Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / بیف فیسٹول کے تعلق سے پولیس و طلبا تنظیموں کے متضاد دعوے

بیف فیسٹول کے تعلق سے پولیس و طلبا تنظیموں کے متضاد دعوے

فیسٹول کا منصوبہ ناکام : پولیس ۔ ہاسٹلس میں کامیاب انعقاد : طلبا کا بیان ۔ یونیورسٹی میں کرفیو جیسی صورتحال ‘ طلبا کی گرفتاریوں سے معمولی کشیدگی کا ماحول
حیدرآباد/10 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) سٹی پولیس نے آج عثمانیہ یونیورسٹی اور اطراف کے علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا کرتے ہوئے طلبا کے ایک گروپ کی جانب سے منعقد کئے جانے والے بیف فیسٹول کو ناکام بنادینے کا ادعا کیا جبکہ طلبا تنظیموں نے دعوی کیا ہے کہ پولیس کی بے شمار رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے یونیورسٹی ہاسٹلس میں کامیابی کے ساتھ بیف فیسٹول منعقد کیا ہے ۔ پولیس کی بھاری جمیعت کی تعیناتی اور مختلف پابندیوں اور طلبا کی جانب سے فیسٹول کے انعقاد پر بضد رہنے سے یونیورسٹی کیمپس اور اطراف میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں بیف فیسٹیول کو پولیس نے ناکام بنانے کا دعوی کرتے ہوئے330  سے زائد طلباء کو گرفتار کرلیا ۔ بیف فیسٹیول کے انعقاد کے موقع پر پولیس نے گذشتہ دو دن سے پولیس کے وسیع تر انتظامات کئے تھے اور بالخصوص آرٹس کالج کے قریب بھاری پولیس فورس کو متعین کیا تھا ۔ بائیں بازوں کی 24 طلباء تنظیموں کی جانب سے 10 ڈسمبر کو بیف فیسٹیول کے انعقاد کے اعلان کے بعد دائیں بازو جماعتوں کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی تھیں ۔ پولیس نے آج صبح سے ہی احاطہ یونیورسٹی میں پولیس گشت میں شدت پیدا کردی تھیں اور تمام ہاسٹلس کے باب الداخلہ پر مسلح پولیس فورس کو تعینات کردیا تھا جس کے سبب طلباء ہاسٹل سے باہر نہیں آسکے اور احاطہ یونیورسٹی میں کرفیو جیسا ماحول پیدا ہوگیا ۔ عوام کی آمد و رفت پر بھی پولیس نے کڑی نظر رکھی تھی اور جگہ جگہ خاردار تار اور بیاریکیڈ نصب کئے تھے جبکہ یونیورسٹی ہاسٹلس میں طلباء نے بیف فیسٹیول مناتے ہوئے سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو روانہ کئے ۔ پولیس ہاسٹل میں منعقد ہونے والے بیف فیسٹیول کو روکنے میں ناکام رہی ۔ بیف فیسٹیول میں شرکت کی کوشش کرنے والے مجلس بچاؤ تحریک کے سابق کارپوریٹر مسٹر امجد اللہ خان خالد کو ان کی رہائش گاہ واقع چنچل گوڑہ سے گرفتار کرلیا گیا اور انہیں مغل پورہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ۔ بعد ازاں مسٹر خالد کو کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں پر انہوں نے بیف فیسٹیول میں شرکت کیلئے کوشش پر گرفتار ہونے والے دیگر افراد کے ہمراہ احاطہ پولیس اسٹیشن میں بیف پارٹی منعقد کی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں بیف فیسٹیول کے کوریج کیلئے پہونچنے والی خاتون صحافی پر بعض طلباء نے مبینہ طور پر حملہ کیا اور اشوک نگر و وی ایس ٹی سرکل کے قریب دو آر ٹی سی بسوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر سنگباری کی ۔ واضح رہے کہ مقامی سٹی سیول کورٹ کی جانب سے بیف فیسٹیول منعقد کرنے پر جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی جبکہ حیدرآباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے احکام پر عمل آوری کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد پولیس حرکت میں آگئی ۔ بیف فیسٹیول کے برخلاف بجرنگ دل ، وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندو بنیاد پرست تنظیموں نے یونیورسٹی پہونچ کر اپنا احتجاج درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ سرکاری ذرائع کے بموجب بیف فیسٹیول کے موقع پر ایسٹ زون پولیس نے 165 ، ویسٹ زون پولیس 117 ، سنٹرل زون پولیس نے 24 ، نارتھ زون پولیس نے 22 اور ساؤتھ زون پولیس نے 2 افراد بشمول طلباء کو احتیاطی گرفتاری کی اور انہیں عنبرپیٹ ، افضل گنج ، سلطان بازار ، نلہ کنٹہ ، کنچن باغ پولیس اسٹیشن میں محروس رکھا گیا تھا ۔
ٹینک بنڈ امبیڈکر مجسمہ اور ایس سی ہاسٹل و
پولیس اسٹیشن میں بھی بیف فیسٹول کا انعقاد
حیدرآباد۔ /10 ڈسمبر (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی میں بیف فیسٹول کو پولیس کی جانب سے ناکام بنانے کی کوششوں کے پیش نظر طلباء نے شہر کے مختلف ہاسٹلس اور مقامات پر بیف فیسٹول منعقد کیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مادیگا دھنڈورا سمیتی کے ارکان جو چلو نئی دہلی کانفرنس میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں نے دہلی میں بیف فیسٹول منعقد کیا ۔ اسی طرح بعض طلباء تنظیموں نے ٹینک بینڈ کے قریب واقع امبیڈکر مجسمہ کے قریب بیف پارٹی منعقدکی جبکہ آج رات دیر گئے کاچی گوڑہ ایس سی ہاسٹل میں طلبا نے باضابطہ پکوان کا اہتمام کرتے ہوئے بیف فیسٹول منایا ۔ کنچن باغ پولیس اسٹیشن میں جن محروسین کو رکھا گیا تھا ان کیلئے بھی اظہار یگانگت کرنے والوں نے بیف کا اہتمام کیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT