Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / بیت المقدس کی سیاسی تاریخ سے حیدرآبادیوں کی واقفیت ضروری

بیت المقدس کی سیاسی تاریخ سے حیدرآبادیوں کی واقفیت ضروری

یروشلم پر امریکی فیصلہ کی مذمت، اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ پر زور، فلسطینی تنظیم کے نمائندہ اپوروا کا اجلاس سے خطاب اور جناب زاہد علی خاں سے بات چیت

حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) فلسطین اور بیت المقدس (یروشلم )کے امور کو شہریان حیدرآباد اپنی محفلوں کے دوران تذکرہ میں رکھیں اور ان کے متعلق معلومات کو عام کریں تاکہ فلسطین کے سیاسی و تاریخی پس منظر سے عوام واقف ہوں اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر ردعمل ظاہر کریں۔ فلسطین و یروشلم کے سیاسی پس منظر کو مذہبی حد تک محدود کرتے ہوئے اس مسئلہ کو ہندستانی عوام سے غیر متعلق قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فلسطینی قومی تنظیم بائیکاٹ ‘ ڈائیوسٹمنٹ ‘ سینکشن کی جنوبی ایشیاء کو آرڈینیٹر محترمہ اپوروا نے آج شہر میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران یہ بات کہی۔انہوں نے بتایاکہ اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کے ذریعہ اسرائیلی معیشت کو ضرب پہنچانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اور اسی طرح سے اسرائیلی جارحیت اور من مانی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر یروشلم کو امریکہ نے قبول کرنے ہوئے خطہ میں بدامنی پھیلانے کے علاوہ اس علاقہ کے عوام کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی ہے۔ محترمہ اپوروا نے ’’لا مکاں ‘‘ میں منعقدہ اس اجلاس کے دوران بتایا کہ بی ڈی ایس کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اسرائیلی اشیاء کے مقاطعہ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ یروشلم تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے اور اس شہر پر حقوق کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی قرار داد موجود ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اس علاقہ کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا جانا نا قابل قبول ہے اور اقوام متحدہ سیکیوریٹی کونسل نے امریکہ کے اس اعلان کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس مسئلہ پر ہندستان کا موقف اسرائیل کی بالواسطہ حمایت کررہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند کے اسرائیل سے تعلقات گہرے ہوتے جا رہے ہیں جو ہندستان کے موقف کے منافی ہے۔

محترمہ اپوروا نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے متعلق ہندستانیوں کی جانب سے نظرانداز والی پالیسی کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ہندستان کے اسرائیل سے تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ہندستان میں تین شعبوں میں کافی سرگرم ہے جن میں زرعی شعبہ کے علاوہ آبپاشی اور دفاعی شعبہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں اسرائیلی سرگرمیوں کے باوجود بھی ان شعبوں میں کوئی خاطر خواہ ترقی کی مثالیں پیش نہیں کی جاسکتیں جبکہ ہندستانی تاجرین کو کروڑہا روپئے کے نقصان ہورہے ہیں۔ اپوروا نے قبل ازیں دن میں جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان سے ملاقات کرتے ہوئے فلسطین کی موجودہ صورتحال اور عالمی سطح پر جاری بی ڈی ایس کی تحریک کے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ اسرائیل انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم بی ڈی ایس کو مجرمانہ سرگرمیوں کی حامل قرار دینے کی کوشش کر رہاہے جبکہ بی ڈی ایس کی جانب سے عوام میں اسرائیلی قبضہ اور انسانیت کے خلاف جاری مجرمانہ سرگرمیوں کو آشکار کرتے ہوئے شعور اجاگر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔

انہوں نے فلسطینی کاز کیلئے اسرائیلی اشیاء کے مقاطعہ کی تحریک کو اداراہ سیاست کی حمایت کی توقع ظاہر کی جس پر ایڈیٹر سیاست و نیوز ایڈیٹر سیاست نے مظلوم فلسطینی عوام کے مفادات اور ان کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں ممکنہ تعاون کا تیقن دیا۔ محترمہ اپوروا نے کہا کہ ہندستان میں ریاست تلنگانہ بھی تیزی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے اسرائیلی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے علاوہ اسرائیلی پالیسیوں کو اختیار کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہا ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے اسرائیل سے تعلقات میں بہتری کا مقصد آبپاشی اور زرعی سرگرمیوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ اسرائیل دفاعی شعبہ میں بھی حیدرآباد میں موجود دفاعی اداروں کے ذریعہ اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔انہوں نے شہریان حیدرآباد سے اپیل کی کہ وہ اپنی نجی محفلوں اور برسرعام فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف تبادلہ خیال کریں اور اسرائیلی اشیاء کے مقاطعہ کو عام کرتے ہوئے معاشی ضرب لگائیں جس طرح 2014 کے دوران اسرائیل کے غزہ پر حملہ کے خلاف کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT