Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / بیجا اسراف والی شادیوں میں شرکت نہ کرنے جناب زاہد علی خاں کا اعلان

بیجا اسراف والی شادیوں میں شرکت نہ کرنے جناب زاہد علی خاں کا اعلان

فضول خرچی سے ملت تباہی کا شکار

معاشرہ کو تباہی سے بچانے علماء ومشائخین سے عملی اقدامات کی درخواست ، اصلاحی اقدامات پر جمعیت القریش کی ستائش

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جولائی : ( نمائندہ خصوصی ) : شادیوں میں بیجا اسراف ، گھوڑے ، جوڑے کی لعنت اور بیجا رسومات کے نتیجہ میں آج ہزاروں لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں ۔ سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہورہا ہے ۔ ایسے بے شمار گھرانے ہیں جہاں غربت نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے ۔ ایسے میں ضعیف ماں باپ اپنی بیٹیوں کی شادی کی فکروں میں غرق ہو کر موت کی آغوش میں پہنچ رہے ہیں ۔ ملت میں جہاں بیجا اسراف اور لین دین کی لعنت نے زور پکڑا ہے وہیں ہم تعلیمی و معاشی لحاظ سے بھی انتہائی کمزور ہیں ۔ شادیوں میں جھوٹی شان و شوکت کے اظہار کی خاطر لوگ سودی قرض کے جال میں پھنستے جارہے ہیں ان حالات میں ایک فکر مند مسلمان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملت میں فروغ پا چکے اس خطرناک رجحان کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنے ۔ چنانچہ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے قوم و ملت کو اس سنگین مسئلہ پر جھنجھوڑنے کے لیے ان شادیوں میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں بیجا اسراف کیا گیا ہو ۔ جس میں بیجا رسومات کو جگہ دی گئی ہو جس شادی میں سامعہ نوازی اور آتشبازی کی جائے ۔ جناب زاہد علی خاں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ان شادیوں کا بائیکاٹ کریں جن میں فضول خرچی کی گئی ہو ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج صرف تلنگانہ یا ہندوستان میں ہی مسلمان پریشان نہیں ہیں بلکہ ساری دنیا میں مسلمان بہت ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو بیجا اسراف سے گریز کرنا چاہئے ۔

خاص طور پر مسلمان شادیوں کی تقاریب میں جس طرح کا خرچ کرتے ہیں اگر اس پر قابو پایا جائے ، سنت رسول ﷺ کے مطابق شادیاں کی جائیں تو معاشرہ بہ یک وقت کئی برائیوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے شادیوں کو سادگی سے انجام دینے پر زور دیتے ہوئے ملت اسلامیہ کو نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث پاک یاد دلائی جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس پر خرچ کم ہو ‘‘ ۔ ایڈیٹر سیاست کے مطابق مسلمان نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد پاک پر عمل کریں تو کسی گھر میں بن بیاہی بیٹیاں نہیں رہیں گی ۔ کسی ضعیف ماں باپ کے چہروں پر اداسی نظر نہیں آئے گی ۔ کسی بھائی کو اپنے بہنوں کی شادیوں کے لیے جہیز اور جوڑے کی رقم جمع کرنے کے لیے اپنا گردہ فروخت کرنا نہیں پڑے گا ۔ اس ضمن میں علماء و مشائخین اور اکابرین ملت کو آگے آنا ہوگا اگر وہ بیجا اسراف کی شادیوں کا بائیکاٹ شروع کردیں تو ملت کو ایک مثبت پیام جائے گا کیوں کہ معاشرہ پر علماء و مشائخین اور اکابرین کا گہرا اثر ہوتا ہے ۔ عملی اقدامات کے ضمن میں ایڈیٹر سیاست نے آل انڈیا جمعیت القریش حیدرآباد کی ستائش کی جس نے قریش برادری کو شادیوں میں ہونے والے بیجا اسراف سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں ۔ جمعیت القریش کے سربراہ الحاج محمد سلیم نے جو ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل بھی ہیں قریش برادری کو بیجا اسراف سے بچانے کے لیے کئے گئے اقدامات میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے اس ضمن میں جمعیت القریش اور محمد سلیم کی ستائش اور ان کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف تلنگانہ بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے جس کی تقلید کی جانی چاہئے ۔ واضح رہے کہ آل انڈیا جمعیت القریش حیدرآباد نے اپنے ایک اہم ترین اجلاس میں قریش برادری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی شادیوں میں صرف ایک کھانا اور ایک میٹھے کو لازم کرلیں ۔

 

بیجا رسومات بشمول سامعہ نوازی و آتشبازی سے گریز کریں اور اگر کوئی جمعیت القریش کی ان ہدایت کی خلاف ورزی کرے گا تو اس پر 50 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور برادری ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کرے گی ۔ جناب زاہد علی خاں کے مطابق یہ صرف قریشی برادری تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ سارے مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ تب ہی ہم اپنے کئی ایک مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے شادیوں میں سامعہ نوازی ، آتشبازی ، دولہوں کے تاخیر سے شادی خانے آنے ، مہمانوں کی ضیافت میں تاخیر کے رجحان پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تو مہمان بھی تاخیر سے آنے لگے ہیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ دولہے بہت تاخیر سے شادی خانہ پہنچ رہے ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست نے اردو اخبارات کی جانب سے موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لیے چلائی گئی تحریک کے حوالے سے بتایا کہ پھر سے ہمارے اردو اخبارات سیاست ، منصف ، رہنمائے دکن اور اعتماد شادیوں میں بیجا اسراف کے خلاف مہم چلائیں اور اس مہم میں بطور خاص علماء و مشائخ اور اکابرین کو شامل کریں تو ملت شادیوں میں بیجا اسراف اور بیجا رسومات سے محفوظ رہے گی اور ہم اپنی توجہ تعلیمی و معاشی پسماندگی دور کرنے پر مرکوز کرسکیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT