Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ بھتہ ‘ ضعیفوں اور معذور ین کے پنشن میں اضافہ

بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ بھتہ ‘ ضعیفوں اور معذور ین کے پنشن میں اضافہ

(ٹی آر ایس کا انتخابی منشور)
کسانوں کو ایک لاکھ کا قرض معاف ‘ فصل کی امدادی رقم میں اضافہ‘ اعلیـ طبقات کیلئے دو کارپور یشن ‘ ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /16 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی انتخابات میں رائے دہندوں کو راغب کرنے کئی اہم وعدے کئے ہیں ۔ مکمل انتخابی منشور کی اجرائی سے قبل کے سی آر نے آج جزوی منشور جاری کیا جس میں بیروزگار نوجوانوں ‘ کسانوں ‘ خواتین ‘ پسماندہ طبقات اور اعلی طبقات کیلئے رعایتوں کا اعلان کیا گیا ۔ منشور کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے سی آر نے ٹی آر ایس کے دوبارہ برسراقتدار آنے پر بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016 روپئے بھتہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ضعیفوں اور معذورین کیلئے آسرا پنشن کو علی الترتیب 1000 اور 1500 روپئے سے بڑھاکر 2016 اور 3016 روپئے کرنے کا اعلان کیا ۔ آسرا پنشن کیلئے عمر کی موجودہ حد 65 سال کو گھٹاکر 57 سال کردیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد آسرا پنشن کی سہولت رہے ۔ چیف منسٹر نے رعیتو بندھو اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ایکر امدادی قیمت کو 4000 سے بڑھاکر 5000 کرنے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سال میں دو فصلوں کیلئے فی ایکر 10 ہزار روپئے ادا کئے جائیں گے ۔ کے سی آر نے کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرض کو مکمل معاف کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی کمیٹیوں میں شامل ارکان کو ماہانہ اعزازیہ دیا جائیگا ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی اسکیم جاری رہے گی اور دو لاکھ 60 ہزار مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔ اس اسکیم میں دو اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ اگر کسی غریب کے پاس اراضی موجود ہو تو حکومت اس پر ڈبل بیڈروم مکان تعمیر کرنے مالی امداد فراہم کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈی اور ویشیا طبقہ سے مسلسل نمائندگی کی جارہی تھی کہ ان میں موجود غریب افر اد کیلئے علحدہ کارپوریشن قائم کئے جائیں ۔ لہذا حکومت برسراقتدار آنے پر ریڈی کارپوریشن اور آریہ ویشیا کارپوریشن قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے ریاست میں فوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ ان یونٹس سے خواتین کے گروپس کو وابستہ کرکے انہیں روزگار فراہم کیا جائیگا ۔ خواتین کے گروپس فوڈ پروسیسنگ یونٹ میں غذائی اشیاء تیار کریں گے جن کی ملک بھر میں مارکٹنگ کی جاسکے گی ۔کے سی آر نے بتایا کہ منشور کمیٹی کو 3 ہزار سے زائد نمائندگیاں موصول ہوئیں ۔ منشور کی تیاری میں گزشتہ 4 برسوں کے تجربات کو پیش نظر رکھا گیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ منشور صرف سیاسی مقصد براری یا ووٹ حاصل کرنے نہیں ہے بلکہ نئے تلنگانہ میں عوام کی بھلائی ان کا اولین مقصد ہے ۔ ٹی آر ایس نے تلنگانہ حاصل کیا اور عوام کی بھلائی ہماری ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے چار برسوں کے دوران شروع کردہ اسکیمات کی تفصیلات بیان کی اور اسکیمات کی کامیابی کا حوالہ دیا ۔ کلیان لکشمی اور شادی مبارک کیلئے ابتداء میں 51 ہزار روپئے مقرر کئے گئے تھے ۔ دوسرے سال بی سی اور او بی سی طبقات کو اسکیم کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا جبکہ تیسرے سال امدادی رقم کو بڑھاکر 75 ہزار کیا گیا ۔ حکومت کے معاشی موقف میں بہتری کے بعد چوتھے سال امدادی رقم ایک لاکھ 116 روپئے کردی گئی ۔ گزشتہ چار برسوں میں مرکز سے ریاست کو ایک پیسہ اضافی حاصل نہیں ہوا ۔ سنٹرل ٹیکسیس کا جو حصہ ریاست کو ملنا ہے وہی جاری کیا گیا ۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ پر کوئی مہربانی نہیں کی اور مرکزی قائدین کے دعوے مضحکہ خیز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کی معاشی صورتحال آئندہ پانچ برسوں میں اسی طرح برقرار رہی تو ریاست کی آمدنی 10 لاکھ 30 ہزار کروڑ تک پہونچ جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت 40 لاکھ افر اد کو آسرا پنشن دیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ اس میں 8 لاکھ افراد کا اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جامع سروے کے تحت بیروزگار نوجوانوں کی تعداد کا اندازہ کیا گیا ہے ۔ یہ تعداد تبدیل ہوتی ہے لہذا حکومت نے بیروزگاری بھتہ کیلئے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے ۔ نئی حکومت میں جو بیروزگار ہونگے انہیں بھتہ دیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات کی ترقی کیلئے اسپیشل گروتھ انجن تیار کرنے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سفارشات پیش کردیگی ۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے 105 امیدواروں کا اعلان کیا جو مہم میں مصروف ہیں ۔ ٹی آر ایس امیدواروں کیلئے میدان صاف ہے اور عوام تک حکومت کے وعدے پہونچانے جزوی منشور جاری کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد عارضی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا اور سرکاری ملازمین کیلئے پے رویژن کمیشن پر عمل آوری کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کوئی ریاست ایسی نہیں جہاں تلنگانہ کی طرح عارضی ملازمین کی تنخواہیں ہوں جن میں ہوم گارڈ ‘ ودیا والینٹرس ‘ آنگن واڑی ورکرس ‘ میونسپل ایمپلائیز اور دوسرے شامل ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT