Wednesday , September 26 2018
Home / مضامین / بیمار ایک مگر مرتے کئی معصوم

بیمار ایک مگر مرتے کئی معصوم

ڈاکٹر مجید خان حالیہ فرانس میں ہوئے ہوائی حادثے کے بعد ساری دنیا سکتے کے عالم میں آگئی ہے ۔ کیا یہ دنیا اتنی غیر محفوظ ہوگئی ہے کہ لوگ سفر کرنے سے گھبرارہے ہیں چاہے وہ سڑک کا سفر ہو ، ریل کا یا ہوائی جہاز کا ۔

ڈاکٹر مجید خان

حالیہ فرانس میں ہوئے ہوائی حادثے کے بعد ساری دنیا سکتے کے عالم میں آگئی ہے ۔ کیا یہ دنیا اتنی غیر محفوظ ہوگئی ہے کہ لوگ سفر کرنے سے گھبرارہے ہیں چاہے وہ سڑک کا سفر ہو ، ریل کا یا ہوائی جہاز کا ۔
حادثات کو یا تو اتفاق سمجھا جاتا تھا یا کسی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے یا پھر موسمی یعنی آفات سماوی کی وجہ سے ۔ جیسے جیسے دنیا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے لگے ہیں ہوائی جہاز کا سفر پہلا شکار بنا ۔ مگر فرانس کا واقعہ ان تمام حادثات سے مختلف ہے ۔ ایک نفسیاتی مریض عمداً سیاحوں کو اجتماعی خودکشی کے عمل میں شامل کرلیتا ہے ۔ اس سے پہلے خودکش بموں کے حملے کی مذہبی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر کئے جاتے تھے ۔ اپنی شخصی بیماری کی وجہ سے ایسے واقعات سب سے زیادہ پریشان کن ہیں کیونکہ قبل از وقت اس کا پتہ چلایا نہیں جاسکتا ۔ صبح میں خوش مزاج ہوں گے اور مستقبل کے حسین خواب دیکھیں گے اور شام تک مایوس ہو کر اقدام خودکشی کربیٹھیں گے ۔ کوئی ایسا امتحان نہیں ہے جس سے اندرونی خفیہ مزاج کے نشیب و فراز کا پتہ چلایا جاسکے ۔ ساری دنیا انگشت بدنداں رہ گئی مگر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے ایک عصری پائلٹ نے بھی اسی طرح خودکشی کی تھی ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کئی سال پہلے لندن کے زیر زمین میٹرو ٹرین کا ایک ناقابل یقین حادثہ ہوا تھا جیسے ہی یہ ٹرین لائن کے آخری اسٹیشن پہنچ رہی تھی جہاں پر ایک بہت بڑی چٹان تھی ، ٹرین کی رفتار اچانک بڑھ گئی ۔ اسٹیشن پر کھڑا ہوا اسٹاف حیرت زدہ رہ گیا اور ٹرین اس چٹان سے ٹکراگئی ۔ اگر یہ بریک کی خرابی کی وجہ سے ہوتا تو رفتار کو تیز نہیں کیا جاتا تھا ۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ دماغی مریض تھا اور زیر علاج تھا ۔
اب میں یہاں پر اپنے تجربات بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ کئی دہوں سے میں ایرانڈیا کا مقامی اسپیشلسٹ ہوں اور قطعی رپورٹ کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور میری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ مجھے اسکا علم ہے کہ کاک پٹ یعنی جہاں پر پائلٹ اور کوپائلٹ بیٹھتے ہیں بعض اوقات ایک جھگڑے کے مقام بن جاتا ہے اور دونوں میں تکرار ہونی شروع ہوتی ہے ۔ کئی مرتبہ ایسے ہوائی جہاز لینڈنگ میں غلطیاں کربیٹھتے ہیں اور اسکا سب ریکارڈ موجود ہوتا ہے جس کی بنا پر میڈیکل رپورٹ کی ضرورت پڑجاتی ہے ۔ ایک ایسا ہی واقعہ کولکتہ ایرپورٹ پر ہوا تھا اور میں نے رپورٹ دی کہ غلطی دونوں پائلٹس کی ہے اور ان کو کونسلنگ کی ضرورت ہے ۔
میں نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ پائلٹ کی بنیادی ٹریننگ اور پھر وقفے وقفے سے جو ٹریننگ دی جاتی ہے جس کے بعد ان کے لائسنس کی تجدید ہوتی ہے اس میں نفسیاتی مسائل کو بھی شامل کیا جائے اور خاص طور سے گذرے ہوئے واقعات کو دکھایا جائے ۔ دو چار اچھے پروگرام ہوئے مگر ان کی یونین نے اعتراض کیا اور پروگرامس روک دئے گئے ۔ اس کے بعد ایک ایرہوسٹس نے جو زیر علاج تھی ، ہوائی جہاز رکنے کے بعد اترنے کا دروازہ کھولنے کے بجائے اسکے مقابل کا دروازہ کھول دیا ۔ میں نے رپورٹ پیش کی کہ وہ ہوائی ڈیوٹی کیلئے قابل نہیں ہے ۔ کئی میڈیکل بورڈ بٹھائے گئے اور مجھ سے یہ خواہش کی گئی کہ یونین چاہتی ہے کہ لفظ قابل نکال دیا جائے ۔ کیونکہ اس سے اس کی پنشن میں ہزاروں روپے کا فرق ہوجائے گا ۔ اس کی ماں بھی منت سماجت کرنے لگی مگر میں راضی نہیں ہوا ۔ ایک متعلقہ وزیر بھی اس کے ہمدرد تھے مگر میں اپنے ضمیر کی آواز کو دبا نہیں سکتا تھا ۔

خیر اس کو دوسری گراؤنڈ فلور کی ڈیوٹی دی گئی اور بیچاری کو غیر معمولی نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ کہنے کا مطلب یہ ہیکہ ساری دنیا کے ایرلائنس کے پائلٹس کی یونین اتنی مضبوط ہے کہ ہر حکومت اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے ۔ مجال کے کوئی حکومت اس کے مراعات میں کمی کرے یا کسی قسم کی پابندی لائے ۔ چاہے وہ یوروپ ہو یا ہندوستان ۔ ہڑتال کریں گے اور ہر قسم کی نقل و حرکت بند ہوجائے گی ۔ اس لئے نئے طور طریقوں میں کسی قسم کی ترمیم نہیں لائی جاسکتی ، چاہے حادثات میں ہزاروں لوگ اپنی جانیں ضائع کریں ۔ ریلوے حادثات میں مجھے علم ہے کہ اکثر ڈرائیور کی غلطیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ جس میں اکثر کثرت شراب کا استعمال پہلی وجہ ہے ۔ بسوں کے ڈرائیوروں کا بھی یہی رونا ہے ۔ جب ان کا ٹسٹ سفر شروع ہونے سے پہلے کیا جاتا ہے تو شراب خون میں یا ان کی سانس میں نہیں ملتی مگر دوران سفر مہیا کرنے والے مقرر ہوتے ہیں ۔

آخر کہاں تک ان خرابیوں اور سسٹم کی کوتاہیوں کو روکا جاسکتا ہے۔چونکہ یہ ناممکن نظر آتا ہے ۔ اس لئے حالات حاضرہ پر صبر کرنے کے علاوہ کوئی اور صورت نظر نہیں آتی ۔ ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ اور اعتقاد کہ موت کا ایک دن مقرر ہے میں ہی سکون ہے ۔
اب ایک آخری مسئلہ ۔ کیا عصری سائنس اور عصری نفسیات ان مسائل پر کسی قسم کی نئی روشنی ڈال سکتی ہے ۔ یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کی جن کے ہاتھوں میں دوسروں کی جان پھنسی ہوئی ہوتی ہے وقتاً فوقتاً نفسیاتی امتحانات کیا جائے ، کیا کامیاب ہوسکتا ہے ۔ مجھے کوئی امید نہیں ہے ۔ کسی دماغی مرض میں متاثر شخص کے مستقبل کے حرکات و سکنات کے تعلق سے کسی قسم کی پیشن گوئی کرنا ناممکن ہے ۔ ڈر تو آئندہ ہونے والے خطرناک واقعات کا ہے ۔ ہم کو انہی غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT