Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بیرونی زرمبادلہ کی آمدنی میں تیزی سے گراوٹ

بیرونی زرمبادلہ کی آمدنی میں تیزی سے گراوٹ

کیرالا ، آندھرا پردیش و تلنگانہ پر منفی اثرات ، غیر مقیم ہندوستانیوں کی واپسی اہم وجہ
حیدرآباد۔18اگسٹ (سیاست نیوز) ملک میں بیرونی زر مبادلہ کے ذریعہ آمدنی میں کمی تیزی سے ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اس کے سب سے زیادہ اثرات کیرالا ، تلنگانہ اور آندھراپردیش پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ریاست آندھراپردیش میں بیرونی زر مبادلہ کے ذریعہ آمدنی میں 15فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ قومی سطح پر مجموعی اعتبار سے 10فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں ابتر حالات اور غیر مقیم ہندستانیو ںکی تیزی کے ساتھ واپسی کے علاوہ ہندستانی روپئے کی قدر میں ہونے والے اضافہ کے سبب یہ کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ غیر مقیم ہندستانی جو دنیا کے ممالک میں خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے ملک کی معیشت کے استحکام میں تعاون کر رہے تھے انہیں اپنی ملازمتیں خطرہ میں محسوس ہونے لگی ہیں اورکئی ہندستانیوں کو جو عرصہ دراز سے خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں ملازمتوں سے برخواست کیا جانے لگا ہے جس کے سبب وہ ملک واپسی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں منظر عام پر آئی رپورٹ کے مطابق جاریہ سال کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر ریاست تلنگانہ و ریاست آندھرا پردیش کو بیرونی زمرمبادلہ کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں 15فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ غیر مقیم ہندستانیوں کا کہنا ہے کہ ہندستانی روپئے کی قدر میں بہتری کے سبب بھی بیرون زر مبادلہ کے ذریعہ ہونے والی آمدنی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ بیرونی زر مبادلہ روانہ کرنے والے ملازمین جو بیرونی کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہ اپنی ماہانہ یافت ہندستان روانہ کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ان کی اپنی کرنسی کی قدر مکمل حاصل نہ ہونے کی شکایات ہونے لگی ہیں کیونکہ روپئے کی قدر میں اضافہ کے سبب دیگر ممالک کی کرنسی کی قدر گھٹ چکی ہے اور وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کی کمائی ہوئی کرنسی کی بہتر قیمت حاصل ہو لیکن ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ہندستانی روپئے کی قیمت میں کوئی تیز گراوٹ کے خدشات نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کرنسی تنسیخ کے بعد سے ابھی تک بیرونی زر مبادلہ کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں کوئی بہتری پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ 8نومبر 2016 کے فیصلہ کے فوری بعد مجموعی اعتبار سے بیرونی زرمبادلہ کی آمدنی میں 50 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ قطر‘ کویت‘ عمان جو اب تک ہندستان کی مجموعی زر مبادلہ کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں 60 فیصد حصہ ادا کیا کرتے تھے ان ممالک میں غیر مقامی افراد کو ملازمتوں سے برخواست کئے جانے کے سلسلہ کے سبب زرمبادلہ کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی میں صرف اس خطہ سے 40فیصد تک کا اثر پڑا ہے۔امریکہ ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیاء ‘ لندن و دیگر مغربی ممالک تلنگانہ و آندھرا پردیش کو ہونے والی زر مبادلہ کے ذریعہ مجموعی آمدنی میں 22فیصد حصہ ادا کرتے ہیں اس میں بھی نمایاں فرق ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عالمی بازار کی مندی دور نہ ہونے کی صورت میں حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔بیرونی زر مبادلہ کے ذریعہ آمدنی پر ہونے والے اثرات کے بالوسطہ اثرات ہندستان کے دیگر شعبہ جات پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ منفی اثر رئیل اسٹیٹ شعبہ پر دیکھا جانے لگا ہے کیونکہ رئیل اسٹیٹ میں بیرون ملک خدمات انجام دینے والوں کی کافی سرمایہ کاری ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے ہیںاور اب تک اراضیات میں کی گئی سرمایہ کاری واپس لی جانے لگی ہے جس کے سبب رئیل اسٹیٹ شعبہ بھی تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT