Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ’بیف فیسٹیول منعقد کرنے پر ’دادری‘ جیسا واقعہ پیش آسکتا ہے‘

’بیف فیسٹیول منعقد کرنے پر ’دادری‘ جیسا واقعہ پیش آسکتا ہے‘

حیدرآباد۔ 3 ڈسمبر (سیاست نیوز) پرعزم طلباء کے ایک گروپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں 10 ڈسمبر کو ’’بیف فیسٹیول‘‘ منعقد کیا جائے جبکہ یونیورسٹی حکام نے اجازت سے اِنکار کردیا اور بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے اس فیسٹیول کو بزور طاقت روکنے کی دھمکی دی ہے۔ بیف فیسٹیول کے جواب میں طلباء کے ایک گروپ نے ’’پورک فیسٹیول‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیف فیسٹیول کے آرگنائزر شنکر نے بتایا کہ ’’دراصل ہم نے اجازت کیلئے کوئی درخواست نہیں دی ہے کیونکہ یہ اجازت حاصل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہمارے کالج اور ہاسٹل میں کیا کھایا جائے اور کوئی ہمیں اجازت دیں یا نہ دیں، ہم بیف فیسٹیول منعقد کرنے سے باز نہیں آئیں گے‘‘۔انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ ’’یونیورسٹی کیمپس میں گنیش فیسٹیول اور ناگولا چتورتھی تقاریب اور دیگر تہوار منائے جاتے ہیں، کیا یہ مذہبی رُسومات اجازت لے کر ادا کی جاتی ہیں۔ اسی دوران بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے انچارج وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’بیف فیسٹیول کے آرگنائزرس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، بصورت دیگر ’دادری‘ جیسا واقعہ یہاں بھی پیش آسکتا ہے جس میں ایک 52 سالہ مسلم شخص محمد اخلاق کو بیف کے استعمال کے شبہ میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا‘‘۔ دلت طلباء گروپس اور بائیں بازو کی طلباء تنظیموں ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور پی ڈی ایس یو نے بیف فیسٹیول کے اہتمام کا اعلان کیا ہے۔ اُدھر راجہ سنگھ نے آج اس دھمکی کا اعادہ کیا کہ اجازت سے انکار کے بعد بھی اگر آرگنائزرس بیف فیسٹیول منعقد کرنے پر بضد ہیں تو وہ بھی ایک منصوبہ کے مطابق انہیں روکنے کی ممکنہ کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ طلباء اپنی ضد پر قائم ہیں، میں نے بھی بیف فیسٹیول کو روکنے کا عہد کرلیا ہے۔ قبل ازیں راجہ سنگھ نے کہا تھا کہ ’’یونیورسٹی کیمپس میں بیف فیسٹیول کی اجازت دی جاتی ہے تو گائے کی پوجا کی بھی اجازت دی جائے‘‘۔ واضح رہے کہ عالمی یوم حقوق انسانی کے موقع پر 10 ڈسمبر کو بیف فیسٹیول منعقد کیا جارہا ہے۔ فیسٹیول کے آرگنائزرس نے ریاستی حقوق انسانی کمیشن سے راجہ سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف شکایت کی ہے جبکہ بیف فیسٹیول پر تنازعہ کے بعد یونیورسٹی حکام نے پابندی عائد کردی ہے۔ دریں اثناء پولیس نے یہ واضح کردیا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں بیف فیسٹیول کی اجازت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ قبل ازیں یونیورسٹی حکام نے بھی اجازت سے اِنکار کردیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس (ایسٹ زون) مسٹر اے رویندر نے بتایا کہ کیمپس میں نظم و نسق کی برقراری کیلئے وسیع تر انتظامات کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT