Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / بیرونی سیاحوں پر حملے

بیرونی سیاحوں پر حملے

خدا بچائے کہ بدنام اُن کی عادت ہے
گیا ہے قوم کا پِندار ہاتھ میں اُن کے
بیرونی سیاحوں پر حملے
ہندوستان بین الاقوامی سطح پر ایک سیاحتی مقام کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے ۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بیرونی سیاح ہندوستان آتے ہیں۔ یہاں سیر و تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور بیرونی سیاحوں کی کثیر تعداد ہندوستان کی مہمان نوازی کی تعریف و ستائش کرتے نہیں تھکتی لیکن حالیہ وقتوں میں بیرونی سیاحوں پر حملوں کے واقعات میںاضافہ ہواہے ۔ بیرونی سیاحوں کی عصمت ریزی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہیں لوٹ کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں مارپیٹ بھی کی گئی ہے ۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن سے ہندوستان کا نام بیرونی دنیا میں متاثر ہونے لگا ہے ۔ ہندوستان کی شبیہہ بگڑ رہی ہے اور اس کا اثر لازمی طور پر ہندوستان کی سیاحتی صنعت پر بھی ہوسکتا ہے ۔ جب بیرونی سیاح ہندوستان کو آنے سے گریز کرینگے تو سیاحت کی صنعت متاثر ہوگی اور اس کے راست اثرات ملک کی معیشت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ ہندوستانی معیشت پہلے ہی کئی مسائل سے دوچار ہے ۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے اثرات کی وجہ سے ہندوستانی معاشی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہوگئی ہے ۔ ملک میں ملازمتوں اور روزگار کی شرح میں کمی آئی ہے ۔ بیروزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عوام کو مہنگائی کی وجہ سے بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اگر ایسی صورتحال میں ہندوستان کی سیاحتی صنعت متاثر ہوتی ہے تو پھر اس کے بھی مزید منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہی بات مرکزی و ملک کی تمام ریاستوں کی حکومتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ علاوہ ازیںہندوستان کی ایک روایتی شبیہہ رہی ہے ۔ ساری دنیا میں یہاں کی مہمان نوازی اور یہاں کے کلچر کی ایک منفرد شناخت تھی ۔ ہر کوئی یہاں کی روایات اور کلچر کا معترف رہا ہے ۔ خاص طور پر بیرونی سیاح ہندوستان آتے ہیں اور دوران سیاحت ہندوستانی روایات اور کلچر کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ لوگ خوشگوار یادیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ دراصل عملی طور پر ہندوستان کے سیاحتی سفیر بن جاتے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں دوسروں کو ہندوستان آنے کیلئے بالواسطہ طور پر ترغیب دیتے ہیں۔ اس حقیقت کا سب کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔
حالیہ عرصہ میں ایسے کچھ واقعات پیش آئے ہیں جو تشویش کا باعث ہیں۔ حالانکہ اب بھی یہ واقعات بہت محدود ہیں لیکن اس کے وسیع اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ بیرونی ممالک میں ہندوستان کی شبیہہ متاثر ہونے لگی ہے اور اس کا نہ صرف سیاحت پر بلکہ دوسرے امور پر بھی اثر ہوسکتا ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہندوستان میں تفریح کیلئے آنے والے سیاحوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ خوشگوار اور پرسکون انداز میں وقت گذار سکیں۔ ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی ورثہ سے لطف اندوز ہوسکیں اور ہندوستان کی روایتی مہمان نوازی اور یہاں کے عوام کی گرمجوشی کی خوشگوار یادیں اپنے ساتھ اپنے وطن واپس لے جاسکیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تازہ ترین واقعہ میں سوئیٹزرلینڈ کے ایک جوڑے کو محبتوں کے شہر آگرہ کے پڑوس میں فتح پور سیکری میں حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔تاج محل دنیا کے سات عجائبات میں شامل ہے اور ہندوستان آنے والے بیرونی سیاحوں کی اکثریت تاج محل کا دورہ کرتی ہے ۔ محبت کی اس نشانہ کو محویت کے عالم میں تکتی ہے اور اس کے حسن میں کھوجاتی ہے ۔ یہ لوگ جب اپنے ملکوں کو واپس ہوتے ہیں تو اسی حسن کو اس قدر موثر انداز میں بیان کرتے ہیں کہ دوسرے سیاح بھی ہندوستان آنے کیلئے بے چین ہوجاتے ہیں۔لیکن اسی شہر کے قریب ایک بیرونی جوڑے کو مار پیٹ کر ادھ موا کردیا گیا اور انہیں سڑک پر مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ۔ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ اترپردیش حکومت اور مرکزی حکومت نے بھی اس پر برہمی اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر میں بیرونی سیاحوں پر حملوں کے واقعات کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔ ایک منصوبہ تیار کرتے ہوئے خاص طور پر سیاحتی مقامات اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیوریٹی عملہ اور اہلکاروں کو متعین کیا جائے تاکہ شرپسندوں کو ان کے عزائم میں ناکام بنایا جاسکے ۔ سیاحتی مقامات پر غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ یہ عام ہوتی جار ہی ہیںا ور حکومتوں نے ان کو مسلسل نظر انداز بھی کیا ہے ۔ ان مقامات پر سکیوریٹی کے بندوبست صرف ضابطہ کی تکمیل تک ہوتے ہیں۔ انہیں مزید سخت اور موثر بناتے ہوئے یہاں آنے والے سیاحوں کی سکیوریٹی اور ان کے تحفظ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے چاہے یہ سیاح بیرونی ہوں یا خود ہندوستانی ہوں۔ حملوں کے ان واقعات کو روکنے کیلئے متعلقہ محکموں اور حکومتوں کو تفصیلی ایکشن پلان تیار کرتے ہوئے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT