Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بہار کے طرز پر ورنگل میں بھی سیاسی قائدین کو سبق سکھانے کا مشورہ

بہار کے طرز پر ورنگل میں بھی سیاسی قائدین کو سبق سکھانے کا مشورہ

بی جے پی اور فرقہ پرست اتحادیوں کی شکست عوام کی شعور بیداری کا نتیجہ، جناب ظہیرالدین علی خان و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز)مذہب او ر نفرت کی سیاست کرنے والوں کو بہار کی عوام نے سبق سکھاتے ہوئے شکست فاش کردیا مگر سیکولر ذہن کے حامل افراد بہار کے انتخابی نتائج پر مسرت کا اظہار کرنے کے بجائے ملک کی دیگر ریاستوں میں بہار کے تجربہ کو عام کرنے کا کام کریں اور پائور بروکرس کو اپنی صفوں سے نکال پھینکیں تاکہ پارٹی کی خرا ب شبہ کو آسانی کے ساتھ ٹھیک بھی کیا جاسکے۔تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام گاندھی بھون میں بہار کے انتخابی نتائج اور تلنگانہ پر اس کے اثرات کے عنوان سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے یہ بات کہی۔پروفیسرکانچہ ایلیا‘ ملو روی سابق ایم پی‘ ڈاکٹر شرون کمار‘ پروفیسر ایو ب علی خان‘ ڈاکٹر شعیب‘ پروفیسر انصاری کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ترجمان ٹی پی سی سی کے مہیش نے کنونیر کے فرائض انجام دئے ۔ اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ بہار میں بی جے پی اور اتحادی پارٹیوں کی شکست کے اصل وجہہ بہار ی عوام کا شعور ہے ۔ تحفظات کے مسلئے پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوات کے بیان نے ناصرف مسلمانوں بلکہ ایس سی ‘ ایس ٹی او ربی سی طبقے کے لوگوں میںبھی بے چینی کا باعث بنا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے ساتھ دلت اور دیگر پسماندہ طبقات بشمول قبائیلی تحفظات کی مرعات سے استفادہ اٹھارہے ہیںجو آر ایس ایس اور بی جے پی کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔جناب ظہیر الدین علی خان نے مزیدکہاکہ کانچہ ایلیا اور دیگر دلت دانشواروں نے اپنے بیانات اور ٹیلی ویثرن انٹرویوز میںیہ واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں او ر دلت طبقات کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ہندوستان کی تقسیم کا اسکرپٹ تیار کیا گیا ۔آرایس ایس اور اس کی محاذی وسیاسی تنظیمیںکبھی نہیںچاہتے کہ مسلمان او ردلت طبقات اقتدار کے قریب آئیںاس لئے تحفظات کے مسلئے کو بنیاد بناکر آر ایس ایس کے صدر موہن بھگوت نے پھر ایک مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ دلت او ردیگر پسماندہ طبقات کے اندر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی تواس کا خمیازہ بی جے پی کو بہار میں بھگتنا پڑا ۔انہوں نے کہاکہ دلت او رمسلمان خودساختہ قیادیوں کے ہاتھوں ہول سیل میں فروخت ہورہے ہیں ۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے ایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلمانوں کی خودساختہ سیاسی قیادتوںکو بیدخل کرنے اور اعلی کمان کی چاپلوسی کے ذریعہ مذکورطبقات کو شرمندہ کرنے والے قائدین کی متبادل تلاش کرتے ہوئے نوجوانوں کو سیاسی میدان میںموقع فراہم کرنے ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا اور کہاکہ بہار کے انتخابی نتائج میںنوجوانوں کااہم رول ہے جس کو تجربے کے طور پر تمام ریاستوں میں استعمال کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے روکنے اور سیکولر طاقتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ چار دہوں تک اقتدار میں رہنے والا ریڈیز طبقہ آج سیاسی نمائندگی سے محروم ہے اس کی وجہہ عوام میںاعتماد کی کمی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت چھوٹی ذات یا اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو آگے انے نہیںدیتی اس قسم کی سونچ کو بھی تبدیل کرنے کا سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا۔پروفیسر کانچہ ایلیا نے بہار کے انتخابی نتائج کو کانگریس پارٹی کے لئے اہمیت کاحامل قراردیا اور بہار میںکانگریس کی کامیابی کا سہرہ راہول گاندھی کی قیادت کے سر دیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دوسری کامیابی لالوپرساد یادو کی ہے جنھوں نے رام مند ر کی تعمیر کے لئے نکالی گئی رتھ یاترا کے علمبردار او ربی جے پی کے سینئر قائد ایل کرشنا اڈوانی کو رتھ یاترا کے ساتھ بہار میںداخل ہونے سے روکدیا اور ان کی گرفتاری عمل میںلائی اور یہ صرف بہار میںہوا۔ بہار ہو یاپھر ملک کی کسی بھی دوسری ریاست میں بی جے پی آر ایس ایس ‘ وی ایچ پی جیسی فرقہ پرست جماعتیں اور تنظیمیںمسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی طبقات ‘ دلت اور قبائیلوں کو اپنا نشانہ بنارہے ہیںاور ان کی نفرت کی سیاست کو شکست فاش کرنے کا بہار کی عوام نے جو کام کیا ہے اس کو پورا ملک میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔پروفیسر کانچہ ایلیانے آرایس ایس او ربی جے پی پر منڈل کمیشن کی مخالفت کا بھی الزام عائد کیا او رکہاکہ منڈل کمیشن کے ذریعہ ممبئی فسادات کے متاثرین کے ساتھ انصاف اور ان کے کھویاہوا وقار واپس ملنے کے ڈر سے بی جے پی او رآر ایس ایس نے منڈ ل کمیشن کی مخالفت کی تھی۔انھوں نے مزید کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدارمیںآنے کے ساتھ ہی ملک بھر میںخانگی فوج تیار کرتے ہوئے پولیس کی نگرانی میںگائے سیوا دل کے کارکن ٹرک او رچھوٹے گاڑیوں میںجانور لے جانے والے معصوم اور بے قصور افراد پر ظلم ڈھارہے ہیں اور اس قسم کے واقعات پر ریاستی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے تاکہ ہندوستان کے جمہوری نظام او رقومی سالمیت کو قائم رکھا جاسکے ۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے گائے کے بعد اب ٹیپوسلطان شہیدکے نام پر نفرت پھیلانے کا آرایس ایس وی ایچ پی جیسی فرقہ پرست تنظیموںپر الزام عائد کیا۔ ٹیپوسلطان شہید کا شمار ان راجائوں میںہوتا ہے جنھوں نے اپنے وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لئے اپنی جان تک قربان کردی ہے۔ ساوتھ انڈیا ٹیپوسلطان شہید کی دوراندیش حکمرانی کے نتیجے میںانگریزوں کی غلامی سے محفوظ رہا مگر آج چند فرقہ پرست طاقتیں ٹیپو سلطان شہید کو ہند و اور عیسائی دشمن قراردینے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ جس طرح بہار کی عوام نے بی جے پی کی غلط حکمرانی او ر عوام دشمن پالیسیوں کے سبب انہیںبہار سے بیدخل کیا ہے اسی طر ح ورنگل کی عوام بھی ٹی آر ایس پارٹی کو اقتدارسے بیدخل کرتے ہوئے اپنے شعور کا مظاہرہ کریگی۔پروفیسر ایوب علی خان نے کہاکہ گجرات ماڈ ل کی بنیاد پر بی جے پی نے ملک میںاقتدار حاصل کیاہے جبکہ گجرات ماڈل جیسی کوئی چیز ہندوستان میںموجود ہی نہیںہے ۔گجرات میںچھوٹی صنعتوں کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گجرات میں دولاکھ کے قریب چھوٹی صنعتیں موجود ہیں جن میں95فیصد صنعتیں غیر رجسٹرڈ ہیں جبکہ پچھلے سال نو فیصد صنعتیں ریاستی حکومت کی لاپرواہی کے سبب بند ہوگئیں۔انٹرنٹ او ربرقی کی قلت کے سبب گجرات کے ای کامرس شعبہ بند ہوتے جارہے ہیں ۔ گجرات کے مقابل بہار نے پچھلے پانچ سالو ں میںاچھی ترقی کی ۔ انہوں نے بی جے پی اور جے ڈی یو کے اتحاد میںپہلے پانچ سال کی حکومت کی بی جے پی کوبہار کی ترقی میںرکاوٹیںکھڑا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اس کے بعد نتیش کمار نے بی جے پی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے بہار میںحکومت تشکیل دی جس کے بعد بہار کی ترقی کے گراف میں نمایاں اضافہ ہوا۔

TOPPOPULARRECENT