Sunday , June 24 2018
Home / مضامین / بہت آسان ہے کمرہ میں وندے ماترم کہنا

بہت آسان ہے کمرہ میں وندے ماترم کہنا

موہن بھاگوت … فوج کی صلاحیت پر سوال
کشمیر … گولی نہیں بولی کا وعدہ بھول گئے مودی

رشیدالدین

حب الوطنی اور قوم پرستی کا نعرہ ان دنوں سیاستدانوں اور خود ساختہ محبان وطن کیلئے فیشن بن چکا ہے ۔ وطن کیلئے جان کی قربانی کے عزائم عام جلسوں میں ضرور سنے جاسکتے ہیں لیکن حقائق اور سچائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان پر کھیل جانے والے سپاہیوں کا کسی سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان میں بعض ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو پرائیویٹ آرمی کی طرح کیڈر تیار کرتے ہوئے ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ یہ پرائیویٹ آرمی ملک اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے نہیں بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے تیار کی گئیں۔ سنگھ پریوار ہندو راشٹر کے خواب کی تکمیل کیلئے اس آرمی پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے میں مصروف آر ایس ایس نے اپنی پرائیویٹ آرمی سے نہ صرف تقابل کیا بلکہ جنگی تیاری کے معاملہ میں سیویم سیوکوں کو فوج سے بہتر قرار دیا۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہاں تک کہہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر ملک کیلئے لڑنے تین دن میں آر ایس ایس کیڈر تیار ہوسکتا ہے جبکہ فوج کو تیاری کیلئے 6 تا 7 ماہ درکار ہوں گے۔ بھاگوت نے اس بیان کے ذریعہ فوج کی صلاحیتوں پر سوال کھڑے کردیئے۔ ان کا یہ ریمارک نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ فوج کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ جدوجہد آزادی ہو یا پھر سرحدوں کی حفاظت کسی بھی مرحلہ پر آر ایس ایس کی قربانیوں کا کوئی تذکرہ نہیں ملے گا لیکن آر ایس ایس قیادت فوج کی صلاحیت پر انگشت نمائی کرنے لگی ہے۔ حب الوطنی کے ان دعویداروں نے کبھی سرحد کا دورہ تک نہیں کیا ہوگا لیکن دور سے بڑی باتیں کی جارہی ہیں۔ ویسے بھی ہندوستان میں بڑی باتیں کرنے پر کوئی جی ایس ٹی نہیں لگے گا اور سنگھ پریوار کے قائدین کو جیسے بڑی باتوں کا لائسنس حاصل ہے۔ حب الوطنی کے یہ دعویدار ایسے ہیں جن کے ہیڈکوارٹر پر کبھی بھی قومی پرچم نہیں لہرایا گیا لیکن دنیا بھر کو حب الوطنی کا نہ صرف درس دیتے ہیں بلکہ حب الوطنی کے سرٹیفکٹ تقسیم کرتے ہیں۔ اگر موہن بھاگوت کی جگہ کوئی اور قائد یا پھر کوئی مسلمان یہ بات کہتا کہ نہ صرف ہنگامہ کھڑا ہوجاتا بلکہ مقدمات درج ہوجاتے۔ ٹی وی چیانلس کے اینکرس گلہ پھاڑ کر فوج کی توہین کی دہائی دیتے ہوئے ملک دشمن ثابت کرنے ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے لیکن موہن بھاگوت کے بیان پر سناٹا ہے ۔ ٹی وی چیانلس کو چھوڑیئے خود وزیر دفاع اور فوج کے ترجمان بھی جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ سرحد پر دشمن فوج سے مقابلہ نہ سہی آر ایس ایس کارکنوں کو دراندازوں سے مقابلہ کیلئے میدان میں اُترنا چاہئے ۔ جب جاکر انہیں پتہ چلے گا کہ فوج کی صلاحیت کو چیلنج کرنا کتنا مہنگا پڑسکتا ہے۔ آر ایس ایس کارکن جب تین دن میں تیار ہوسکتے ہیں تو پھر انہیں وطن پر جان نچھاور کرنے سے کس نے روکا ہے۔ اروناچل پردیش کی سرحد چینی افواج کیلئے گھر آنگن اور چہل قدمی کی جگہ بن چکی ہے۔ چینی افواج جب چاہے ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوجاتی ہے۔ چین کو روکنے کیلئے آر ایس ایس کارکن سرحد پر کیوں نہیں جاتے ؟ آزاد ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آر ایس ایس نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت تو نہیں کی برخلاف اس کے عوام کو مذہب کے نام پر توڑنے کا کام ضرور کیا ۔ گاندھی جی کی ہلاکت سے لیکر آج تک بے گناہوں کا خون بہانے میں آر ایس ایس کا کوئی ثانی نہیں۔ لو جہاد اور گاؤ رکھشا کے نام پر معصوم افراد کو نشانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ آخر آر ایس ایس کیڈر کو ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر کوئی غیر ہندو تنظیم حفاظتِ خود اختیاری کیلئے ہتھیار تو دور کی بات ہے لاٹھی چلانے کی تربیت دے تو ملک سے غداری کا لیبل لگادیا جاتا ہے۔ فوج نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ جب کبھی آفات سماوی میں عوام گھر جاتے ہیں تو وہ بچاو اور راحتی کاموں میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ ملک اور انسانیت کی خدمت کرنے والی فوج سے آر ایس ایس کا تقابل کرنا فوج کی اہمیت گھٹانا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت تو چھوڑیئے آر ایس ایس کے دیش بھکت کیڈر کو ماوسٹوں کے زیر اثر علاقوں میں بھیجنا چاہئے ۔ ان کی بہادری اور وطن پرستی کا پول کھل جائے گا۔ جہاں تک پرائیویٹ آرمی کا سوال ہے ، جس ملک میں بھی خانگی مسلح گروپس کا وجود رہا، وہ ملک عدم استحکام اور انتشار کا شکار ہوگیا۔ اس کی تازہ مثال عراق ، شام ، افغانستان اور یمن ہے جو خانہ جنگی کا شکار ہے۔ کیا موہن بھاگوت طالبان سے متاثر ہوچکے ہیں، جو فوج سے زیادہ اپنے سیویم سیوکوںکی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ موہن بھاگوت کو وطن سے محبت کا دعویٰ ضرور ہے لیکن وطن کیلئے مسلمانوں کی قربانیاں انہیں یاد نہیں۔ اگر یاد بھی ہو تو تذکرہ کرنا انہیں پسند نہیں۔ جس وقت بھاگوت فوج کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہے تھے ، کشمیر میں دہشت گردوں سے لوہا لیتے ہوئے مسلم سپاہیوں نے اپنی جان وطن عزیز پر نچھاور کردی۔ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرنے والوں کو مسلم جوانوں کی شہادت کا تذکرہ بھی گوارا نہیں۔ ہر فوجی جوان کی موت پر ٹی وی چیانلس اس کے گھر والوں کو بار بار پیش کرتے رہے ہیں لیکن مسلم جوانوں کی شہادت پر کسی چیانل نے ان کے گھر والوں سے بات چیت نہیں کی اور نہ ہی ان کے آبائی مقام اور گھر والوں پر ٹوٹنے والے مصیبت کے پہاڑ اور مسائل کو پیش کیا۔ آخر یہ جانبداری کیوں ؟ کیا مسلم نوجوانوں کا خون کوئی اہمیت نہیں رکھتا ؟ کیا مسلم فوجی جوانوں کا خون ملک کی حفاظت کیلئے نہیں بہا ہے ؟ مسلم جوانوں کی قربانیوں کی اہمیت گھٹانے والے یہ بھول گئے کہ کارگل کی لڑائی میں اصل چوٹی فتح کرنے میں مسلم جانباز سپاہیوں نے اہم رول ادا کیا تھا جس کا اعتراف گرینیڈیئر رجمنٹ کے سربراہ میجر جنرل اجیت سنگھ نے کیا۔
وزیراعظم نریندر مودی من کی بات اور ٹوئیٹ کے ذریعہ مختلف مسائل پر تبصرہ کرنے میں شہرت رکھتے ہیں لیکن کشمیر میں دراندازوں کے حملہ میں شہید مسلم جوانوں کیلئے انہوں نے دو الفاظ پر مبنی ٹوئیٹ تک نہیں کیا۔ وزیراعظم کو مسلم اور عرب ممالک کے سربراہان مملکت کو گلے لگاکر خوش کرنے میں مہارت ہے لیکن ملک کے مسلمانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرنا بھی پسند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً فوج میں مسلم رجمنٹ کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ۔ کارگل لڑائی کے دوران جن 22 مسلم جوانوں نے پاکستان سے قبضہ سے علاقہ کو حاصل کیا تھا ، ان کا تعلق ’’چارلی مسلم کمپنی‘‘ سے تھا جو گرینیڈیئر رجمنٹ کا حصہ تھی۔ ملک کی فوج میں رجمنٹ سسٹم دراصل انگریزوں کا دیا ہوا ہے لیکن آج تک انگریزوں کی اس یادگار کو ہم سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ فوج میں کئی رجمنٹ ہیں جن سے علاقوں اور مذاہب کا پتہ چلتا ہے، ان میں سکھ رجمنٹ ، راجپوتانا رجمنٹ ، بہار رجمنٹ ، مراٹھا رجمنٹ ، جاٹ رجمنٹ ، مدراس رجمنٹ ، آسام رجمنٹ ، ناگا رجمنٹ ، گورکھا رجمنٹ ، ڈوگرا رجمنٹ ، جموں و کشمیر رائفلز اور دوسرے شامل ہیں۔ 1965ء میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں حوالدار عبدالحمید حقیقی ہیرو کی طرح ابھرے جنہوں نے پاکستانی ٹینکوں کو تباہ کردیا تھا اور پاکستانی فوج ٹینکس چھوڑ کر واپس بھاگ کھڑی ہوئی۔ حوالدار عبدالحمید کو ملک کا اعلیٰ ترین بہادری کا پرم ویر چکر اعزاز دیا گیا۔ ان کے بعد میجر لیفٹننٹ جنرل محمد ذکی اور میجر عبدالرافع خاں کو ویر چکر سے نوازا گیا۔ دوسری طرف کشمیر میں فوجی کیمپس پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ حکومت پاکستان کو سبق سکھانے کا اعلان تو کر رہی ہے لیکن ابھی تک دراندازی کو روکنے میں کامیابی نہیں ملی ۔ بی جے پی کی مدد سے برسر اقتدار پی ڈی پی حکومت کی سربراہ محبوبہ مفتی نے پاکستان سے بات چیت کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس مشورہ کیلئے انہیں ملک دشمن قرار دیا جائے تب بھی ان کے موقف میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ نریندر مودی نے لال قلعہ سے اعلان کیا تھا کہ کشمیریوں کیلئے گولی کے بجائے حکومت میٹھی بولی کا استعمال کرے گی لیکن اس پر بھی عمل دکھائی نہیں دیتا۔ حلف برداری تقریب میں نواز شریف کو مدعو کیا گیا اور پھر بن بلائے مہمان کی طرح مودی پاکستان پہنچ گئے۔ جب پاکستان سے اتنی قربت اور ہمدردی ہے تو پھر مذاکرات کا آغاز کیوں نہیں کیا جاتا۔ منموہن سنگھ دور حکومت میں ہندوستانی فوجیوں کا سر قلم کرنے پر بی جے پی نے حکومت کو سرحد عبور کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر دوبارہ حاصل کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن آج وہ اپنے مشورہ پر عمل کرنے تیار نہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی سرحدی علاقہ میں در اندازی اور فوجیوں کی شہادت ہورہی ہے لیکن نریندر مودی حکومت نہ ہی مذاکرات کیلئے تیار ہے ، نہ کارروائی کیلئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر ملک کے باہر ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر حکومت کا دوہرا معیار ناقابل فہم ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہوچکی ہے کہ لشکر طیبہ کا دہشت گرد پولیس کے قبضہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا لیکن آج تک اس کا پتہ نہیں چل سکا۔ اگر کشمیر میں کانگریس حکومت ہوتی تو ابھی تک صدر راج نافذ کردیا جاتا لیکن چونکہ اقتدار میں بی جے پی شامل ہے ، لہذا حکومت پر سناٹا طاری ہے۔ حب الوطنی کے دعویداروں کو منور رانا نے کچھ اس طرح مشورہ دیا ہے ؎
چلو چلتے ہیں مل جل کر وطن پر جان دیتے ہیں
بہت آسان ہے کمرہ میں وندے ماترم کہنا

TOPPOPULARRECENT