Tuesday , October 23 2018
Home / Top Stories / بہت زیادہ سیکولرازم ٹھیک نہیں،سیاسی غلامی سے باہر نکلنا ضروری ، عام آدمی پارٹی لیڈر شازیہ علمی کا متنازعہ تبصرہ

بہت زیادہ سیکولرازم ٹھیک نہیں،سیاسی غلامی سے باہر نکلنا ضروری ، عام آدمی پارٹی لیڈر شازیہ علمی کا متنازعہ تبصرہ

نئی دہلی ۔ /22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے اہم ترین مرحلے سے عین قبل عام آدمی پارٹی لیڈر شازیہ علمی کاآج ایک متنازعہ تبصرہ منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ رائے دہی کے وقت فرقہ پرست بن جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ’’بہت زیادہ سیکولر‘‘ ہی

نئی دہلی ۔ /22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے اہم ترین مرحلے سے عین قبل عام آدمی پارٹی لیڈر شازیہ علمی کاآج ایک متنازعہ تبصرہ منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ رائے دہی کے وقت فرقہ پرست بن جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ’’بہت زیادہ سیکولر‘‘ ہیں اور انہیں رائے دہی کے وقت اپنے مفادات ملحوظ رکھتے ہوئے ’’فرقہ پرست‘‘ بن جانا چاہئیے ۔ عام آدمی پارٹی لیڈر کا یہ متنازعہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیل گیا اور ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ اس ویڈیو میں انہیں یہ کہتے دکھایا گیا کہ ’’زیادہ سیکولر بھی نہیں ہونا چاہئیے ۔ مسلمان بہت ہی زیادہ سیکولر ہیں اور انہیں فرقہ پرست بننا چاہئیے ۔ وہ فرقہ پرست نہیں ہے اور خود کیلئے ووٹ نہیں دیتے ۔ اروند کجریوال ہمارے آدمی ہیں ۔ مسلمان طویل عرصہ تک سیکولر رہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس کو ووٹ دیا اور اسے کامیابی میں مدد کی ۔ اب ایسے سیکولر نہ بنئیے اور اس بار خود اپنا جائزہ لیجئے ‘‘ ۔

شازیہ علمی لوک سبھا حلقہ غازی آباد سے عام آدمی پارٹی امیدوار ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر جماعتوں کا ووٹ بینک مستحکم ہے اور مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان متنازعہ ہے لیکن ہمیں خود اپنا فائدہ بھی دیکھنا چاہئیے ۔ شازیہ علمی کا یہ بیان تیزی سے سوشیل میڈیا پر پھیل گیا اور اب ایک نیا سیاسی موضوع بن چکا ہے ۔ یہ 1.19 منٹ کی مختصر ویڈیو کلپ جو دراصل اسٹنگ آپریشن ہے اس میں شازیہ علمی کو مسلمانوں سے بات چیت کرتے دکھایا گیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ممبئی میں اس کی فلمبندی کی گئی جہاں شازیہ علمی عام آدمی پارٹی ساؤتھ ممبئی کی امیدوار میرا سانیال کی انتخابی مہم میں شریک ہوئی تھیں ۔ مسلمانوں سے ملاقات کے دوران شازیہ علمی اپنے سر پر دوپٹہ اوڑے ہوئے ہیں ۔ ممبئی میں /24 اپریل کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔ شازیہ علمی نے جو عام آدمی پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو بھی ہیں اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کا بیان متنازعہ ہے لیکن یہ ایک اہم موضوع ہے ۔ اس نشست میں موجود ایک شخص نے ان کے بیان پر جب اعتراض کیا تو جواب میں انہوں نے اس ردعمل کا اظہار کیا ۔ اس ویڈیو کلپ کے آخر میں شازیہ علمی نے کہا کہ ’’ کام بدل دیجئے ۔

لڑو اور جیتو‘‘ عام آدمی پارٹی لیڈر سے جب اس سلسلے میں ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی کا مطلب ایک مخصوص فرقہ ہے اور اس سے نفرت کا مفہوم اخذ نہیں کیا جانا چاہئیے ۔ ان کا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ کسی ایک پارٹی کے سیاسی غلام نہ بن جائیں اور خوف کی زندگی نہ گزاریں ۔ اس ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا کہ شازیہ علمی کی بات پر ایک شخص نے کہا تھا کہ ہم خوف زدہ ہیں اور ہمیں ووٹ دینا پڑتا ہے ‘‘ ۔ شازیہ علمی نے واضح کیاکہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے ۔ انہوں نے ایک نیوز چیانل کو بتایا کہ کانگریس نے اتنے طویل عرصہ کے دوران ہمارے لئے کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان میں سیکولر بمقابلہ فرقہ پرستی کی صراحت کی گئی ہے ۔ عام آدمی پارٹی ترجمان منیش سیسوڈیا نے کہا کہ شازیہ علمی کا تبصرہ غلط ہے اور انہیں ایسا نہیں کہنا چاہئیے تھا ۔ پارٹی اس پر یقین نہیں رکھتی ۔
مسلمان ووٹ دیتے وقت ’’فرقہ پرست ‘‘ بن جائیں

TOPPOPULARRECENT