Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / بیرونی یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے مسلم طلبہ کو امداد کی فراہمی کا آغاز کب ہوگا ؟

بیرونی یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے مسلم طلبہ کو امداد کی فراہمی کا آغاز کب ہوگا ؟

حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : ملک میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے درج فہرست طبقات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرتے ہوئے انہیں دونوں شعبہ میں مستحکم بنادیا ہے ۔ کمزور طبقات کو با اختیار بنانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر کسی کو اعتراض کرنے کی بھ

حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : ملک میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے درج فہرست طبقات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرتے ہوئے انہیں دونوں شعبہ میں مستحکم بنادیا ہے ۔ کمزور طبقات کو با اختیار بنانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر کسی کو اعتراض کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ملک کی ترقی کے لیے بلالحاظ مذہب و ملت تمام کا ترقی کرنا تعلیم یافتہ ہونا اور معاشی طور پر مستحکم ہونا از حد ضروری ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتیں چاہے وہ مرکز میں برسر اقتدار ہوں یا ریاستوں میں راج کررہی ہوں ۔ انہیں مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہاں وہ مسلم اقلیت کو صرف ووٹ بنک کی حیثیت سے استعمال کرتی ہیں حالانکہ یہ حکومتیں اور سیاستداں اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان تعلیمی لحاظ سے انتہائی پسماندہ ہیں ۔ ہندوستان کا کمزور سے کمزور طبقہ بھی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ جب کہ ملازمتوں میں مسلمانوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کو سیاسی جماعتوں نے ایک کھلونے کی طرح استعمال کیا ہے ۔

جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی حکومت تشکیل دینے والے کے سی آر نے بھی مسلمانوں سے کافی وعدے کئے انہیں ہتھیلی میں جنت دکھائی ، تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا لیکن ان وعدوں میں سے کوئی وعدہ بھی پورا نہیں ہوسکا ۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے ایک مسلم قائد کو عہدہ ڈپٹی چیف منسٹری پر فائز کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہم نے اپنے وعدہ کے مطابق ایک مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا ہے یہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا ایک مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے سے مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوگئے ۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 12 فیصد ہوگا ۔ تعلیمی اداروں خاص کر پیشہ وارانہ کالجس میں مسلم طلبہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ؟ کیا ریاستی بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لیے 1000 کروڑ روپئے سے زائد جو رقم منظور کی گئی اس کا بہتر انداز میں استعمال ہوا ؟ اگر ان نکات کو سوالات تسلیم کرلیا جائے تو ٹی آر ایس حکومت کے پاس ان کے کوئی جوابات نہیں ۔ بجٹ 2015-16 پیش کرتے ہوئے کے سی آر حکومت نے درج فہرست طبقات و قبائل سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی طرح بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں مسلم طلبہ کو بھی 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں اسمبلی میں ببانگ دہل کہا گیا تھا کہ حکومت بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے خواہاں مسلم طلبہ کو 10 لاکھ روپئے کی امداد منظور کرے گی

اور اس مقصد کے لیے 25 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ لیکن اس اعلان کے بعد سے آج تک اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔ پیشہ وارانہ کورس میں اعلی نمبرات حاصل کرنے والے بے شمار مسلم طلبہ جنہیں بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیز میں داخلے مل چکے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں اب وہ سوال کرنے لگے ہیں کہ آیا کے سی آر حکومت مسلم طلبہ کے ساتھ مذاق تو نہیں کررہی ہے ۔ ویسے بھی ہمارے ملک اور مسلمانوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ اقلیتوں کی بہبود کے لیے حکومتیں بادل نخواستہ دل پر پتھر رکھ کر بڑی مشکل سے اور مجبوراً ہزاروں کروڑ روپئے کے بجٹ تو مختص کردیتی ہیں لیکن کبھی بھی اس بجٹ کو مکمل طور پر خرچ نہیں کیا جاتا ہے اس طرح ہر سال بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ واپس چلا جاتا ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ بیرونی یونیورسٹیز میں اعلی تعلیم کے خواہاں مسلم طلبہ میں 99 فیصد ایسے طلبہ ہیں جن کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے کسی کے والد الکٹریشن کا کام کرتے ہیں تو کوئی ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ بعض ہونہار طلبہ کے والد خانگی اسکولوں میں ٹیچر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان بچوں کو امریکی ، برطانوی ، آسٹریلیائی ، نیوزی لینڈ ، سنگاپور ، جرمن اور دیگر یوروپی ممالک کی باوقار یونیورسٹیز میں داخلے مل چکے ہیں ۔ بس انہیں وہاں کی فیس کی ادائیگی کرنی ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے اس اسکیم پر یکم اپریل سے عمل آوری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ایک ماہ 14 دن کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی پہل نہیں کی گئی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدہ دار بھی کوئی قطعی جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ حکومت نے مسلم طلبہ کے لیے یہ اسکیم امبیڈکر اورسیز ودیاندھی (AVON) اسکیم کی بنیاد پر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اب محکمہ اقلیتی بہبود کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے جی او کی اجرائی عمل میں لائے تاکہ جاریہ تعلیمی سال سے ہی ہونہار مسلم طلبہ کو اس اسکیم سے بھر پور استفادہ کا موقع مل سکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT