Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیعت کی حقیقت …؟

بیعت کی حقیقت …؟

سوال : بیعت کی حقیقت کیا ہے ؟ بعض حضرات اس کو اسلامی تعلیم و تربیت کا ایک لازمی جزء اور اہم عنصر بتاتے ہیں، جب کہ بعض لوگ اس کو صوفیہ کی بدعت کہتے ہیں، برائے مہربانی وضاحت فرمائیے ۔
جواب : بیعت ۔ اصطلاح میں اُس عمل کا نام ہے جسے انجام دے کر کوئی شخص یا جماعت کسی شخص یا ہستی کے اقتدار کو تسلیم کرلے۔ یہ اصطلاح لفظ ’بیع‘ سے نکلی ہے ، جس کے لغوی معنیٰ ہیں : بیچ دینا یا فروخت کردینا ۔ یہ عمل عہد قدیم میں عربوں کے ہاں دو شخصو ں کے درمیان کسی معاہدے کے طے پاجانے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس عمل میں ہاتھ سے ہاتھ ملایا جاتا تھا۔ یہ گویا دو شخصوں یا دو جماعتوں کے درمیان Agreement سمجھا جاتا تھا اور معاہدے کی علامت مصافحہ تھی۔ کسی سردار کے انتخاب کے وقت اس کی سرداری کو اس سے مصافحہ کرکے یا اس کے ہاتھ کو بوسہ دے کر تسلیم کیا جاتا تھا اور اس کی سرداری یا حاکمیت کو تسلیم کرلینے کے لئے بیعت کا لفظ بولا جاتا تھا ۔ چنانچہ بیعت کے وقت بیعت لینے والا اپنا ہاتھ بیعت کرنے والے کے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا اور جب کسی کی سرداری یا حاکمیت تسلیم کرلی جاتی تو اس کے ہاتھ کو بوسہ بھی دیا جاتا تھا یہ گویا بیعت کرنے والے کی طرف سے اس کی وفاداری کی یقین دہانی ہوتی تھی ۔ حجر اسود کے متعلق کہا گیا ہے کہ : ’’حجر اسود زمین پر اﷲ کا دایاں ہاتھ ہے‘‘ ، یہی وجہ ہے کہ اس کو بوسہ دے کر اﷲ تعالیٰ کی حاکمیت اور معبودیت کا اقرار کیا جاتا ہے اور اپنی محکومیت اور عبدیت مان لی جاتی ہے چنانچہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی حقیقت یہی ہے ۔
تاریخ اسلام میں بیعت کی دو قسمیں رائج رہی ہیں ، ایک بیعت خلافت دوسری بیعت طریقت ۔ اور یہ دونوں بیعتیں قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے : ’’اﷲ نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے اموال، جنت کے بدلے خریدلیے ہیں وہ اﷲ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، چنانچہ مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جو اس نے تورات اور انجیل میں بھی کیا ہے اور قرآن میں بھی اور اﷲ سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے ؟ لہذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اﷲ سے کرلیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ (توبہ۔ ۹:۱۱۱)
اشتراء (خریدنا) بیع (بیچنا) کے بغیر ممکن نہیں، خریداری یقینا اس وقت ہوگی جب کوئی کچھ بیچے گا خدا اور بندے کے درمیان یہ بیع اور اشتراء ایک معاہدہ ہے ۔ بندہ اپنی جان اور مال سب کچھ اﷲ کے ہاتھ بیچ رہا ہے اور اﷲ بندے سے اس کی جان اور مال کو جنت کے وعدے پر خرید رہا ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی معبودیت اور حاکمیت کو تسلیم کرنا اور اپنی عبدیت اور محکومیت کا اقرار کرنا ہے ۔اسی طرح بیعت طریقت میں مرید کی طرف سے رہروی اور مرشد کی طرف سے رہنمائی کا معاہدہ اور وعدہ ہوتا ہے ۔
… جاری ہے

TOPPOPULARRECENT