Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بیرونی مارکٹ سے سونے کی خریدی پر پابندی کا امکان

بیرونی مارکٹ سے سونے کی خریدی پر پابندی کا امکان

صرافہ بازار میں خوف و دہشت کا ماحول ، تاجر پریشان ، مودی کچھ بھی کرسکتے ہیں

حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) 500اور 1000کے کرنسی نوٹ راتوں رات بند کرنے کے بعد مودی حکومت کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ان خدشات نے صرافہ بازار میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر رکھا ہے اور سونے کے تاجرین کا کہنا ہے کہ ماحول سازگار ہونے تک سونے کی تجارت کو منافع بخش یا بازار میں آئی مندی کو دور کیا جانا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت ہند بیرونی مارکٹ سے سونے کی خریدی یا زیورات کی درآمدات پر پابندی عائد کرسکتی ہے اسی طرح اس قیمتی دھات کی دیگر ممالک سے خریدی پر مکمل امتناع بھی ممکن ہے۔ ہندستان جو دنیا میں دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سونے کی طلب بہت زیادہ ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کیلئے اب تک صرافہ بازار کا انحصار مقامی خریداری کے علاوہ بیرونی خریداری پر ہوا کرتا تھا لیکن اب جبکہ کالے دھن پر لگام کسنے کی بات کی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں سونے کی درآمدات پر امتناع پر سختی سے عمل آوری شرو ع کردی جائے گی۔سونے کے تاجرین کا کہنا ہے کہ سونے کی جملہ طلب کا ایک تہائی حصہ کی رقومات کالے دھن سے ادا کی جاتی ہیں جن کا حساب کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ذرائع کے بموجب ہندستان میں سالانہ سونے کی طلب 1000ٹن تک پہنچ چکی ہے جس میں ایک تہائی قیمت غیر محصولاتی آمدنی کے ذریعہ ادا کی جاتی ہے اور اگر اس پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس کے صرافہ بازار کے ساتھ دیگر تجارتوں پر منفی اثرات رونما ہوں گے۔ نریندر مودی کی جانب سے صرف کرنسی نوٹ پر امتناع پر خاموش نہ بیٹھنے کے اعلان نے سونے کے تاجرین میں ہلچل پیدا کردی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ملک میں موجود سونا وزیر اعظم کا اگلا نشانہ ہوگا۔ سونے کے تاجرین کے درمیان جاری گفتگو کے مطابق گھریلو استعمال کے سونے کی درآمدات پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے اسی لئے خریدی میں احتیاط لازمی ہے۔ چینائی کے ایم این سی بلینس کے ڈائریکٹر مسٹر دمن پرکاش راتھوڑ نے بتایا کہ ملک میں جاری حالات کے دوران کوئی سیدھا اور قانون کے دائرے میں کام کرنے والا تاجر نئی خریدی اور اضافی خریدی پر توجہ نہیں کرے گا جبکہ آئندہ چند ماہ کے دوران ملک میں شادیوں کے موسم کا آغاز ہو نے جا رہا ہے۔ ماہرین کے بموجب قیمتی دھات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی جاریہ سال کے آخر یا آئندہ سال کے اوائل میں خیر نہیں ہوگی کیونکہ جب ملک میں یہ صورتحال پیدا ہوگی تو ایسے میں حکومت کالے دھن کو قیمتی دھات کی شکل میں اثاثہ بنا کر محفوظ کرنے والوں کو نشانہ بنائے گی۔ سرکاری ذرائع کے بموجب اس سلسلہ میں مشاورت جاری ہے لیکن ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں سونے کی بڑھتی طلب کے سبب غیرقانونی راستہ سے ملک میں پہنچ رہے سونے کو روکنے کیلئے مکمل امتناع کی صورت میں حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں اور سونے کے تاجرین کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے کسی بھی فیصلہ کے مضر اثرات تجارت پر مرتب ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ تاجرین 2تا3کیلو اضافی سونا خریدنے کے متعلق سونچ رہے ہیں لیکن وہ اس سلسلہ میں اگلے ایک تا دو ماہ کے دوران ہمت کرنے سے خود کو معذور تصور کر رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT