Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / بیدر میں ہجوم کے تشدد میں حیدرآبادی نوجوان ہلاک

بیدر میں ہجوم کے تشدد میں حیدرآبادی نوجوان ہلاک

بچوں کا اغواء کرنے کے شبہ میں تقریباً 100 دیہاتیوں کا حملہ ، دیگر 3 شدید زخمی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : کرناٹک کے ضلع بیدر میں ہجوم کے تشدد میں حیدرآباد کا ایک نوجوان ہلاک ہوا ۔ اس کے دیگر 3 دوست شدید زخمی ہیں ۔ جمعہ کی شام یہ 4 دوست حیدرآباد سے کرناٹک جارہے تھے ۔ ضلع بیدر میں مڑکی موضع کے قریب تقریبا 100 دیہاتیوں کے ہجوم نے انہیں بچوں کا اغواء کرنے کے شبہ میں زد و کوب کیا ۔ جن میں محمد اعظم نامی نوجوان برسر موقع ہلاک ہوگیا اور دیگر 3 افراد شدید زخمی ہوئے ۔ زخمیوں کو حیدرآباد کے خانگی دواخانہ میں شریک کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے ۔ اطلاع کے مطابق محمد اعظم ، اپنے دوستوں کے ہمراہ مڑکی موضع جارہے تھے اور راستے میں ایک موضع پر چائے پینے کے لیے ٹھہرے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کار میں سوار ان مسافرین نے بچوں کو چاکلیٹ دئیے ۔ یہ چاکلیٹ ان دوستوں میں سے ایک نئے خلیجی ملک قطر سے حال ہی میں لائے تھے ۔ دیہاتیوں نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ لوگ بچوں کا اغواء کرنے والے ہیں اور ان پر حملہ کردیا ۔
( باقی سلسلہ صفحہ ۔۔۔۔ پر )

یہ نوجوان کار میں فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے لیکن انہیں دوسرے موضع کے قریب روک دیا گیا اور ان پر دوبارہ حملہ کیا گیا ۔ اس سے پہلے کے پولیس وہاں پہونچتی محمد اعظم ہجومی تشدد کا شکار ہوگئے اور برسر موقع ہلاک ہوگئے ۔ دیگر 3 مسلم نوجوانوں کو بھی بری طرح زد و کوب کیا گیا ۔ ضلع بیدر کے تعلقہ اوراد میں پیش آئے اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ہجوم نے چار افراد کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان کی گاڑی کو الٹ کر اس میں سے انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا ۔ ایک پولیس ملازم کو ہجوم سے یہ اپیل کرتے ہوئے بھی سنا گیا کہ ان افراد کو زد و کوب نہ کریں ۔ کرناٹک میں اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ ہے ۔ پولیس نے 30 دیہاتیوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ زخمی 3 افراد کی طلحہ اسمعیل ، محمد سلمان اور محمد بشیر کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ محمد اعظم اسمعیل اور سلمان حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ محمد بشیر تعلقہ اوراد میں موضع ہندیکار کے متوطن ہیں ۔ بشیر جو حیدرآباد میں کام کرتے ہیں دوستوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور وہ کار میں ہندیکار جارہے تھے ۔ یہ واقعہ پیش آیا ۔ کار میں جانے والے ان نوجوانوں نے یلگت تانڈہ کے قریب دوکان پر رک کر چائے اور ریفرشمنٹ لینے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں اسکول کے چند بچے نظر آئے ان میں سے ایک نے بچوں کو چاکلیٹ دیئے جس کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا ۔ ملک بھر میں ہجومی تشدد کے اس طرح کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ مئی اور جولائی کے دوران ہی 14 علحدہ علحدہ واقعات میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد اعظم سافٹ ویر انجینئر تھے اور وہ ایرکنٹہ کے رہنے والے تھے ۔ ان کی نعش حیدرآباد لائی گئی اور شاہین نگر پہاڑی شریف کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT