Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / بیف مسئلہ پر حق رازداری کے عدالتی فیصلہ کا اثر ممکن

بیف مسئلہ پر حق رازداری کے عدالتی فیصلہ کا اثر ممکن

نئی دہلی 25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) حق رازداری کو بنیادی حق قرار دینے والے تاریخی فیصلے کا گایوں، بیلوں اور بھینسوں کے مہاراشٹرا میں ذبیحہ سے متعلق اُمور پر بھی کچھ اثر پڑے گا، سپریم کورٹ نے آج یہ بات کہی۔ بامبے ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 6 مئی کو مہاراشٹرا کے تحفظ جانوران ترمیمی قانون 1995 کے دفعات 5(D) اور 9(B) کو کالعدم کردیا تھا۔ سیکشن 5(D) گایوں، بیلوں یا بھینسوں کا گوشت قبضے میں رکھنے کو جرم قرار دیتا ہے چاہے وہ مہاراشٹرا کے باہر ذبح کیا گیا گوشت کیوں نہ ہو۔ سیکشن 9(B) ملزم پر یہ بوجھ عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے قبضہ والے گوشت کو ثابت کرے کہ وہ متذکرہ جانوروں کا گوشت نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔ فاضل عدالت نے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف داخل کردہ مختلف اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل بنچ کو سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ نے بعض درخواست گذاروں کی پیروی کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز کے 9 ججوں والی دستوری بنچ کے حق رازداری سے متعلق فیصلے کے بعد اپنی پسند کی غذا کھانے کے حق کا بھی اب پرائیویسی کے تحت تحفظ ہوگیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے بھی فاضل عدالت کو بتایا کہ پرائیویسی سے متعلق فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ہی بیف سے متعلق پابندی کے بارے میں کوئی موقف اختیار کیا جاسکتا ہے۔ بنچ نے کہاکہ ہاں گزشتہ روز کا فیصلہ اِن اُمور میں بھی اثرانداز ہوگا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کوئی بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اُس کے کھانے پینے کی عادت اور لباس کے تعلق سے اُسے ہدایات دیئے جائیں اور اِن باتوں کو حق رازداری یا پرائیویسی کے معنوں میں شمار کیا۔

TOPPOPULARRECENT