بہار میں چیف وہپ کے عہدہ کے دو دعویداروں میں تنازعہ

پٹنہ ۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بہار میں 20 فبروری کو مقرر خط اعتماد سے قبل ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا جب چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے اپنے وفادار کو چیف وہپ نامزد کردیا جبکہ موجودہ چیف وہپ شراون کمار نے دعویٰ کیا ہیکہ یہ تقرر غیرقانونی ہے اور ادعا کیا کہ وہ اس عہدہ پر بدستور برقرار ہیں۔ ضلع نالندہ کے اسلام پورہ حلقہ کے رکن اسمبلی راجیور

پٹنہ ۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بہار میں 20 فبروری کو مقرر خط اعتماد سے قبل ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا جب چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے اپنے وفادار کو چیف وہپ نامزد کردیا جبکہ موجودہ چیف وہپ شراون کمار نے دعویٰ کیا ہیکہ یہ تقرر غیرقانونی ہے اور ادعا کیا کہ وہ اس عہدہ پر بدستور برقرار ہیں۔ ضلع نالندہ کے اسلام پورہ حلقہ کے رکن اسمبلی راجیورنجن نے دعویٰ کیا کہ بحیثیت قائد ایوان مانجھی نے اسپیکر اسمبلی کے نام 7 فبروری کو موسومہ اپنے ایک مکتوب میں موجودہ چیف وہپ شراون کمار کے بجائے انہیں (راجیو رنجن) کو نامزد کیا تھا۔ رنجن نے کہا کہ ’’لیکن اسپیکر اسمبلی نے اس مکتوب میں درخواست پر کارروائی نہیں کی اور اعلامیہ کی اجرائی میں تاخیر کررہے ہیں‘‘۔ راجیو رنجن نے کہا کہ وہ وہپ جاری کرتے ہوئے جے ڈی (یو) کے تمام ارکان اسمبلی کو ہدایت دیں گے کہ خط اعتماد پر رائے دہی کے موقع پر مانجھی کے حق میں ووٹ دیا جائے۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان خارج کردیئے جائیں گے۔

راجیو رنجن نے جو نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن بعد میں ان سے دور ہوگئے تھے کہا کہ ’’میں خط اعتماد سے ایک دن قبل 19 فبروری کو اخبارات میں وہپ کی اشاعت عمل میں لاؤں گا تاکہ کسی کو بھی اپنے پتہ پر ہدایت موصول نہ ہونے کا عذر باقی نہ رہ سکے‘‘۔ تاہم جے ڈی (یو) کے چیف وہپ شراون کمار نے کہا کہ یہ غیردستوری اقدام ہے اور وہ اپنے عہدہ پر بدستور برقرار رہیں گے۔ شراون کمار نے استفسار کیا کہ ’’راجیو رنجن کو چیف وہپ کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کے بارے میں اسمبلی سکریٹریٹ نے کوئی وہپ جاری کیا ہے؟۔ انہوں نے نئی دہلی میں پی ٹی آئی سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مزید برآں جتن رام مانجھی جے ڈی (یو) سے خارج کئے جانے کے بعد اپنی پارٹی کے رکن باقی نہیں رہے اور اسمبلی میں غیرمنسلک رکن قرار دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ انہیں چیف وہپ مقرر کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔

شراون کمار ان دنوں ئی دہلی میں مقیم ہیں جہاں سابق چیف منسٹر نتیش کمار اپنی پارٹی اور حلیف جماعتوں کے 130 ارکان کے ساتھ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کرتے ہوئے عددی قوت کا عملی ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں۔ شراون کمار جو نتن رام مانجھی کی طرف سے اپنی برطرفی سے وزیر پارلیمانی امور بھی تھے، مزید کہا کہ محکمہ پارلیمانی امور کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو چیف وہپ کی حیثیت سے مقرر کرے کیونکہ صرف اسمبلی اسپیکر کو ہی یہ اختیار حاصل ہے۔ اس دوران چیف منسٹر کے دفتر سے اسمبلی سکریٹریٹ کو بھیجے جانے والے ایک مکتوب پر نیا تنازعہ پیدا ہوگیا جس میں کہا گیا ہیکہ 20 فبروری کو مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے خطاب کے بعد دو ارکان اسمبلی راجیش سنگھ اور داؤد علی خطبہ تشکر دیں گے لیکن راجیش اور داؤد نے کہا کہ ان کے علم اور مرضی کے بغیر یہ مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT