Tuesday , December 19 2017
Home / سیاسیات / بیف کے مسئلے پر جموں و کشمیر مقننہ میں اپوزیشن کا احتجاج

بیف کے مسئلے پر جموں و کشمیر مقننہ میں اپوزیشن کا احتجاج

اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی ، پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت کیخلاف این سی اور کانگریس ارکان کی نعرے بازی
سرینگر ، 5 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بیف پر امتناع اور دیگر مسائل پر اپوزیشن کے احتجاجوں نے آج جموں و کشمیر مقننہ کو دہلا دیا جہاں این سی اور کانگریس کے ایم ایل ایز بیانرس لہراتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، میزوں پر چڑھ گئے اور اسمبلی میں مارشلوں سے الجھ پڑے، جس کے نتیجے میں ایک قانون ساز اور ایک سکیورٹی اسٹاف کو زخم آئے۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل دونوں میں بیف کے امتناع کا مسئلہ اٹھایا جبکہ اس کے لیڈر عمر عبداللہ نے سوال اٹھایا کہ کیوں پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی حالانکہ ذبیحہ گاؤ کو ممنوع قرار دینے والے رنبیر پینل کوڈ میں 1932ء کی دفعہ کو منسوخ کرنے کیلئے مقننہ ’’آزاد‘‘ ہے۔ یہ احتجاج جو دونوں ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردیئے جانے کا موجب بنے، تب شروع ہوئے جب اسمبلی اور کونسل میں کرسیٔ صدارت نے این سی کی پیش کردہ تحریکات کو قبول نہیں کیا، جن کے ذریعے بیف پر امتناع کے مسئلے پر وقفہ سوالات کو معطل کرنے کی خواہش کی گئی تھی اور کانگریس کی بھی تحریک قبول نہیں ہوئی کہ متاثرین سیلاب کی بازآبادکاری اور ویشنودیوی یاتریوں کیلئے ہیلی کاپٹر کی سرویسیس پر سرویس ٹیکس کے لزوم پر مباحث منعقد کئے جائیں۔ جب اسپیکر کویندر گپتا نے ایوان کی معمول کی کارروائی جاری رکھی تو کئی اپوزیشن ارکان تیزی سے وسط میں پہنچ گئے اور بیانرس لہرائے جن پر تحریر تھا ’متاثرین سیلاب کا استحصال روکو‘ اور ’مذہبی یاتریوں پر ٹیکس منسوخ کرو‘۔ این سی ارکان نے بڑے گوشت پر پابندی اور اس رجحان کے خلاف نعرے بازی کی جسے انھوں نے ’’مذہبی امور میں مداخلت‘‘ قرار دیا۔ چند ایم ایل ایز مارشلوں سے بھڑ گئے، جنھوں نے انھیں سرکاری بنچوں اور کرسیٔ صدارت کی طرف بڑھنے سے روکا۔ باندی پورہ کے کانگریس ایم ایل اے عثمان عبدالمجید اور ان کے ساتھ ایک مارشل کو زخم آئے، جسے اُس کے ساتھی لے گئے کیونکہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ ہڑبونگ کا ماحول دیکھنے میں آیا جبکہ مشتعل قانون ساز اراکین اسپیکر کے روبرو میزوں پر چڑھ گئے، اور اس گہماگہمی میں ایک دوسرے پر گرپڑے۔ نیشنل کانفرنس کے دو ایم ایل ایز عبدالمجید لارمی اور اشفاق شیخ کو مارشلوں کے ذریعے ایوان سے باہر کردیا گیا۔ این سی اور کانگریس ممبرز کے ساتھ اس احتجاج میں آزاد ایم ایل ایز شیخ عبدالرشید اور حکیم محمد یٰسین شامل ہوگئے۔ اپوزیشن ارکان نے کاغذات پھاڑ ڈالے اور پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ نیشنل کانفرنس، سی پی آئی (ایم) اور رشید نے اس دفعہ کی منسوخی چاہتے ہوئے علحدہ بل پیش کئے، جو اس ریاست میں ذبیحہ گاؤ کو جرم قرار دیتی ہے۔ عمر نے کہا کہ وہ اسپیکر کے ’آمرانہ رویہ‘ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، جو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ ایسے کسی بل کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ سب ایسے روز ہوا جب سپریم کورٹ نے چیف جسٹس جے کے ہائی کورٹ سے کہا کہ بیف پر عائد امتناع کے مسئلے کی یکسوئی کیلئے تین ججوں کی بنچ تشکیل دیں۔ اس نے بیف پر پابندی کے نفاذ کے بارے میں ریاستی ہائی کورٹ کے حکمنامہ کو دو ماہ کیلئے ملتوی بھی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT