Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبرؓ کا

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبرؓ کا

حبیب محمد بن عبداللہ رفیع المرغنی
ایک باکمال استاد کہ جو بہت سی خوبیوں کا جامع ہوتا ہے ۔اپنے جس شاگرد میں جس خوبی کی ممتاز صلاحیت پاتا ہے اسی خوبی میں اس کو باکمال بناتا ہے ۔جس میں فقیہ بننے کی زیادہ صلاحیت پاتا ہے اسے فقیہ بناتا ہے ،جس میں مقرر بننے کی صلاحیت واضح ہوتی ہے اسے کامیاب مقرر بناتا ہے اور جس میں مصنف بننے کی صلاحیت واضح ہوتی ہے اسے باکمال مصنف ہی بناتا ہے۔
تو معلم کائنات آقا و مولیٰ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰﷺ نے اپنے جس صحابی میں جس خوبی کی ممتاز صلاحیت پائی اسی وصف خاص میں اسے کامل بنایا ۔لہٰذا اپنے پیارے صحابی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں صدیق بننے کی صلاحیت کو واضح طور پر محسوس فرمایا تو اسی وصف میں ان کو ممتاز و کامل بنایا اور صدیق ہونا ایسا وصف ہے جو بہت سی خوبیوں کا جامع ہے اور اس وصف خاص کے سب سے زیادہ مستحق صرف حضرت ابو بکر صدیق   رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی تھی اسی لئے وہ اس سے سرفراز فرمائے گئے ۔
رفیق نبوت، پیکر صداقت، صوفی امت، چراغ رشد و ہدایت حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اسم گرامی عبداللہ، کنیت ابوبکر، لقب صدیق اور عتیق تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام عثمان اور کنیت ابوقحافہ تھی جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام سلمیٰ تھا اور ام الخیر کی کنیت سے پکاری جاتی تھیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاتی ہیں:عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ اسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ’’ابوبکر‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
عربی زبان میں ابو کا معنی ہے ’’والا‘‘ اور ’’بکر‘‘ کے معنی ’’اولیت‘‘ کے ہیں۔ پس ابوبکر کے معنی ’’اولیت والا‘‘ ہے۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اسلام لانے، مال خرچ کرنے، جان لٹانے، الغرض امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہر معاملے میں اولیت رکھتے ہیں اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر (یعنی اولیت والا) کہا گیا۔(مراة المناجيح، مفتی احمد يار خان نعيمی)
سیرت حلبیہ میں ہے کہ ’’آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر اس لئے ہے کہ آپ شروع ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے‘‘۔
آپ رضی اللہ عنہ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں: عتیق ،صدیق۔
عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، نبی کریم ﷺ  نے انہیں فرمایا: اَنْتَ عَتِيْقٌ مِنَ النَّار ’’تم جہنم سے آزاد ہو‘‘۔ تب سے آپ ؓ کا نام عتیق ہوگیا۔ (صحيح ابن حبان، کتاب اخباره عن مناقب الصحابة)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھی، رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام علیہم الرضوان صحن میں  تشریف فرما تھے۔ اچانک میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا:’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکر کو دیکھ لے‘‘۔(المعجم الاوسط، من اسمه الهيثم)
آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا‘‘۔(الاصابة فی تمييز الصحابة)

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو آپ ﷺ نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو بیان فرمایا، مشرکین دوڑتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓکے پاس پہنچے اور کہنے لگے:
’’کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ انہوں نے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کی؟‘‘
آپ ؓ نے فرمایا: کیا آپ ﷺنے واقعی یہ بیان فرمایا ہے؟
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اگر آپ ﷺنے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقینا سچ فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں‘‘۔
انہوں نے کہا: ’’کیا آپ اس حیران کن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’جی ہاں! میں تو آپ ﷺ کی آسمانی خبروں کی بھی صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب والی بات ہے‘‘۔(المستدرک علی الصحيحين)
پس اس واقعہ کے بعد آپ ؓصدیق لقب سے مشہور ہوگئے۔
قبول اسلام : حضرت سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام آسمانی وحی کی مانند تھا، وہ اس طرح کہ آپ ملک شام تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے، وہاں آپ نے ایک خواب دیکھا، جو ’’بحیرا‘‘ نامی راہب کو سنایا۔
اس نے آپ سے پوچھا: ’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘
فرمایا: ’’مکہ سے‘‘۔ اس نے پھر پوچھا: ’’کون سے قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘ فرمایا: ’’قریش سے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا کرتے ہو؟‘‘ فرمایا: تاجر ہوں۔
وہ راہب کہنے لگا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو سچافرمادیا تو وہ تمہاری قوم میں ہی ایک نبی مبعوث فرمائے گا، اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے اور وصال کے بعد اس کے جانشین۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھا، کسی کو نہ بتایا اور جب سرکار دو عالم ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ ؐ نے یہی واقعہ بطور دلیل آپ ؓ کے سامنے پیش کیا۔ یہ سنتے ہی آپ نے حضور نبی اکرم ﷺکو گلے لگالیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں‘‘۔(الرياض النضرة، ابوجعفر طبری)
ازواج اور اولاد: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ازواج (بیویوں) کی تعداد چار ہے۔ آپ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کئے اور دو مدینہ منورہ میں۔ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے:حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اُن سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح ام رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے ہوا۔ ان سے ایک بیٹے حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید سے کیا۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ      ام کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔
آپ ؓنے چوتھا نکاح سیدہ اسماء بنت عمیس سے کیا۔ یہ حضرت سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، جنگ موتہ کے دوران شام میں حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے آپؓکے بیٹے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کرلیا۔ اس طرح آپ کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔ (الرياض النضرة، امام ابو جعفر طبری)

TOPPOPULARRECENT