Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / بہتر نظم و نسق کیلئے نئے اضلاع کی تشکیل، اپوزیشن کے اعتراضات مضحکہ خیز

بہتر نظم و نسق کیلئے نئے اضلاع کی تشکیل، اپوزیشن کے اعتراضات مضحکہ خیز

چھوٹے اضلاع سے ترقی اور عوام کیلئے سہولت بخش، ٹی آر ایس ایم پی بی سمن
حیدرآباد۔/8اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے کہا کہ ریاست میں بہتر نظم و نسق کی سہولت کیلئے نئے اضلاع کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات مضحکہ خیز ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے کہا کہ اقتدار کو غیر مرکوز کرتے ہوئے ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ چھوٹے اضلاع کی تشکیل سے نہ صرف عوام کو سہولت ہوگی بلکہ حکومت کی اسکیمات کے بغیر ان تک  بہتر طور پر پہنچ پائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انتہائی دوربینی اور عوامی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اضلاع کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کی جاسکے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اضلاع کی تنظیم جدید سے ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ سمن نے کانگریس اور تلگودیشم کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے نئے اضلاع کی تشکیل عمل میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل کے فیصلہ سے قبل حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کی اور ایک ماہ تک عوام سے بھی اضلاع کی تشکیل کے بارے میں احساسات معلوم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع کے سلسلہ میں عوامی مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تنظیم جدید میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ابتداء میں 27 اضلاع کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم عوامی مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مزید 4 کے اضافہ کی تجویز ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی اضلاع اس سلسلہ میں کانگریس اور تلگودیشم قائدین کی رائے کا بھی احترام کیا گیا۔ تلگودیشم کے فلور لیڈر ریونت ریڈی کی جانب سے اضلاع کی تشکیل کو غیر سائنٹفک قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے سمن نے کہا کہ تلگودیشم قائدین معلومات کے بغیر ہی اظہار خیال کررہے ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ حکومت پر تنقید سے پہلے عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی رائے حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی مخالفت کرنے والے قائدین کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیئے کہ اگر انہیں کسی مسئلہ پر اختلاف ہو تو وہ حکومت سے نمائندگی کریں جس طرح کانگریس کے قائدین نے گدوال اور جنگاؤں اضلاع کے مطالبہ کے تحت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے نئے اضلاع کی تشکیل کے سلسلہ میں کبھی بھی سیاسی مقصد براری کو پیش نظر نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسہرہ کے دن سے حکومت نئے اضلاع کے آغاز کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس کے لئے عہدیداروں کے الاٹمنٹ اور دیگر ضروری امور کی تکمیل کا کام جنگی خطوط پر جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT