Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / بہوجن اور بائیں بازو نظریات کا حامل اتحاد قومی سیاست پر اثر انداز ہوگا

بہوجن اور بائیں بازو نظریات کا حامل اتحاد قومی سیاست پر اثر انداز ہوگا

مرکز کی بی جے پی حکومت سے دلت اور اقلیتیں نشانہ ، جگنیش مویانی رکن اسمبلی گجرات کا خطاب
حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) گجرات کے اسمبلی حلقہ وڈگام سے رکن اسمبلی ودلت لیڈر جگنیش میوانی نے کہاکہ بہوجن اور بائیںبازونظریات کاحامل اتحاد نہ صرف تلنگانہ بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوگا۔بی جے پی کے مرکز میں اقتدار پر آنے کے بعد مسلسل دلت اوراقلیتوں کے ساتھ بائیںبازو نظریات کو مسلسل نشانہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ تریپورہ میں الیکشن جیتنے کے بعد فسطائی نظریات کی حامل سیاسی جماعت اور اس کی ذیلی تنظیموں نے تو بربریت کی انتہا کردی۔وہ آج یہاں ایس وی کیندرم میںسی پی آئی کی ریاستی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انقلابی گلوکار غدر‘سابق چیف سکریٹری کاکی مادھورائو‘ سی پی آئی ایم اسٹیٹ سکریٹری ٹی ویرا بھدرم ‘ پروفیسر کانچہ ایلیا‘ صدر مجلس بچائو تحریک مجید اللہ خان فرحت‘ صدر بہوجن لفٹ فرنٹ سوریہ پرکاش نے بھی خطاب کیا۔جنگیش میوانی نے مزید کہاکہ پسماندگی کاشکار طبقات کومتحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ سماجی جہدکاروں کو بھی اپنے آپسی اختلافات او رنظریات کو بلائے طاق رکھ کر فسطائیت کے خلاف جدوجہد کی بڑے پیمانے پر شروعات کرنے کی چائے۔ یقینا دلتوں کی فلاح وبہبود کے محرکوں سے بھی غلطیاں ہوئیں ہونگی مگر اس کا مطالب یہ نہیںہے ہم ایک دوسرے کے مقدمقابل آجائیں اور نفرت کا جو طوفان سارے ملک میں چل رہا ہے اس کو روکنے میںناکام رہیں۔جنگیش میوانی نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر مودی کو 2019میںنہیں روکا گیا تو دستور ہند نام کی کوئی چیز باقی نہیںرہے گی۔ آج علاقائی جماعتیں متحد ہوکر مودی کا مقابلہ کررہی ہیں مگر کچھ علاقائی جماعتیں ایسی بھی جن کے عظیم اتحاد میںشامل ہونے کا راست فائدہ بی جے پی کوہوسکتا ہے ۔ جنگیش میوانی نے کہاکہ ہمیں غور وفکر کے ساتھ قدم اٹھانے پڑیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مودی کو روکنے کے لئے قومی سطح پر بہوجن اور بائیں بازو کا اتحاد عمل میںآتا ہے تو اس کا فائدہ قومی سطح کو بھی ہوگا ۔ آج ملک کانوجوان پریشان ہے ‘ اسی سمجھ میںنہیں آرہا ہے کہ وہ کیاکرے‘2014میںنریندر مودی کے جھانسے میںآکر جس صورتحال کا سامنا ملک کا نوجوان طبقہ کررہا ہے اُس کا بھی قیاس بھی نہیںلگایاگیاتھا۔ جگنیش میوانی نے کہاکہ سب سے برا حال اس ملک میں کسانوں کا ہے ۔انہوںنے کہاکہ زراعی شعبوں میںکام کرنے والوں کی اکثریت دلت او ربہوجن سماج سے ہے ۔ اس کے لئے بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر کی قربانیوں کو ہمیںیاد کرنا ہوگا۔ میوانی نے کہاکہ بائیں بازو جماعتوں کو بھی اپنی غلطیوں کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں کیرالا میںسو فیصد خواندگی کی بات کی جاتی ہے وہیں تحفظات کے معاملے میں زمینی حقیقت کا بھی کیرالا کی سی پی آئی ایم حکومت کوجائزہ لیتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جگنیش میوانی نے کہاکہ 2019سے قبل ہی جنرل الیکشن متوقع ہے اور اگر اس بار بی جے پی کوروکنے میںہم ناکام رہے تو دستور ہی بدل دیاجائے گا‘ کیونکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیگڈے نے اس بات کا صاف طور پر اشارہ دیا ہے کہ بی جے پی اکثریت کے ساتھ حکومت بناتی ہے تو دستور ہند کے بجائے منوسمرتی کاقانون اس ملک میں نافذ کردیاجائے ۔ انقلابی گلوکار غدر نے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ میںدلت مسلم اتحاد کی حمایت کی ۔انہو ںنے کہاکہ اقتصادی سہولتوں کی تقسیم کا جو طریقہ کار اپنایاگیا ہے اس کی جمہوری ہندوستا ن میںکوئی جگہ نہیںہے مگر جس کی’ لاٹھی اس کی بھینس ‘کی سونچ کے ساتھ کام کیاجارہا ہے۔ مسٹر غدر نے کہاکہ علیحدہ تلنگانہ کی جدوجہد جن وعدوں پر شروع کی گئی تھی چار سال کا وقفہ گذر نے کے بعد بھی وہ پورے نہیںہوئے ۔ ایس سی ‘ ایس ٹی اور اوبی سی آج بھی انصاف سے محروم ہیں۔ قبائیلوں کے قدرتی وسائل کو چھین کر سرمایہ داروں کے حوالے کردئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بائیںبازو جماعتوں نے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لئے ہر وقت سرگرم رول ادا کیاہے اور مستقبل میںبھی ان سے یہی امیدیں وابستہ ہیں۔ ٹی ویرا بھدرم نے سماجی انصاف کے لئے سی پی ائی ایم کی جانب سے تلنگانہ میںکی گئی پارٹی کی چار ہزار کیلومیٹر کی پیدل یاترا کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سی پی ائی ایم تلنگانہ میںہمیشہ پسماندگی کاشکار طبقات کی فلاح وبہبود کے لئے سرگرم عمل رہی ہے۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے تریپورہ میں بی جے پی کے اقتدار میںآنے کے بعد جس قسم کے حالات پیدا ہوئے اس کے بعد قومی سطح پر بہوجن او ر لفٹ اتحاد وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہاں پر جارج بش نے صدام حسین کے مجسموں کو توڑ ا اور یہاں تریپورہ میں مودی او رامیت شاہ نے لینن کے مجسموں کو توڑ کرثابت کردیا کہ وہ بھی جارج بش کی طرح غرور اور تکبر کی سیاست کے عادی ہیں۔ صدر ایم بی ٹی مجید اللہ خان نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایوان پارلیمنٹ میںسب سے پہلے آواز اٹھانے والی کوئی سیاسی جماعت تھی وہ بائیںبازوں کی جماعتیں تھیں۔ لفٹ نظریات کے حامل سیاسی جماعتوں نے ملک میںجمہوریت کی بقاء کے لئے کافی اہم رول ادا کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دلت اور مسلمانوں کے اتحاد سے یقینی طور پر سیاسی انقلاب برپا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT