Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / بہرائچ میں دُرگا جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم

بہرائچ میں دُرگا جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم

مسجد کے روبرو شرانگیزی۔ آتشزدگی میں کمسن لڑکی فوت
بہرائچ۔/14اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) دسہرہ کے موقع پر دُرگا مورتی وسرجن جلوس کے دوران ہندو مسلم تصادم میں ایک 6سالہ لڑکی جھلس کر فوت اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔ انڈین اکسپریس کی اطلاع کے بموجب اشفاق کی دختر سونی شدید جھلس گئی تھی اور ہاسپٹل لے جانے کے دوران جانبر نہ ہوسکی۔ یہ فرقہ وارانہ تصادم اسوقت پیش آیا جب دُرگا پوجا جلوس‘ نبی خاں کاپورا گاؤں کی مسجد کے سامنے سے گذرر ہاتھا ۔ جلوسیوں نے مسجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر کی آواز بلند کردی۔ نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے آئے ہوئے مصلیوں نے اعتراض کیا تو بحث و تکرار شروع ہوگئی جس کے بعد ہجوم تشدد پر اُتر آیا اور دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر سنگباری بھی کی۔ جلوسیوں نے نہ صرف مسجد میں پتھر پھینکے بلکہ 32جھگی جھونپڑیوں کو بھی آگ لگادی جبکہ اشفاق کی 6 سالہ لڑکی اپنے مکان میں پھنس گئی اور باہر نہیں آسکی۔ چونکہ یہ لڑکی گونگی تھی جس کی وجہ سے کسی کو بھی مدد کیلئے آواز نہیں دے سکی۔ مقامی دیہاتیوں نے لڑکی کو شدید جھلسی ہوئی حالت میں ہاسپٹل لے جانے کی کوشش کی لیکن راستہ میں ہی اس نے دم توڑ دیا۔ ضلع بہرائچ کے ایس پی مسٹر سالک رام نے بتایا کہ 5افراد کو حراست میں لے لیا گیا اور دیگر 20ملزمین کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے جبکہ قتل، لوٹ مار اور آتشزنی سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ گاؤں میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اضافی پولیس جمعیت طلب کرلی گئی ہے جہاں پر حالات قابو میں بتائے جاتے ہیں۔ ریاستی وزیر کمرشیل ٹیکس اور مقامی رکن اسمبلی یاسر شاہ نے بتایا کہ چیف منسٹر اکھلیش یادو نے متوفیہ کے خاندان کیلئے 9لاکھ روپئے بطور ایکس گریشیا کا اعلان کیا ہے اور آتشزنی کے واقعہ میں جن لوگوں کے مال و اسباب کو نقصان پہنچا ہے انہیں مالی امداد کی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT