بیرون ممالک حصول تعلیم کے خواہشمند طلبہ کو داخلہ سے قبل تحقیق کا مشورہ

گوئتھ زینٹرم و انڈیا ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا مذاکرہ، شرکاء کا خطاب
حیدرآباد۔ 17 نومبر(سیاست نیوز) بیرون ملک تعلیم کے حصول کے خواہشمند طلبہ کسی بھی جامعہ میں داخلہ سے قبل اس کے اکریڈیشن کے متعلق جانچ کریں اور کسی بھی ادارہ میں داخلہ حاصل کرنے سے گریز کریں۔ جرمنی ‘ فرانس اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کی رہنمائی کیلئے امریکی قونصل خانہ کے تعاون سے گوئتھ زینٹرم اور انڈیا ایجوکیشنل فاؤنڈیشن نے ایک مذاکرہ کا اہتما م کیا تھا اور اس مذاکرہ کے دوران شرکاء نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندستانی طلبہ کی بڑی تعداد امریکہ ‘ جرمنی اور فرانس کی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ امیتا دیسائی ڈائریکٹر گوئیتھ زینٹرم نے بتایا کہ جرمنی کی جامعات میں محققین کی بڑی تعداد اعلی تعلیم کے حصول میں کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریب 2.5لاکھ محققین جرمنی کی جامعات میں تحقیق کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جرمنی میں 400جامعات ہیں جہاں 1800 کورسس چلائے جاتے ہیںاور ان میں بیشتر کورسس انگریزی زبان کے ہیں جبکہ بعض کورسس جرمنی زبان میں بھی ہیں۔ امیتا دیسائی نے کہا کہ جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہندستانی طلبہ کی تعداد 1لاکھ50 ہزار 529 تک پہنچ چکی ہے جو کہ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے والے بیرونی طلبہ کی دوسری بڑی تعداد ہے جبکہ چین سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعداد ہندستانی طلبہ سے زیادہ ہے۔ پیا بہادر ریجنل آفیسر یونائیٹیڈ اسٹیٹ انڈیا ایجوکیشنل فاؤنڈیشن نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی جامعہ میں داخلہ کے حصول سے قبل www.chea.org پر یونیورسٹی کے موقف اور اس کی تفصیلات کی تحقیق کرلیں تاکہ انہیں کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پیا بہادر نے بتایا کہ امریکہ میں کمیونٹی کالجس ‘ خانگی اور عوامی شراکت داری کے ساتھ چلائے جانے والے تعلیمی ادارے بھی داخلے قبول کر رہے ہیں۔اس مذاکرہ میں مسٹر گیبرئیل ہانس آلیوئر پبلک افیئیرس آفیسر قونصل خانہ امریکہ متعینہ حیدرآباد کے علاوہ دیگر ماہرین بیرونی تعلیم موجود تھے ۔ انٹرنیشنل ایجوکیشن ویک کے تحت منعقدہ اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد طلبہ میں شعور اجاگر کرنے کے علاوہ انہیں بیرونی ملک بالخصوص فرانس ‘ جرمنی اور امریکہ میں تعلیم کے مواقع سے واقف کروانا تھا۔

TOPPOPULARRECENT