Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / بیف امتناع ‘ بمبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ

بیف امتناع ‘ بمبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ

درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا؟
چراغ رہگذر کو کیا خبر ہے
بیف امتناع ‘ بمبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ
مہاراشٹرا میںبی جے پی ۔ شیوسینا حکومت کو عملا ہزیمت اٹھانی پڑی ہے ۔ انہوں نے صرف ہندوتوا طاقتوں کو خوش کرنے اور اپنے ایجنڈہ کو عملی رنگ دینے کے مقصد سے جو قانون نافذ کیا تھا اس کے ایک بڑے حصے کو بمبئی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیدیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے مہاراشٹرا میں بیف کھانے اور اسے رکھنے کو جرم قرار دینے سے انکار کردیا ہے تاہم کہا کہ یہ بیف اگر بیرون ریاست سے آتا ہے تو اس کے کھانے اور اس کے رکھنے پر کوئی سزا نہیں ہوگی ۔ مہاراشٹرا ریاست میں بڑے جانور کے ذبیحہ پر جو امتناع عائد کیا گیا تھا اسے عدالت نے برقرار رکھا ہے ۔ عملا یہ فیصلہ حکومت کیلئے ایک سبق ہے اور ایک سرزنش بھی ہے کہ وہ عوام کے کھانے کے حقوق سلب نہیں کرسکتی ۔ ہندوستان کے دستور اور قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ عوام اپنی مرضی اور پسند کا جو کھانا چاہیں وہ کھا سکتے ہیں اور اس میں مداخلت کا کسی کو بھی اختیار اور حق حاصل نہیں ہے ۔ حکومتوں کو بھی اس معاملہ میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت قائم ہوئی ہے اور اس کے بعد جن ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ہے وہاں سے ملک میں ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز ہوگیا ہے ۔ پہلے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں سے اس کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ اس کو مثال بناتے ہوئے دوسری ریاستوں میںبھی ایسا کیا جائے اور پھر بالآخر قومی سطح پر اس کو نافذ کردیا جائے ۔ عوام کی بہتری اور ترقی کیلئے کام کرنے کا دعوی کرنے والی حکومتوں کیلئے یہ اقدامات ٹھیک نہیں ہے کہ وہ عوام کے کھانے کے حقوق بھی سلب کرنے لگ جائیں۔ بیف کے مسئلہ پر جو نفرت کا بازار گرم کیا گے تھا اسی کا نتیجہ تھا کہ دادری میں اخلاق کو محض بیف رکھنے کے شبہ میں قتل کردیا گیا ۔ جانوروں کے ذبیحہ پر شور مچانے والوں نے انسان کوموت کے گھاٹ اتار دیا اور اس پر کسی نے افسوس تک ظاہر نہیںکیا ۔ مہاراشٹرا ہو کہ ہریانہ ہو یا بی جے پی کے اقتدار والی دوسری ریاستیں ہوں وہاں بیف پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ بڑے جانور کے ذبیحہ کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اسے ہندووں کے اعتقاد اور دھرم کا نام دیا جا رہا ہے لیکن ایجنڈہ ہندوتوا کا نافذ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
جس ہندو دھرم میں گائے کو تقدس کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اسی ہندو دھرم کے ماننے والے بیف کے ایکسپورٹ کے بڑے بڑے تاجر ہیں اور ان سے بی جے پی اور اس کے قائدین انتخابات میں بھاری رقومات چندے کی شکل میں حاصل کرتے ہیں اور اسی کی مدد سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں اس کے باوجود اس پر امتناع عائد کیا جا رہا ہے ۔ ریاستوںمیں امتناع تو عائد کیا جا رہا ہے لیکن ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بیف کے تاجروں کی کمپنیوں کو بند نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ان سے رقومات بٹوری جا رہی ہیں۔ یہ جانبدارانہ اور محض نفسیاتی دباؤ بنانے کی حکمت عملی ہے اور اس کا مذہبی اعتقاد یا تقدس سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اسی ایجنڈہ اور حکمت عملی کے تحت مہاراشٹرا میں بھی بیف پر امتناع عائد کیا گیا تھا ۔ بات یہاں تک اگر ہوتی تو شائد ٹھیک بھی ہوتا لیکن مہاراشٹرا میں بیف رکھنے اور بیف کھانے پر بھی امتناع تھا بھلے ہی وہ دوسری ریاستوں سے لایا گیا ہو۔ اس کے خلاف جب ہائیکورٹ میں درحواست دائر کی گئی تھی آج ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کو عملا طمانچہ رسید کیا ہے اور بیرون ریاست سے مہاراشٹرا میں بیف لانے ‘ اسے استعمال کرنے اور اس کا ذخیرہ کرنے کو جرم قرار دینے سے انکار کردیا ہے ۔ صرف مہاراشٹرا میں بڑے جانور کے ذبیحہ پر امتناع کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ عملا حکومت کے فیصلے کی نفی ہے اور حکومت کو اس سے خفت کا سامنا ہے ۔ حکومت اسی خفت کو مٹانے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کر رہی ہے ۔
بمبئی ہائیکورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے بیف پر امتناع کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد اور تنظیموں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اس سے عوام کو بھی قدرے راحت مل سکتی ہے ۔ اس فیصلے پر حالانکہ حکومت مہاراشٹرا سپریم کورٹ میں اپیل ضرور دائر کریگی لیکن اس کو مثال بناتے ہوئے دوسری ریاستوں میں بھی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاسکتے ہیں۔ حکومتوں کو عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ملک و قوم کی بہتری کیلئے اقدامات پر توجہ مرکوز رنے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کے کھانے اور دوسری ترجیحات پر قانون سازیاں کی جاتی رہیں۔ بمبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس فیصلے سے اپنے پوشیدہ ایجنَڈہ پر عمل آوری کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں اور اداروں اور حکومتوں کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ ایسے مسائل میں وقت ضائع کرنے سے گریز کرینگی ۔

TOPPOPULARRECENT