Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بیجا اسراف سماج و معاشرہ میں تباہی و بربادی کا باعث

بیجا اسراف سماج و معاشرہ میں تباہی و بربادی کا باعث

ورنگل میں سیاست و ایم ڈی ایف رشتوں کا دوبہ دو پروگرام، مولانا غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ ، شاہد مسعود اور جناب عابد صدیقی کا خطاب
ورنگل 14؍ فبروری (دکن نیوز) ادارہ سیاست میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم اور الفیضان ایجوکیشنل ویلفیر سوسائٹی کے زیر اہتمام آج سٹی فنکشن پیالیس ایل بی نگر ‘ ورنگل میں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں کے سلسلہ میں رشتوں کے انتخاب کے لئے والدین اور سرپرستوں کا 55 واں دوبہ دو ملاقات پروگرام آج شام نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا جس میں ورنگل شہر کے علاوہ مختلف اضلاع اور تعلقہ جات سے تعلق رکھنے والے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ورنگل میں یہ تیسرا دوبہ دو ملاقات پروگرام تھا جس میں کئی رشتے طئے پائے۔ دوبہ دو پروگرام میں لڑکوں کے 150 ‘ لڑکیوں کے 325 اور عقدثانی کے نئے 80 رجسٹریشن کروائے گئے ۔ ایم اے نعیم کنوینر نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار سے ورنگل میں سیاست ڈسٹرکٹ رجسٹریشن آفس قائم کیا جا رہا ہے جہاں والدین کو نہ صرف رجسٹریشن کی سہولت حاصل رہے گی۔  بلکہ وہ 11 بجے تا 2 بجے دن بائیو ڈاٹاس اور فوٹوز کا ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کوئی فیس اور معاوضہ نہیں لیا جائیگا ۔ قبل ازیں مولانا سید شاہ غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ سجادہ نشین درگاہ قاضی پیٹ ‘ جناب شاہد مسعود ایڈیشنل کمشنر بلدیہ ورنگل ‘  جناب حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ واڈیشہ نے جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف کے ہمراہ مختلف کاونٹرس پر پہنچ کر کونسلنگ کا معائنہ کیااور والدین سے تبادلہ خیال کیا ۔ دوبہ دو پروگرام کے سلسلہ میں تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے لڑکوں اور لڑکیوں کے علحدہ علحدہ کاونٹرس  بنائے گئے تھے جہاں کونسلرس اور والینٹرس کی رہنمائی میں والدین نے رشتوں کے انتخاب کے لئے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا ۔ عقدثانی کے لئے بھی علحدہ کاونٹر بنایا گیا تھا جہاں والدین کا ہجوم دیکھا گیا۔ الفیضان سوسائٹی کے کارکنان کے علاوہ ایم ڈی ایف کے عہدیدار محمد عبدالقدیر ‘ محمد نصر اللہ خان اور اراکین میں سید اصغر حسین ‘ ایم اے واحد ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق نے رشتوں کے انتخاب میں والدین کی رہنمائی کی ۔ اس پروگرام میں یونیمس ویلفیر سوسائٹی کے عہدیدار اورکارکنوں نے جہیز کی مانگ کرنے کی بناء پر ہونے والی شادیوں کا بائیکاٹ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے نعرے لگائے ۔ یہ کارکن بیانرس اور پلے کارڈس تھامے ہوئے نظر آئے ۔ اس موقع پر صدر جلسہ مولانا سید شاہ غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ نے شادیوں میں جاری لین دینا ‘ جہیز کی مانگ اور بیجا اسراف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح رسم و راج ہمارے معاشرے میں تباہی و بربادی کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ ریاستوں میں یہ لعنت جڑ پکڑ چکی ہے جس سے نجات پانے کی  ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا جناب زاہد علی خان صاحب ایڈیٹر سیاست کی قیادت میں جو تحریک اٹھی ہے وہ قوم و ملت کے لے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے ایک کھانا اور ایک میٹھا کا جو نعرہ دیا ہے وہ لڑکیوں کے والدین کے لئے فال نیک ہے ۔ انہوں نے  اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مسلم معاشرہ میں طلاق و خلع کے واقعات مسلم سماج کیلئے ناسور بنتے جا رہے ہیں۔ ضرورت  اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ میں ذہن سازی کا کام انجام دیا جائے ۔ انہوں نے بلا لحاظ مسلک تمام مسلم جماعتوں  سے اپیل کی کہ وہ مسلم رائے عامہ کو بیدار کرنے کا کام انجام دیں ۔ جناب شاہد مسعود ایڈیشنل کمشنر بلدیہ ورنگل نے کہا کہ شادیوں کو آسان بنانے کے سلسلہ میں سیاست کی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ مسلمانوں میں پیدا برائیاںاس قدر بڑھتی جا رہی ہیں کہ شادیوں کے لئے رشتے طئے کرنا مشکل ترین مسئلہ بن چکا ہے ۔ بعض  صورتوں میں مناسب لڑکوں کی تلاش کے چکر میں بچوں کی عمریں حد سے تجاوز کر گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات سے دوری کے باعث رشتوں کے انتخاب کا معیار بھی دولت اور خوبصورتی تک محدود ہوگیا ہے ۔ انہوں نے مسلم خواتین اور اصحاب سے اپیل کی کہ وہ نکاح کو آسان بنانے کے لئے نیک نیتی کے ساتھ رشتے طئے کریں۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے ۔ ماں باپ کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں اور ان کی اسلامی بنیادوں پر تربیت بھی کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جب وہ بڑے ہوجائیں تو ان کی بہتر ازدواجی زندگی کے لئے خوبصورت اور باکردار لڑکے و لڑکیوں کا انتخاب کریں اس سلسلہ میں دولت کی ہوس ‘ لالچ‘ جھوٹی شان سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نکاح پر کم سے کم خرچ ہو اس پر اللہ کی رحمتیں و برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔ انہوں نے والدین کو انتباہ دیا کہ وہ شادی بیاہ کے معاملات میں ادارہ جات پیامات کے استحصال سے بچیںکیونکہ یہ کاروباری ادارے محض پیسہ کمانے کے لئے ہوتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ مسلم شادیوں میں فضول خرچی نے ہماری معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ کئی لڑکیوں کے والدین سود لے کر شادی کے اخراجات پورا کرتے ہیں جبکہ سود لینا حرام قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی والوں سے جہیز کی مانگ کرنا بھی اسلامی نقطہ نظر سے حرام ہے ۔ انہوں نے اہلیان ورنگل سے اپیل کی کہ وہ  مسلم سماج سے غیر اسلامی رسم و رواج اور اسراف کا خاتمہ کرنے کے لئے سیاست کی تحریک سے وابستہ ہوجائیں ۔ ابتداء میں ایم اے نعیم نے خیرمقدم کیا ۔ دوبہ دو پروگرام کو کامیاب بنانے میں محمد اقبال علی ‘ محمد اظہرالدین ‘ محمد قادر پاشاہ (جرنلسٹ) محمد سراج احمد سکریٹری مسلم ویلفیر سوسائٹی ‘ مسعود مرزامحشر‘ اسماعیل ذبیح ‘ اقبال علی کوثر ‘ محمد چاند پاشاہ ‘ مرزا فتح اللہ بیگ ریاض ‘  محمد بابر ‘ محمد قادر علی ‘ شیخ اللہ نواز ‘ اور دوسروں نے سرگرم حصہ لیا ۔ قاری مربوط عالم کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ خواتین میں محترمہ زبیدہ بیگم سماجی کارکن ‘ ثمینہ بیگم ٹی آر ایس لیڈر نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ دوبہ دو پروگرام میں شہرورنگل کے مسلم قائدین ‘ معززین اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ 55 واں دوبہ دو پروگرام شام چار بجے اختتام کو پہنچا ۔

TOPPOPULARRECENT