Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / بیرون ریاستوں سے اشیاء کی منتقلی پر گہری نظر

بیرون ریاستوں سے اشیاء کی منتقلی پر گہری نظر

ای وے بل سسٹم پر عمل آوری اور جی ایس ٹی کو موثر بنانے کی ہدایت
حیدرآباد۔16مئی(سیاست نیوز) ریاست میں ای۔وے بل سسٹم پر مؤثر عمل آوری اور جی ایس ٹی کی وصولی کے عمل کو بہتر بنانے کیلئے ریاست کی تمام سرحدوں کے علاوہ اندرون ریاست اضلاع کو منتقل کئے جانے والے سامان پر گہری نظر رکھی جا نے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جی ایس ٹی حکام کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ ہو آئندہ 15 یوم کے دوران شاہراہوں اور بازاروں کے قریب گلیوں پر خصوصی نگاہیں رکھیں کیونکہ جس طرح سے جی ایس ٹی کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔جی ایس ٹی حکام کے مطابق شہر میں کئی مقامات سے مختلف اشیاء جس میں اشیائے ضروریہ کے علاوہ کپڑا‘ جوتے ‘ چپل‘ چمڑے سے تیار کی جانے والے اشیاء اور دیگر سامان غیر قانونی طور پر منتقل کیا جا رہاہے اور اس منتقلی میں مددگار ٹرانسپورٹرس کے خلاف کاروائی کا بھی منصوبہ تیا رکیا جاچکا ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق دیگر شہروں سے حیدرآباد کو مختلف اشیاء جو پہنچ رہی ہیں انہیں بازاروں کے قریب چھوٹی گاڑیوں میں منتقل کیا جا رہاہے اور شہر حیدرآباد سے جو ساز وسامان ریاست کے دیگر اضلاع کو پہنچایاجارہا ہے اس کے لئے بھی مختلف طریقہ کار اختیار کئے جا رہے ہیں جن میں سامان کی تعداد سے کم کے رسائد جاری کرنے کے علاوہ پیاک کئے گئے سامان میں دوسری اشیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے ٹیکس کی چوری کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوششوں کے باوجود جی ایس ٹی کی چوری میں تاجرین کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جو اشیاء ان تک پہنچ رہی ہیں ان اشیاء کی تیاری کے دوران ہی اس کی تفصیلات جی ایس ٹی حکام تک پہنچ جاتی ہے اسی لئے جی ایس ٹی حکام اس بات کی جانچ میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ کس طرح سے دھوکہ دہی کی کوشش کی جا رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ آئندہ دنو ںرمضان اور اسکولوں کی کشادگی کے ایام کے پیش نظر جی ایس ٹی حکام نے ہر مقام پر سختی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس دوران اسٹیشنری ‘ پرنٹنگ اشیاء کے علاوہ کپڑے ‘ جوتے‘ چپل اور دیگر اشیاء کی شہر سے ریاستوں کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات کو بھاری مقدار میں منتقلی عمل میں لائی جاتی ہے اور اس منتقلی کے دوران ہی اس بات کی جانچ ممکن ہے کہ ان اشیاء پر جی ایس ٹی ادا کیا جا چکا ہے یا چوری کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT