف پیش کیا اور یہ ادعا کیا کہ بی جے پی، بہار الیکشن کے بعد مغربی بنگال میں توجہ مرکوز کرے گی۔ بی جے پی قیادت نے کہا تھا کہ بہار اسمبلی میں کامیابی کے بعد بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس کا تعاقب کرے گی۔

تاہم ایک سینئر بی جے پی لیڈر جوکہ آر ایس ایس کے قریب ہیں اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ بنگال میں پارٹی مکمل بے جان ہوگئی ہے جس کے لئے متعدد عناصر کار فرما ہیں لیکن مرکزی قیادت فی الحال بنگال میں چھلانگ لگانے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں بی جے پی قائدین کا یہ احساس ہے کہ دیرینہ وفادار کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے لیڈروں کو تنظیمی عہدے دینے پر بھی ناراضگی پیدا ہوگئی ہے جبکہ یہ لیڈرس 2014ء کے بعد پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ پارٹی قیادت کا یہ بھی تاثر ہے کہ اگر بہار کے نتائج بی جے پی کے حق میں آئے تو 2016کے انتخابات کی تیاری کیلئے آسانی ہوگی۔ بی جے پی مغربی بنگال میں کبھی انتہائی کمزور جماعت تھی لیکن 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں 18فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنے وجود کو منوالیا تھا اور سیاسی پنڈتوں نے اسے بہترین مظاہرہ قرار دیا تھا۔ تاہم صرف ایک سال میں پارٹی میں زوال کے آثار دکھائی دینے لگے جہاں پر قیادت کا نقصان، داخلی اختلافات، ترنمول کانگریس کے ساتھ ساز باز کے الزامات سنائی دیئے جس کے باعث عام کارکنوں میں مایوسی چھاگئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT