Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / بیلٹ کے ذریعہ انتخابات پر اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ مسترد: الیکشن کمیشن

بیلٹ کے ذریعہ انتخابات پر اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ مسترد: الیکشن کمیشن

اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ جدید ترین پیپر ٹرائیل اور ای وی ایم تھری مشینوں کے استعمال کا فیصلہ
جے پور18ستمبر(سیاست ڈاٹ کام) چیف الیکشن کمشنر او م پرکاش راوت نے سیاسی جماعتوں کے ذریعہ ای وی ایم پیپر سے پولنگ کرانے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن نے ملک میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ جدید ترین وی وی پیٹ اور ایوی ایم تھری مشینوں سے پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔راجستھان میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران کمیشن کی مکمل بنچ کے ساتھ جے پور آئے راوت نے آج یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے تحت پولنگ کے دوران سیلفی لینے کے ساتھ ہی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طرح کے ذرائع کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن نے ای وی ایم اور وی وی پیٹ مشینوں کی جانچ مکمل کرلی ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی۔ کمیشن نے اس پر اعتراض کرنے والے تنظیموں کو دو مرتبہ اسے ثابت کرنے کا موقع دیا لیکن کوئی بھی جماعت اس سلسلے میں کمیشن کے چیلنج کو تسلیم کرنے کے لئے سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلی مرتبہ بے خوف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لئے سیٹیزن ویجی لنس نظم نافذ کیا ہے ۔ جس کے تحت کسی بھی پولنگ مرکز پر ہونے والی کسی بھی طرح کی گڑبڑی کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے بھیجی جائے گی تو کمیشن اس پر سخت کارروائی کرے گا کیوں کہ وہ ویڈیو خود میں ہی ایک دستاویز ہوگا۔ شکایت کنندہ چاہے گا تو اس کی شناخت بھی پوشیدہ رکھی جاسکے گی اور ایسے ویڈیو پر چوبیس گھنٹے میں ہی کارروائی ہوجائے گی۔سیاسی اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ بڑی تعداد میں فرضی اور دوہرے ووٹروں کی شکایت کے سلسلے میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کمیشن اس سلسلے میں سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیموں کے ذریعہ کی گئی شکایتوں کے سلسلے میں جے پور کے ہوا محل علاقے میں کارروائی شروع بھی کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کمیشن کے پاس چودہ لاکھ 29ہزار 869شکایتیں موصول ہوئی ہیں جن میں 713377شکایتیں سماجی تنظیموں اور بقیہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملی ہیں۔ اس کی جانچ کرکے ووٹر لسٹ میں سدھار کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT