Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / بہار میں یکطرفہ فرقہ پرستی نے باشعور رائے دہندوں کو چوکس کردیا

بہار میں یکطرفہ فرقہ پرستی نے باشعور رائے دہندوں کو چوکس کردیا

حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کشن گنج میں کی گئی ایک تقریر کے بعد سے قائد ایوان مقننہ کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کی وجہ سے بہار میں ووٹ تقسیم نہیں ہوئے بلکہ نفرت کی سیاست کے جواب میں عوام نے نفرتیں پھیلانے والوں کو مسترد کردیا ۔ بی جے پی نے ریاست بہار میں مہاراشٹرا میں کی گئی سازش کو دہراتے ہوئے فرقہ پرستی کا زہر گھولنے اور رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن ان کوششوں میں ناکامی کا آغاز اسی وقت ہوگیا جب بہار پولیس نے شہر حیدرآباد کے رکن اسمبلی اکبر اویسی کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کے احکام جاری کردئیے ۔ ان احکامات کی اجرائی کے فوری بعد اکبر اویسی نے مجوزہ دوروں کو منسوخ کردیا ۔ جس کے نتیجہ میں زعفرانی فرقہ پرستی کو کھلی چھوٹ حاصل رہی اس کھلی چھوٹ کا یہ فائدہ ہوا کہ سیکولر اور امن پسند عوام نے اس یکطرفہ فرقہ پرستی کو ناقابل قبول ثابت کردیا ۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دو طرفہ فرقہ پرستی و زہر افشانی کا سلسلہ جاری رہتا تو ووٹ منقسم ہوجاتے اور رائے دہندے یہ تصور کرنے لگتے کہ جو کوئی زہر اگل رہا ہے وہ جوابی وار ہے اور اس صورت میں رائے دہندوں کے مذہبی خطوط پر منقسم ہوجانے کا خدشہ ہوتا ۔ بہار میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لے رہے امیدواروں نے قیادت پر اس بات کے لیے دباؤ بھی ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ اکبر اویسی کے دوروں کو یقینی بنائیں لیکن ایسا نہ کیے جانے پر بھی عوام کے ذہنوں میں یہ بات پیدا ہوئی کہ ایک مقدمہ درج کیے جانے پر بہار کا رخ نہ کرنے والے قائدین سے مستقبل میں کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ ووٹ کٹوا پتنگ چھاپ کے نام سے پکارے جانے والے قائدین کے لیے بہار انتخابی مرحلہ اس لیے بھی آزمائشی رہا چونکہ سیمانچل میں رائے دہی آخری مرحلہ میں تھی علاوہ ازیں بہار کے اس خطہ میں عوام پسماندگی کا شکار ضرور ہیں لیکن سیاسی طور پر باشعور نظر آرہے تھے جو نفرت کی سیاست کو شکست دینے کا تہیہ کرچکے تھے ۔ اویسی برادران کی بہار انتخابات میں حصہ لینے کی پالیسی کو نہ صرف سیاسی سیکولر گوشوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ کئی مسلم اکابرین نے بھی اس فیصلہ کی مخالفت کی لیکن اس کے باوجود بہار کی سیاست میں داخلہ کے فیصلہ کا اگر کسی نے خیر مقدم کیا تو وہ تھیں نریندر مودی کابینہ کی وزیر مسز نرملا سیتارامن جنہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ اویسی برادران کے بہار انتخابات میں حصہ لینا بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔ ان کے اس بیان نے بہار کے رائے دہندوں کو مزید چوکنا کردیا اور بہار کے رائے دہندوں نے لچھے دار گفتگو کے برخلاف عملی اقدامات کا جائزہ لینا شروع کردیا جس کے نتیجہ میں فرقہ پرستی سیاست پر یقین رکھنے والوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

TOPPOPULARRECENT