Thursday , December 14 2017
Home / Mera Column / بیتے ہوئے دنوں کی کچھ یادیں

بیتے ہوئے دنوں کی کچھ یادیں

میرا کالم سید امتیاز الدین
جب آدمی کی عمر زیادہ ہونے لگتی ہے اور اُس کو باہر گھومنے سے زیادہ گھر میں رہنے میں عافیت نظر آنے لگتی ہے تو اُسے بیتے ہوئے دن یاد آنے لگتے ہیں۔ آج کل ہم بھی اُسی دور سے گزر رہے ہیں۔ پہلے شادیوں ، جلسوں اور مختلف تقاریب میں شوق سے شریک ہوتے تھے ۔ آج کل دعوت نامہ وارنٹ معلوم ہوتا ہے اور نہایت ادب سے معافی چاہ لینے میں ہی سکون معلوم ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر سن رسیدہ آدمی گوشہ نشین ہوجاتا ہے ۔ ہم اپنے سے زیادہ بعض معمر حضرات کو اپنے سے کہیں زیادہ فعال دیکھتے ہیں۔ اب اس کو کیا کیجئے کہ ہم کو گوشہ نشینی زیادہ راس آتی ہے ۔ گوشہ نشینی میں اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو یادوں کا ایک کاروان سا دماغ کے نہاں خانوں کو روشن کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ آج بھی کالم کیلئے کوئی موضوع تو نہیں مل رہا ہے لیکن پرانی یادیں دماغ میں گھوم رہی ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ انہی یادوں کو آپ کی خدمت میں بیان کردیں۔
جب ہم نے بی ای الیکٹریکل کا امتحان کامیاب کیا تو ہماری دعوتیں بہت ہوئیں۔ قریبی عزیزوں نے پھول پہنائے ، تحفے تحائف دیئے لیکن ایک آدھ ہفتے کے اندر ہی ہم کو اندازہ ہوگیا کہ ملک میں الیکٹریکل انجنیئرس کیلئے ملازمتیں ایسی کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ ہم ہر روز نہایت غور سے اخباروں میں اپنے مطلب کی نوکری تلاش کرنے اور اگر کہیں کوئی ڈھنگ کا اشتہار دکھائی دیتا تو بڑے اہتمام سے درخواست بھیجتے۔ درخواست بھیجنے کے بعد اشتیاق اور انتظار کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا لیکن کوئی امید افزاء صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔ ہمارے لئے طمانیت کی ایک بات صرف اتنی تھی کہ ہمارے پکے دوست معین الزماں بھی ہماری طرح بیروزگار تھے اور جہاں جہاں ہماری درخواستیں گئی تھیں۔ وہاں اُن کی درخواستیں بھی گئی تھیں اور ہم دونوں انتظار اور مایوسی کی ایک جیسی کیفیت سے گزر رہے تھے ۔ ایک دن اچانک انہوں نے بتایا کہ اُن کی رسائی مرکزی وزیر برقی ڈاکٹر کے ایل راؤ تک ہوگئی ہے اور انہیں حکومتِ ہند کے سنٹرل واٹر اینڈ پاور کمیشن میں ڈھائی سو روپئے ماہانہ کے وظیفے پر دہلی میں ٹریننگ کیلئے منتخب کرلیا گیا ہے آج ڈھائی سو روپئے ایک متوسط درجے کے آدمی کا ایک دن کا خرچ بھی نہیں ہے لیکن یہ ہم 1969 ء کی بات کر رہے ہیں جب یہ اچھی خاصی رقم سمجھی جاتی ۔ ہم کو اس خبر سے انتہائی تکلیف ہوئی کیونکہ اب ہم کو ا پنی بیروزگاری کا احساس اور بھی ستانے لگا۔

ہم نے اپنے بڑے بھائی شاذ تمکنت سے کہا کہ مخدوم کی جان پہچان یقیناً ڈاکٹر کے ایل راؤ سے ہوگی ۔ کیوں نہ ہم مخدوم کے ذریعہ سے کوشش کریں ۔ توقع کے برخلاف مخدوم صاحب نے کہا ’’میں کے ایل راؤ کو بالکل نہیں جانتا‘‘۔ میرے بڑے بھائی نے کہا کہ ’’آپ بھلے ہی کے ایل راؤکو نہ جانتے ہوں لیکن کے ایل راؤ آپ کو جانتے ہوں گے ۔ اس پر مخدوم ہنس پڑے اور انہوں نے میری درخواست اور بعض ضروری سرٹیفکٹ کی نقول لے لیں اورکہا کہ وہ ایک ہفتے کے بعد دہلی جارہے ہیں اور وہاں ڈاکٹر کے ایل راؤ سے ملنے کی کوشش کریں گے ۔ قصہ مختصر مخدوم نے کے ایل راؤ سے ملاقات بھی کرلی اور آٹھ دس دن کے اندر ہمارا بھی کام بن گیا ۔ اس طرح اپریل 1969 ء میں ہم دہلی میں گورنمنٹ آف انڈیا کے ٹریننگ پروگرام میں شریک ہوگئے ۔ مخدوم نے کے ایل راؤ کو شکریے کا خط بھیجا تو انہوں نے بڑی شرافت سے جواب میں لکھا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے شکریے کا مستحق اسی وقت سمجھوں گا جب میں امتیاز الدین کو اپنے محکمے میں مستقل نوکری دلاؤں گا۔
دہلی کی زندگی حیدرآباد سے بالکل مختلف تھی ۔ ہم رات کا کھانا جامع مسجد کے پاس کریم ہوٹل میں کھاتے تھے اور بمشکل تین روپئے میں ایک وقت کا کھانا ہوجاتا تھا۔

دہلی کے قیام کے دوران ایک یادگار واقعہ ہوا ۔ جون 69 ء میں سری نگر کشمیر میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ ہوا جس میں شرکت کیلئے مخدوم صاحب ، شاذ صاحب اور وحید اختر صاحب آئے ۔ ٹرین صبح دہلی میں رکتی تھی اور شام میں پٹھان کوٹ کیلئے دوسری ٹرین لینا پڑتا تھا ۔ پٹھان کوٹ سے سری نگر بس کا سفر ہوتا تھا ۔ مخدوم نے میرے بڑے بھائی سے کہا کیوں نہ امتیاز کو بھی ساتھ لے لیں‘‘۔ ہم نے بھاگم بھاگ پٹھان کوٹ کا ٹکٹ لے لیا اور شریک سفر ہوگئے ۔ مخدوم کی پر لطف گفتگو اوران کے برجستہ لطیفوں سے سفر نہایت دلچسپ ہوگیا تھا ۔ اس مشاعرے میں فراق گورکھ پوری ، خلیل الرحمان اعظمی، شہریار ، جگن ناتھ آزاد ، سکندر علی وجد اور بہت سے شاعر شریک تھے ۔ شاعروں کا قیام سری نگر کے ٹورسٹ ریسپشین سنٹر میں تھا۔ مخدوم صاحب ، شاذ صاحب اور وحید اختر صاحب کو جو کمرہ الاٹ ہوا تھا وہ اتنا بڑا تھا کہ اس میں آسانی سے چار پانچ لوگ رہ سکتے تھے پلنگ بھی عمدہ تھے اور اتنی دبیز قالین بچھی ہوئی تھیں کہ فرش کی ٹھنڈک معلوم ہی نہ ہوتی تھی ۔ کھانا وہاں ذرا مہنگا تھا ۔ اس لئے سب شعراء کچھ فاصلے پر دھابوں میں کھانے کیلئے چلے جاتے تھے ۔ فراق صاحب کو ایک شاعر عادل منصوری اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور سستے سے سستا دھابہ ڈھونڈتے تھے ۔ فراق صاحب نے عادل منصوری کا نام کم خرچ بالانشین رکھ دیا تھا ۔
کشمیر کے اس سفر کی ایک ناخوشگوار یاد بھی ہے ۔ ایک بار مخدوم، شاذ ، تمکنت ، وحید اختر اور یہ ناچیز رات کا کھانا کھاکر ٹورسٹ سنٹر لوٹے تو دیکھا کہ بعض شعراء خلیل الرحمن اعظمی اور شہریار کو بہت سنبھال کر باہر لارہے ہیں۔ دونوں یعنی خلیل صاحب اور شہریار بے حد غصے میں لگ رہے تھے ۔ یہ لوگ ریسپشین سنٹر میں نہیں ٹھہرے تھے بلکہ کمال احمد صدیقی کے ہاں ان کا قیام تھا ۔ ہم خلیل صاحب اور شہریار کے قریب پہنچے تو خلیل صاحب شاید فراق صاحب کے بارے میں کہہ رہے تھے ’وہ شاعری کیا جانے۔ میں اُس پر مضمون لکھ کر اس کی وقعت بتادوں گا‘‘۔ وحید اختر اور شاذ صاحب بھی تجسس اور تشویش کے عالم میں شعراء کے اُس گروپ میں شامل ہوگئے ۔ میں بھی رکنا چاہتا تھا لیکن کمرے کی کنجی میرے پاس تھی اور مخدوم نہایت تیزی سے ان شعراء کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑ ھ گئے تھے ۔ میں نے بھی آگے جاکر کمرے کا دروازہ کھول دیا ۔ مخدوم نہ صرف فوراً کپڑے تبدیل کر کے لیٹ گئے بلکہ مجھ کو بھی باہر جانے سے منع کردیا ۔ دوسرے دن اس جھگڑے کی تفصیل معلوم ہوئی ۔ سنا ہے کہ بعض مہمان شعراء فراق صاحب کے کمرے پر جمع ہوئے تھے اور ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد ایک غیر رسمی محفل شعر شروع ہوگئی ۔ ا بتداء میں فراق صاحب اپنا چیدہ چیدہ کلام سناتے رہے ، کافی دیر کے بعد وہ خاموش ہوئے تو دوسرے شعراء نے یکے بعد دیگرے اپنا کلام شروع کیا ۔ فراق صاحب بجائے اس کے کہ دوسروں کو سنتے پلنگ پر لیٹ گئے اور آہستگی سے لحاف اوڑھ لیا ۔ یہاں تک تو شعراء نے برداشت کیا لیکن جب خلیل الرحمن اعظمی نے اپنی غزل شروع کی تو فراق صاحب نے لحاف کے اندر ہنسنا شروع کیا ۔ خلیل صاحب کو ناگوار گزرا اور انہوں نے تلخ لہجے میں پوچھا فراق صاحب آپ کیوں ہنس رہے ہیں‘‘۔ فراق صاحب نے کہا ’’ایسی شاعری پر اگر نہ ہنسوں تو اور کیا کروں‘‘۔ اس کے بعد جھگڑا شروع ہوگیا جس کا آخری سین ہم نے دیکھا تھا جب شعراء خلیل صاحب کو لے کر باہر آگئے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد شعراء میں ایک طرح کی رنجش پھیل گئی تھی لیکن خاص بات یہ رہی کہ مخدوم نے فراق صاحب کا بہت لحاظ کیا ۔ انہوں نے تمام شعراء کو فراق صاحب کا احترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کی ۔ اگر مخدوم اس وقت وہاں نہ ہوتے تو بڑی بدمزگی ہوجاتی ۔ یہ مخدوم سے میری آخری ملاقات تھی کیونکہ اگست 1969 ء میں مخدوم کا دہلی میں اچانک انتقال ہوگیا ۔ آج نہ جانے کیسے یہ پرانی باتیں یاد آگئیں۔ ہم نے سوچا انہی یادوں سے کالم بنادیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT