Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے ٹرمپ کا فیصلہ

یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے ٹرمپ کا فیصلہ

 

مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کا امریکہ پابند: ٹلرسن ،عالم اسلام کی ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت

بروسلز۔ 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیرخارجہ امریکہ ریکس ٹلرسن نے آج کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی منصوبہ پر عالمی برہمی نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کے پابند رہیں گے۔ ٹلرسن نے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کو ایک نادر موقع سمجھتا ہے۔ ٹرمپ کے یروشلم کے بارے میں فیصلہ پر عالمی برہمی نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں یروشلم پر اپنے حق کا ادعا کرتے ہیں۔ چنانچہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلہ سے امن مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں۔ استنبول سے موصولہ اطلاع کے بموجب ترک حکومت نے آج ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ اگر یروشلم کو اسرائیل کے لیے دارالخلافہ کے طور پر اعلان کرتا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ مشرق وسطی کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کررہا ہے جو انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ نائب وزیراعظم اور حکومت کے ترجمان باقر بوزاغ نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا نیا دارالخلافہ تسلیم کئے جانے سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ ساری دنیا آگ میں جھونک دیئے جانے کے مترادف ہے اور یہ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ تباہی کہاں جاکر رکے گی۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ امریکہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم ہر ایک کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا اور دنیا میں ہر طرف افراتفری، سیاسی بے چینی اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس سے حالات اس قدر ناخوشگوار ہوجائیں گے جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

تہران سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایرانی صدر حسن روحانی نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبہ پر اپنے امریکی ہم منصب کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر تہران میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو اس خطرناک سازش کیخلاف متحدہ طور پر کھڑا ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تقدس کی پامالی کو ایران ہرگز برداشت نہیں کریگا۔ انہوں نے اس مسئلہ پر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی طرف سے 13 ڈسمبر کو طلب کردہ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کی خصوصی چوٹی کانفرنس میں شرکت سے اتفاق کیا۔ ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’عالم اسلام اس سازش کیخلاف اٹھ کھڑا ہوگا ۔ صیہونیوں کو دھکا لگے گا اور فلسطین آزاد ہوگا‘‘۔ روحانی نے اردغان سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کے فیصلہ کو ناجائز ، اشتعال انگیز اور انتہائی خطرناک قرار دیا۔ اسلام آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستان نے آج متفقہ طور پر اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرنے کی مخالفت کی اور امریکہ سے کہا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہے، جس سے ’’مقبوضہ‘‘ شہر کا تاریخی اور قانونی موقف متاثر ہوتا ہو۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہیکہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو امریکہ کے سفارتخانہ یروشلم تبدیل کرنے پر شدید تشویش ہے۔ ایسا کوئی اقدام واضح طور پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہ

وگی۔

TOPPOPULARRECENT