Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / بیرون ملک جمع ہندوستانی کالا دھن میں نمایاں کمی

بیرون ملک جمع ہندوستانی کالا دھن میں نمایاں کمی

مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کا ادعا ‘ صحافیوں کے کنسورشیم سے مدد حاصل ہونے کا تذکرہ
احمدآباد۔10جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ نریندرمودی حکومت کی کالا دھن کے خلاف گذشتہ دو سال کے دوران ’’ سرگرمی ‘‘ کے نتیجہ میں بیرون ملک جمع ہندوستانی کالا دھن اور غیرقانونی اثاثہ جات میں ’’ نمایاں کمی ‘‘ پیدا ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا آغاز G-20کے رکن ممالک نے ٹکنالوجی کی مداخلت کے ذریعہ کیا تھا ۔ تاہم اندرون و بیرون ملک کارروائی میں  مشکل پیداہوگئی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جی ۔20کے رکن ممالک نے عوام کے درمیان کالا دھن کے سلسلہ میں دہشت پھیل گئی ہے ۔ جن لوگوں کے بیرون ملک غیرقانونی اثاثہ جات ہیں وہ دہشت زدہ ہیں ۔ اگر 1947ء سے 2014ء تک کا جائزہ لیا جائے تو جو اقدامات کئے گئے ہیں کسی بھی طرح موجودہ حکومت کے گذشتہ دو سال کے دوران کئے ہوئے اقدامات کے مساوی نہیں ہوسکتے ۔ وہ ایک پروگرام میں تقریر کررہے تھے جس کا مقصد عوام کو حکومت کے آمدنی کی اعلامیہ اسکیم کے بارے میں عوام میں حساسیت پیدا کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ ٹیکس سے بچنے والوں کو ایک موقع فراہم کیا گیاہے تاکہ وہ اپنی غیر محسوب آمدنی کی تفصیلات کا انکشاف کریں اور اس کا 45فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کریں ۔یہ اسکیم 30ستمبر تک دستیاب رہے گی ۔ حالیہ رپورٹس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ بیرون ملک ہندوستان کے اثاثہ جات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ گذشتہ دو سال کی سرگرمی کو پیش نظر رکھیں تو وزیراعظم نریندر مودی نے جو پہلا فیصلہ کیا تھا وہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کو قبول کیا جائے اور ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے جس میں سپریم کورٹ کے دو سبکدوش جج شامل ہوں ۔ جیٹلی نے مزید کہا کہ حکومت کی اجتماعی کوششوں بشمول کالا دھن کے لئے ایک تعمیل کا موقع فراہم کرنے اور ایچ ایس بی سی کی بنیاد پر کارروائی کرنے سے بین الاقوامی کنسورشیم برائے صحافی اور پناما پیپرس کے انکشافات سے غیرقانونی دولت کو جو بیرون ملک جمع تھی وطن واپس لانے میں کافی مدد ملی ہے ۔کئی افراد کو مقدمات کا بھی سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT