بہتان تراشی اور الزامات کے ذریعہ بدظنی پھیلانا مقامی جماعت کا شیوہ : مظفر علی خاں

افضل نگر میں قبرستان کا مسئلہ حل کرنے کے علاوہ ہر بلدی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کا منصوبہ

حیدرآباد۔23نومبر(سیاست نیوز) عظیم اتحاد( مہاکوٹمی) کے تلگودیشم امیدوار اسمبلی حلقہ ملک پیٹ محمد مظفر علی خان نے مقامی جماعت کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے الزامات پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اگر کوئی لینڈ گرابرس‘ وقف کے لوٹیرے اور سود خور یہ ثابت کردے کہ میں نے ان سے ایک روپئے کی بھی کمائی ہے تو میںافضل نگر کی جامع مسجد میںان کیساتھ مباہلہ کے لئے تیار ہوں ‘ میںاپنے تمام بھائیو ںکے ساتھ مسجد میںآجائوں گا اور مجھ پر الزام تراشی کرنیوالے بھی اپنے اہل واعیال کے ساتھ مسجد میںاجائیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بے بنیاد الزمات او رمن گھڑت باتیں تو مقامی جماعت کا شیوہ ہے اور عین انتخابات کے سامنے اپنے مد مقابل پارٹی کے امیدوار پر اسی طرح کی الزام تراشیاں کی جاتی ہیں تاکہ بدظن کیاجاسکے۔مگرمجوزہ اسمبلی انتخابات ملک پیٹ کی عوام کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ کیونکہ ایک جانب سکیولر طاقتوں کے اتحاد سے مہا کوٹمی کی تشکیل عمل میں آئی ہے تودوسری جانب سے مرکز میںبرسراقتدار بی جے پی کی حمایت کرنے اور بی جے پی کے ہر فیصلے کی اندھی تقلید کرنے والی ٹی آر ایس پارٹی اور اسکی برسرعام حمایت کرنے والی مقامی جماعت عوام کے درمیان میںہے۔ ہندوستان بھر کی سکیولر طاقتوں کی نظر تلنگانہ او ربالخصوص پرانے شہر پر ٹکی ہوئی ہیں۔افضل نگر قدیم ملک پیٹ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمد مظفر علی خان نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںتلگودیشم پارٹی کا موقف حکمران جماعت کا تھا اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی صوبے کی بڑی سیاسی جماعت میںتلگود یشم پارٹی کاموقف ہے او ریہی وجہہ ہے کہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں ریاست کی اہم سکیولر جماعتوں نے آپسی اتحاد قائم کرتے ہوئے فرقہ پرست بی جے پی اور اسکی حمایتی سیاسی جماعتوں کو سبق سیکھانے کا ارادہ کیا ہے۔ انہو ںنے کہاکہ تلنگانہ میںجہاں پر تیس سے زائد اسمبلی حلقوں میںمسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ہوتے ہیںوہاں پر اپنا امیدوار کھڑا کرنے کے بجائے ریاست کی برسراقتدار سیاسی جماعت کی حمایت کی جاتی ہے او ردیگر ریاستو ں میںجاکر وہاں کے مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرکے سکیولر طاقتوں کو کمزور بنانے کا کام کیاجاتا ہے۔ انہوںکہاکہ مقامی جماعت ریاست کے باہر جہاں پر بھی الیکشن لڑنے کے لئے جاتے ہیںوہاں پر کانگریس‘ این سی پی‘ آر جے ڈی ‘ ایس پی او ربی ایس کو ہی نشانہ بناتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو مذکورہ سیاسی جماعتوں سے منحرف کرکے فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوط کیاجاسکے ۔
انہو ںنے کہاکہ مہارشٹرا او راترپردیش کے نتائج تو عوام کے سامنے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلاکر مسلمانوں کے اتحاد میںرخنہ پیدا کرنا اور بی جے پی کومستحکم کرنے کے ایجنڈہ پر کام کرنے والی مقامی جماعت کا ایک نکاتی ایجنڈہ عظیم اتحاد کے امیدواروں کو بہتان تراشی بنا ہوا ہے۔ انہو ںنے کہاکہ انتخابات ایک جمہوری طریقہ کار ہے جس کے ذریعہ لوگوں اپنی بنیاد ی ضرورتوں کی تکمیل اور حکومت سے نمائندگی کے لئے اپنا ایک لیڈر منتخب کرتے ہیں مگر یہاں پر اسمبلی حلقہ ملک پیٹ میں عوام نے جس بھروسہ کے ساتھ مقامی جماعت کے رکن اسمبلی کو منتخب کیاہے وہ عوامی امیدوں کے خلاف کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افضل نگر میںقبرستان کے لئے اراضی کی فراہمی کا معاملہ پچھلے کئی سالوں سے زیر التوا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کو کافی تجہیز وتدفین کے لئے کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افضل نگر میںموسی ندی کے قریب ایک سرکاری اراضی کو قبرستان کے لئے مختص کرنے کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیانے کامیاب نمائندگی کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ سی پی ائی کے سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سیدعزیز پاشاہ نے کلکٹر حیدرآباد کو ایک مکتوب لکھ کر مذکورہ اراضی کو قبرستان کے لئے جاری کرایاتھا مگر پچھلے نو سالوں میں اس اراضی پر نت نئی سازشوں کے ذریعہ قبرستان کے لئے باونڈری وال کی تعمیر پر رکاوٹیںکھڑی کی گئیں۔محمد مظفرعلی خان نے کہاکہ دولت بٹورنا میرا منشاء نہیںہے میں خدمت خلق کے لئے رکن اسمبلی بناتے ہوئے ایک موقع دیاجاتا ہے تو میںاسمبلی حلقہ ملک پیٹ کے ہر بلدی ڈیویژن میںایک کمیونئی ہال‘ نوجوان کے فٹنس سنٹر‘ بچوں اورخواتین کے لئے پارکس قائم کروں گا۔ انہو ںنے کہاکہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میںعظیم اتحاد بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگا اور ہماری حکومت تشکیل پائی گی۔ انہوں نے افضل نگر کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے تیس پینتیس سال قبل یہ علاقہ آباد ہوا اس وقت یہاں پر مقامی جماعت کا کوئی وجود بھی نہیںتھا اس کے باوجود یہاں پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی عمل میں آئی۔

TOPPOPULARRECENT