Tuesday , December 19 2017
Home / Top Stories / بہار میں ’’ پلٹو رام ‘‘کی اب کچھ نہیں چلتی، بی جے پی حاوی

بہار میں ’’ پلٹو رام ‘‘کی اب کچھ نہیں چلتی، بی جے پی حاوی

نتیش کمار حکمرانی میں عملاً بے اثر ہوگئے، 8نومبر کو احتجاج کا اعلان: لالوپرساد
پٹنہ۔/24اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سربراہ آر جے ڈی لالو پرساد نے آج چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار مخلوط میں ان کا وجود عملاً ’ عدم وجود‘ کی مانند ہوگیا ہے اور تمام فیصلے بی جے پی کررہی ہے۔ لالو نے یہ بات میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی اور اس موقع پر انہوں نے کانگریس، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ نوٹ بندی کے خلاف 8 نومبر کو ان کے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے ریلیوں کا اہتمام کریں، جو وہی دن ہے جب گزشتہ سال اعلیٰ قدر کی کرنسی نوٹوں کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ نتیش کمار کا نام لئے بغیر ان کے سابق حلیف نے کہا کہ ’’ پلٹو رام ‘‘ کا ریاست میں حکمرانی میں ایسا لگتا ہے اب کوئی دخل نہیں رہا۔ سب کچھ سشیل مودی اور بی جے پی نے سنبھال رکھا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بہار سشیل کمار مودی کے بے نامی اراضی معاملت سے متعلق مقدمات کو اپنی فیملی کے خلاف عائد کردہ الزامات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لالو نے دعویٰ کیا: ’’ وہ ( سشیل مودی ) خود رقم بٹوررہا ہے۔ انہوں نے یہی مقصد ذہن نشین رکھتے ہوئے اپنے قلمدانوں کا انتخاب کیا ہے۔‘‘ گزشتہ روز میڈیا کے ساتھ گفتگو کے دوران لالو نے بہار کے 38 اضلاع میں مخالف نوٹ بندی ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے جہاں تک کالا دھن پر روک لگانے کا معاملہ ہے کچھ بھی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا بلکہ عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی اور چھوٹے تاجرین بدحال ہوگئے۔ اور قبل اس کے کہ وہ نوٹ بندی کے مضر اثرات سے سنبھل پاتے، نریندر مودی حکومت نے جی ایس ٹی لاگو کردیا۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ انہیں اس مسئلہ پر ہم خیال جماعتوں کی تائید اور حمایت حاصل ہے۔ ’’ میں کانگریس، بائیں بازو اور ٹی ایم سی سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے زیر اثر علاقوں میں اسی طرح کے ایجی ٹیشن منعقد کریں۔‘‘ راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ نے ان الفاظ کے ساتھ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو یکجا کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے جیسا کہ وہ اگسٹ میں مخالف حکومت ریلی کے موقع پر کرچکے تھے۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے آج اعلان کیا کہ وہ 8 نومبر کو جب نوٹ بندی کا ایک سال مکمل ہوگا، سیاہ دن کے طور پر منائیں گے اور ملک بھر میں احتجاج منظم کرتے ہوئے معیشت پر اس اقدام کے مضر اثرات کو اُجاگر کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT