Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / بیرون ملک ہندوستان کی امیج

بیرون ملک ہندوستان کی امیج

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
بیرون ملک ہندوستان کی امیج
رواداری اور سماجی مساوات کے مسئلہ پر بیرونی ممالک میں ہندوستان کی جو امیج برسوں سے رہی تھی وہ اب دھیرے دھیرے متاثر ہونے لگی ہے ۔ ہندوستان کو دنیا میں ایک باعزت مقام تھا اور ایسی نظر سے دیکھا جاتا تھا جس میں احترام ہوا کرتا تھا ۔ دنیا بھر میںہندوستان کی مثال دی جاتی تھی کہ یہاں کثرت میں وحدت ہے اور یہاں کئی مذاہب کے ماننے والے اور کئی زبانیں اور بولیاں بولنے والے ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہم کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور ایک دوسرے کی روایات اور اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں قدیم رہی ہے ۔ دنیا اسی روایت کی وجہ سے ہندوستان کو اس کی پسماندگی کے باوجود احترام کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور تھی ۔ اب جبکہ ہندوستان میں معاشی انقلاب کا دور چل رہا ہے ۔ ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔ دنیا بھر میںمعاشی بحران اور انحطاط کے باوجود ہندوستان کے معاشی حالات میں بہتری کا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر میں ہندوستان کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اکیسویں صدی ہندوستان کی صدی ہوگی ۔ تاہم جہاںمعاشی ترقی ہو رہی ہے اور معیشت کے معاملہ میں ہندوستان پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں وہیںرواداری اور سماجی انصاف کے معاملہ میںدنیا بھر میں ہندوستان کی امیج بگڑتی جا رہی ہے ۔ یکے بعد دیگرے پیش آنے والے واقعات نے ہندوستان کی سابقہ امیج کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے ۔ گذشتہ دنوں اترپردیش میں بیف کے مسئلہ پر اخلاق کے قتل کے نے ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا ۔ دنیا یہ سوال کرنے پر مجبور تھی کہ جانوروں کے حقوق کیلئے جس ملک میں باضابطہ ادارے کام کرتے ہیں وہاں انسانوں کا خون اتنا آسانی سے کس طرح بہایا جاسکتا ہے ۔ اب امریکہ میں حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے ایک ادارہ نے پرامن جہد کاروں کو نشانہ بنانے کے مسئلہ پر بھی سوال اٹھایا ہے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں حکومت کی جانب سے پرامن جہد کاروں کو سزا دینے کیلئے عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ عالمی سطح پر اس طرح کی رائے کا بننا ملک کے امیج کیلئے اچھی بات نہیں ہے ۔
امریکہ میں کام کرنے والے مختلف اداروں کی جانب سے ہندوستان میں پیش آنے والے حالات پر مسلسل تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ملک میںرواداری اور تحمل کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ اقلیتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کہیں بیف پر مسئلہ پیدا کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں انہیں ملک چھوڑ کر پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں کی عبادتگاہوں اور گرجوں میں آگ لگائی جا رہی ہے تو کہیں راہباوں کی عصمت ریزی کی جا رہی ہے ۔ کہیں گائے کا گوشت استعمال کرنے کی افواہ پر کسی بے گناہ کا قتل کیا جا رہا ہے تو کہیں سرکاری اداروں میں تک گھس کر وہاں کے مینو اور باورچی خانوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے ۔ یہ ایسے حالات ہیں جن کی وجہ سے بیرونی ممالک میں ہندوستان کی امیج مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ اخلاق کے قتل کے واقعہ نے سارے یوروپ اور مغربی دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا ۔ مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ میں اس واقعہ پر وہ تحریریں سامنے آئیں جو شائد ہندوستان میں بھی دیکھنے کو نہیں مل سکتیں۔ ان سارے حقائق کے باوجود ہندوستان میں حالات کو سدھارنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ بلکہ حکومت کے اشارے پر بعض گوشے تو ان سب حالات کی نفی کرنے میں مصروف ہیں اور کہتے ہیں کہ رواداری کا ماحول ہنوز برقرار ہے اور اس تعلق سے جو تشویش اور اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں۔ یہ حالات بیرونی ممالک میں ملک کے امیج کیلئے اچھے نہیں ہیں۔
اب امریکہ سے کام کرنے والے ادارہ نے جے این یو طلبا تنظیم کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ یہ واضح تاثر دیا گیا کہ ملک میں پرامن جہد کاروں کے خلاف ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور انہیں عجلت میںسزائیں دی جا رہی ہیں۔ ہندوستان بھر میں بھی کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت ملک میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے کسی طرح کے اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ حکومت کو اندرون ملک حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ بیرونی ممالک میں بھی ہندوستان کی امیج متاثر نہ ہونے پائے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہندوستان میں حالات کو بہتر بنایا جائے ۔ جب تک ملک میں سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف نہیں کیا جائیگا اور ان سے مساوات کا سلوک نہیں کیا جائیگا اس وقت تک بیرونی ممالک میں ملک کی امیج بہتر نہیں ہوسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT