Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / بیرونی ممالک کے بینکوں میں کالادھن رکھنے والوں کو وزیرفینانس کا انتباہ

بیرونی ممالک کے بینکوں میں کالادھن رکھنے والوں کو وزیرفینانس کا انتباہ

وقت مقررہ کے اندر کالا دھن کا اعلان نہ کرنا سنگین نتائج کا موجب‘ ہندوستان میں بھی غیرقانونی دولت کا انبار
نئی دہلی ۔4اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام )  کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف سنگین نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ جن لوگوں نے حکومت کی مقررہ مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے بیرونی بینکوں میں پوشیدہ رکھے گئے اپنے کالے دھن کو منکشف نہیں کیا ہے انہیں سخت سزائیں دی جائیں گی ۔ جن لوگوں نے ٹیکس حکام کو اپنے کالے دھن کی تفصیلات پیش کی ہے ‘ اب وہ چین کی نیند سو سکتے ہیں ۔ انہوں نے ایچ ایس بی سی میں 6500کروڑ کی آمدنی کے جائزے اور حکومت کی فراہم کردہ سہولت کے درمیان منکشف 3770کروڑ روپئے کالے دھن کے درمیان فرق پایا جاتا ہے ۔ اس فرق کو عام معافی اسکیمات کے تحت آمدنی متصور نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ حکومت بہت جلد پیان کارڈ کی تفصیلات کو درج کرانے کا لزوم عائد کرے گی ۔ جب کبھی کھاتہ دار بینکوں سے مقررہ حد سے زیادہ رقومات نکالیں گے یا جمع کرائیں گے تو انہیں پیان کارڈ کی تفصیلات پیش کرنا ضروری ہوگا ۔یہ عمل اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ اندرون ملک کالا دھن کا پتہ لگایا جاسکے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے اندر ہی کالا دھن کا انبار ہے ۔ حکومت کالا دھن کو روکنے کیلئے پلاسٹک کرنسی بنانے پر غور کررہی ہے ۔

حکومت مختلف حکام کے ساتھ اس تبدیلی کیلئے اقدامات کرے گی  ۔ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ مدرا یوجنا کے تحت صنعت کاروں کو بینکوں کی جانب سے دیئے جانے والے قرضہ جات کو صرف اے ٹی ایم سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر فینانس نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں بڑے پیمانے پر ٹیکس رعایت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔ موجودہ حکومت کی پالیسی ٹیکس اسٹرکچر کے معاملہ میں معقولیت پسند ہے ۔ واجبی شراحوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا ۔ چھوٹی آمدنی رکھنے والوں کے ہاتھوں میں زیادہ سے زیادہ رقم ہوگی ۔ سماج کے تمام گوشوں کی جانب سے پلاسٹک کے نوٹ استعمال کرنے کو فروغ دیا جائے گا ۔ اپنے فیس بک پوسٹ میں ارون جیٹلی نے یہ بھی وضاحت کی کہ قبل ازیں بینکوں میں 6500 کروڑ کالا دھن ہونے کی اطلاع تھی لیکن 30ستمبر کالا دھن کی انکشاف کی مقررہ تاریخ کے دوران جملہ 3770کروڑ روپئے کالا دھن کا انکشاف ہوا ۔ 638 افراد نے اپنے کالا دھن کو ٹیکس حکام کے سامنے پیش کیا ۔ کالا دھن میں اتنے بڑے فرق کا سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس نے حکومت پر نکتہ چینی کی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے یوم آزادی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت بیرونی ملکوں میں رکھے گئے 6500کروڑ روپئے کو ہندوستان واپس لائے گی لیکن عوام نے 3770 کروڑ روپئے کا انکشاف کیا ہے ۔ عوام نے یہ اعلان حکومت کی فراہم کردہ سہولت کے ساتھ کیا تھا ۔ جن لوگوں نے حکومت کے مقررہ وقت کے اندر اپنے کالے دھن کا انکشاف کیا ہے ان پر کوئی مقدمہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔ اب اپنے کالے دھن کا انکشاف کرنے والے چین کی نیند سوسکتے ہیں ۔ نئے قانون کے تحت جو لوگ کالا دھن کا انکشاف کرنے میں ناکام ہوئے ہیں انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ سوئٹزرلینڈ نے بھی مختلف کیسوں میںمعلومات فراہم کرنے سے اتفاق کیا

مودی کو کالے دھن کی واپسی سے دلچسپی نہیں :لالوپرساد
پٹنہ ۔ /4 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے لالو پرساد نے وزیراعظم پر الزام عائد کیا کہ ان کا کالا دھن وطن واپس لانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ وہ صرف اپنے سرمایہ دار دوستوں کا تحفظ کررہے ہیں ۔
ہے۔

TOPPOPULARRECENT